Date Palm - Tohfa E Khudawandi - Article No. 1795

کھجور تحفہ خداوندی - تحریر نمبر 1795

بدھ جنوری

Date Palm - Tohfa E Khudawandi - Article No. 1795
حکیم ظفر علی عباسی
کھجور طب نبوی کی روشنی میں:
کھجور ایک مقدس اور بابرکت پھل ہے۔قرآن مجید میں جس پھل اور درخت کا سب سے زیادہ ذکر کیا ہے وہ کھجور ہے۔کھجور کی مختلف اقسام اور اس کی گٹھلیوں تک کا بھی ذکر قرآن مجید میں الگ الگ ناموں سے کیا گیا ہے۔کھجور کا ذکر قرآن مجید میں اٹھائیس بار ہوا ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد الٰہی ہے:
(ترجمہ)”اور اُسی نے خلقت کے لئے زمین بچھائی اس میں میوے اور کھجور کے درخت ہیں جن کے خوشوں پر غلاف ہوتے ہیں۔


(سورة الرحمن 11,10:55)
قرآن مجید میں جن پھلوں کا ذکر کیا گیا ہے ان کے طبی فوائد روز بروز عیاں ہورہے ہیں وہ جہاں صحت کو بحال رکھتے ہیں وہاں بہت سی بیماریوں کا علاج بھی ہیں۔حضرت مریم علیہ السلام کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت اللہ تبارک وتعالیٰ نے کھجوریں کھانے کا حکم دیا۔

(جاری ہے)

کھجور سے انہیں بہت سے فوائد حاصل ہوئے۔

زچگی کے وقت ہونے والی تکلیف سے چھٹکارا ملا،تنہائی کا جو خوف تھا وہ دور ہوا، کمزوری کا خاتمہ ہوا اُن میں اتنی طاقت آگئی کہ وہ اکیلی بچے کو لے کر بستی کی طرف روانہ ہو گئیں۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت مریم علیہ السلام کو حکمت کے تحت کھجور کھانے کا حکم دیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں غوروفکر کا حکم دیا ہے۔اس واقعہ میں حکما علم الا بدان کے لئے بہت سے رموز آشکارہوتے ہیں۔

مثلاً کھجور سے خوف ،وہم،ڈر اور نفسیاتی امراض کا علاج کیا جا سکتاہے۔کمزوری کے لئے کھجور سے فوری طاقت حاصل ہوتی ہے۔دردوں کے خاتمے کے لئے اسے بلا خوف استعمال کرایا جا سکتاہے۔ مزید تجربات کیے جائیں تو کھجور سے بہت سے امراض کا علاج کیا جا سکتاہے۔
کھجور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پسندیدہ غذاؤں میں شمار ہوتی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحت کی حالت میں بھی کھجوریں تناول فرمائی ہیں اور بیماری کی صورت میں اس سے استفادہ کا حکم بھی ارشاد فرمایا ہے ۔

بہت سی احادیث ایسی ہیں جن میں مختلف امراض کا علاج کھجور سے ارشاد فرمایا ہے۔ذیل میں چند احادیث نقل کی جاتی ہیں:
زہر کے نقصان سے بچاؤ:
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”جس نے صبح اٹھتے ہی عجوہ کھجور کے سات دانے کھا لیے اس دن اسے جادو اور زہر بھی نقصان نہ دے سکیں گے۔“(متفق علیہ)
دبلے پن کا علاج:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ اپنا ذاتی تجربہ بیان فرماتی ہیں:”میری والدہ مجھے فربہ کرنے کے لئے بہت علاج کرواتی رہیں۔

وہ چاہتی تھیں کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤں تو موٹی ہوں لیکن ان تمام دواؤں سے کوئی فائدہ نہ ہوا۔حتیٰ کہ میں نے تازہ پکی ہوئی کھجوریں اور کھیرے کھائے ان سے میں نہایت خوبصورت جسم والی موٹی ہو گئی ۔“(متفق علیہ)
قولنج کا خاتمہ:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں:
آپ نے ارشاد فرمایا :کھجور کھانے سے قولنج حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”میرے نزدیک عورتوں کے حیض کی کثرت کے لئے کھجور سے بہتر اور مریض کے لئے شہد سے بہتر کوئی دوائی نہیں۔

