Depression - Article No. 1907

ڈپریشن - تحریر نمبر 1907

سلطانہ حمزہ منگل جولائی

Depression - Article No. 1907
تعارف
وقتاً فوقتاً ہماری زندگی میں ایسا ہوتا ہے ہے کہ ہم اداسی، مایوسی اور بیزاری میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔عموماً یہ علامات ایک یا دو ہفتے میں ٹھیک ہو جاتی ہیں یا کبھی اس سے بھی کم وقت لگتا ہے -یہ اداسی کسی بھی وجہ سے شروع ہو سکتی ہے اور کبھی بغیرکسی وجہ کے بھی شروع ہو جاتی ہے ۔عام طور پر ہم خود ہی پہلے تو اداسی کا مقابلہ کرتے ہیں اور اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کرتے ۔

اس کے لیے کسی علاج کی بھی ضرورت نہیں پڑتی ۔لیکن طبی اعتبار سے اداسی اس وقت ڈپریشن کہلاتی ہے جب:
اداسی کا احساس بہت دنوں تک رہے اور ختم نہ -
اداسی کی شدت اتنی زیادہ ہو جاتی ہےکہ زندگی کے روزمرہ کے معاملات اس سے متاثر ہو نا شروع ہو جاتے ہیں۔
ڈپریشن کی وجوہات
بعض لوگوں میں ڈپریشن کی کوئی خاص وجہ ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی ..بہت سے لوگ جو ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں، اپنی اداسی کی کوئی خاص وجہ انہیں سمجھ نہیں آتی اور نہ ہی یہ سب بیان ہوسکتا ہے اس کے باوجود اتنا شدید ہو جاتا ہے کہ انہیں مدد اور علاج دونوں کی ضرورت پڑتی ہے -
بعض تکلیف دہ واقعات مثلًا کسی قریبی عزیز کا انتقال، طلاق یا نوکری ختم ہو جانے کے بعد کچھ عرصہ تک اداس رہنا عام سی بات ہے لیکن کچھ لوگ اس اداسی سے باہر نہیں نکل پاتے اور ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔

(جاری ہے)


اس کے علاوہ اگر ہم تنہا ہوں اور ہمارے پاس کوئی بھی بات کرنے کے لیے نہ ہو توہم ڈپریشن میں چلے جاتے ہے ۔۔جیسا کہ کہا جاتا ہے، انسان ایک معاشرتی حیوان ہے۔۔انسان کو انسان کی ضرورت ہوتی ہے -
بعض صورتوں میں ڈپریشن خاندانی طور پر چلا آتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ کے والدین میں سے کسی ایک کو ڈپریشن ہے تو آپ کو بھی ڈپریشن ہوسکتا ہے۔

۔اس کے برعکس ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ یہ بیماری آپ کے خاندان میں کسی کو نہ ہو اور آپ کو ہو جائے۔
کچھ جسمانی بیماریاں جیسے کینسر یا دل کی بیماریاں جو ٹھیک ہونے میں زیادہ وقت لگاتی ہے تو ایسی صورتحال میں بھی انسان کو ڈپریشن ہوسکتا ہے۔
ڈپریشن کا علاج
ڈپریشن کا سب سے پہلا اور آسان حل یہ ہے کہ دوسروں سے بات کی جائے۔

کوئی بھی واقعہ پیش آئے ،حادثہ ہو ، یا کچھ بھی ہو، دوسروں سے اس بارے میں بات کریں ،اظہار کریں -
کچھ نہ کچھ ہلکی پھلکی ورزش کرتے رہیں، چاہے تھوڑی دیر کے لئے ہی سہی ۔ورزش کرنے سے صحت کے لیے کئی فائدے ہیں۔
اپنے آپ کو مصروف رکھنے کی کوشش کی جائے، پھر چاہے وہ گھر کے کام کاج ہو یا باہر کے کچھ کام ہوں۔
متوازن غذا بہت ضروری ہے۔ تازہ پھلوں اور سبزیوں کا استعمال کرتے رہیں اور زیادہ سے زیادہ کھائیں -
نیند پوری کی جائے۔

رات میں جلدی سو جائیں اور صبح جلدی اٹھ جائیں تاکہ آپ کو مناسب نیند مل سکے۔
اپنے آپ کو بار بار یاد دلاتے رہیں کہ سب ٹھیک ہو جائے گا سب سے بڑی بات یہ ہے کہ انسان امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے اور ایسے موقع پر ہمت سے کام لے۔ اگر ان سب چیزوں سے ڈپریشن ختم نہ ہو ہو تو پھر اینٹی ڈپریسنٹ لے سکتے ہیں یا ڈاکٹر سے رجوع کر سکتے ہیں ۔ڈاکٹر کو دکھانے میں اور علاج کرنے میں کوئی غلط بات نہیں ہے ،جس طرح ہم باقی بیماریوں کے لیے ڈاکٹر کے پاس جا سکتے ہیں تو اس بیماری میں کیوں نہیں۔


اگر آپ کا کوئی دوست یا جاننے والا ڈپریشن کا شکار ہو تو اسے برا کہنے کے بجائے یا مذاق اڑانے کی بجائے اس کی مدد کرنی چاہئے اور اس سے بات کرنی چاہیے۔ایسا نہ ہو کہ سوشل میڈیا پر لکھ دیا کہ بات کرنی ہو تو مجھے میسج کریں بلکہ حقیقت میں بھی ایسا ہی ہو تو۔۔کیا پتا ہم کسی کی زندگی بچا سکیں۔۔کیا پتا ہمارے کچھ جملوں سے ہم کسی کو خودکشی کرنے سے بچا لیں۔
تاریخ اشاعت: 2020-07-21

Your Thoughts and Comments