“(ابو نعیم)
ہر بیماری کے لئے:
نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہاری کھجوروں میں سب سے اچھی کھجور برنی ہے۔یہ بیماری کو دور کرتی ہے اور اس میں خود کوئی مضر چیز نہیں۔“(مستدرک حاکم)
افطاری میں کھجور ،فوری توانائی کے لئے:
روزے سے توانائی کم ہوجاتی ہے افطاری میں ایسی غذا کی ضرورت ہوتی ہے جو جلد ہضم ہونے والی ہو اور طاقت دینے والی ہو یہ خواص اللہ تعالیٰ نے کھجور میں رکھے ہیں۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”جس کو کھجور میسر ہو وہ اس سے روزہ افطار کرے،جسے نہ ملے وہ پانی سے کھول لے کیونکہ وہ بھی پاک ہے۔“
کھجور کی گھٹی:
”حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہ روایت کرتی ہیں کہ مجھے مکہ معظمہ میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ پیدا ہونے والا ہو گیا تھا۔یہ بچہ مجھے قبا میں آکر پیدا ہوا میں بچے کو لے کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی اور ان کی گود میں ڈال دیا۔

انہوں نے کھجور منگوائی اسے اپنے منہ میں چبایا،پھر اپنا لعاب اور کھجور بچے کے منہ میں ڈال کر اس کے تالو سے لگا دیا۔پھر بچے کے لئے برکت کے لئے دعا کی۔“(بخاری شریف)
مندرجہ بالا احادیث میں صاحبان علم ودانش محققین اور طبی دنیا سے وابستہ افراد کے لئے دعوت فکر ہے۔ عصر حاضر میں جدید میڈیکل سائنس کی ادویات امراض کے مکمل خاتمے میں کامیابی حاصل نہیں کر سکیں ۔

مزید یہ کہ ان کے بہت سے سائیڈ ایفیکٹس بھی سامنے آئے ہیں۔ان ادویات سے مرض دب تو جاتا ہے مکمل ختم نہیں ہوتا بلکہ کسی اور مرض کا باعث بنتاہے۔لہٰذا ضروری ہے کہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اغذ یہ ادویہ سے علاج معالجہ کا سلسلہ شروع کیا جائے۔نبوی صلی اللہ علیہ وسلم طریقہ علاج کے نہ تو مضر اثرات ہیں اور نہ ہی پیچیدہ اور مشکل ہے۔
کھجور جدید سائنس کی روشنی میں:
سائنسدانوں نے کھجور کا کیمیائی تجربہ کیا ہے اور نہیں ہوتا۔

“(ابو نعیم)
پیٹ کے کیڑوں کا علاج:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”صبح نہار منہ کھجوریں کھایا کرو ایسا کرنے سے پیٹ کے کیڑے مرجاتے ہیں“(مسند فردوس)
کوڑھ کا علاج:
”اگر سات دن تک عجوہ کھجور کے سات دانے روزانہ کھائے جائیں تو اس سے کوڑھ میں فائدہ ہوتاہے ۔“(ابو نعیم)
دل کے دورے کا علاج:
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو دل کا دورہ پڑا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی عیادت فرمائی اور فرمایا انہیں حکیم حارث بن کلدہ کے پاس لے جاواسے چاہئے کہ مدینہ کی سات عجوہ کھجوریں گٹھلیوں سمیت کوٹ کر اسے کھلائے۔
کثرت حیض کا علاج:
اس میں پائے جانے والے اجزاء کا تناسب کچھ یوں بیان کیا ہے:ریشے دار اجزاء 2فیصد ،نشاستہ دار اجزاء 60فیصد ،معدنی نمکیات 1فیصد ،کحمی اجزاء 8فیصد،فولاد1.5فیصد،فاسفورس 3فیصد،پانی 26.11فیصد،کیلشیم50فیصد،پروٹین 3فیصد،شکر 38.3فیصد،سوڈیم0 6فیصد ،وٹامن اے 172ملی گرام،وٹامن بی 25ملی گرام،وٹامن سی 9ملی گرام علاوہ ازیں میگنیشیئم ،کلورین،گندھک اور ایسکوربک ایسڈ بھی موجود ہوتاہے۔

پوٹاشیم،آئرن،کیلشیئم،بی کمپلیکس کے علاوہ بھاری مقدار میں اینٹی اوکسیڈنٹس اور فائبر موجود ہوتے ہیں۔گویا انسان کو تندرست رکھنے والے مطلوب تمام عناصر خاطر خواہ مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔جدید میڈیکل سائنس کے مطابق کھجور کے درج ذیل فوائد نوٹ کیے گئے ہیں:
کھجور میں موجود پوٹاشیم:
(K)اعصابی نظام کے خطرہ کو کم کر دیتاہے۔آئرن(Fe)نیا خون پیدا کرتاہے اور کیلشیئم(Ca)سے ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں۔

کھجور میں موجود وٹامن اے اور سی سے بینائی میں اضافہ ہوتاہے اور قوت مدافعت بڑھتی ہے۔
کھجور باقاعدگی سے کھائی جائے تو نظام ہاضمہ میں پلنے والے نقصان دہ جراثیم جسم سے خارج ہوتے رہتے ہیں مگر”دوست“جراثیم کی پیدائش اور تعداد میں اضافہ ہوتاہے اور مختلف بیماریاں پیدا نہیں ہو پاتیں۔کھجور میں پائے جانے والے مرکبات مضر صحت کو لیسٹرول،LDL،کو کم کرنے میں مددگار بنتے ہیں۔

علاوہ ازیں شب کوری میں بھی مفید ہیں۔
کھجور کھانے سے ان میں موجود شوگر کی اقسام سکروز(Sucrose)،لیکٹوز(Lactose)اور فروکٹوز(Fructose)جسمانی انرجی میں فوری طور پر اضافہ کرتی ہیں اسی لئے رمضان شریف میں افطاری کے وقت کھجور کھائی جاتی ہے۔فروکٹوز ایسا جو ہر ہے جو شوگر کے مریضوں کو نقصان نہیں دیتا۔
کھجور کے اندر پایا جانے والا فائبر قدرتی قبض کشا کا کام کرتاہے اور نظام ہاضمہ کو درست رکھتاہے۔


شدید کمزوری ،کثرت حیض ،خون کی کمی،دل کے دورہ ،دبلاپن،دمہ ،قبض اور ٹی بی میں بہت مفید ہے۔
کھجور طب قدیم کی روشنی میں:
کھجور ایک قدیم پھل ہے۔حکماء واطباء قدیم نے اس کی بہت سے فوائد نوٹ کیے ہیں اس کا مزاج گرم تر ہے ۔یہ دوا کی دوا اور غذا کی غذا ہے۔جگر کے فعل کو تیز کرتی ہے۔خون میں حرارت بڑھاتی ہے،لو بلڈ پریشر والوں کے لئے بہت مفید ہے۔

مردانہ طاقت بڑھاتی ہے،قبض کا خاتمہ کرتی ہے،پیٹ کے کیڑوں کو مارتی ہے،خشکی،سردی کے امراض میں کھجور کھانا بہت مفید ہے۔دماغ واعصاب کو طاقت دے کر قوت حافظہ بڑھاتی ہے۔خون کی کمی دور کرتی ہے،گردوں کو قوت دیتی ہے ،سانس کی تکلیف میں با لعموم اور دمہ میں بالخصوص فائدہ مند ہے اچھی صحت کے لئے ایک لا جواب ٹانک ہے۔عربوں میں ایک کہاوت ہے کہ سال میں جتنے دن ہوتے ہیں اتنے ہی کھجور کے استعمال اور فوائد ہیں۔

کھجور ریاح اور اورام کو تحلیل کرتی ہے۔رات کو کھجور بھگو کر صبح بلینڈ کرکے پینے سے دل مضبوط ہو جاتاہے۔کھجور آنتوں کی حرکت دود یہ تیز کرکے ان میں رکے ہوئے زہریلے فضلات بدن سے باہر نکال دیتی ہے۔ہاضمہ کی خرابی اور تبخیر معدہ کی شکایت میں بہت مفید ہے۔اس میں ایسے اجزاء پائے جاتے ہیں جو مثانے، گردے اور پتے میں پتھری بننے کے عمل کو روکتے ہیں۔ہاتھ پاؤں کا رعشہ بھی اس سے چلا جاتاہے۔ کھجور قدرت کا ایک عظیم تحفہ ہے اس سے خوب استفادہ کرنا چاہئے۔
تاریخ اشاعت: 2020-01-29

Your Thoughts and Comments