Depression Aik Nafsiyati Bimari

ڈپریشن ایک نفسیاتی بیماری

Depression Aik Nafsiyati Bimari
ڈپریشن ایک نفسیاتی بیماری ھے جس میں جذبات،رویے،سوچوں اور جسمانی اثرات اثر انداز ہوتے ہیں۔
ڈپریشن میں اداسی بہت زیادہ ہوتی ہے انسان کو پریشان ہونے کی کوئی خاص وجہ نہیں ہوتی،اداسی کا احساس بہت زیادہ شدت سے ہوتا ہے۔اداسی،مایوسی اور بیزاری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
ڈپریشن کی علامات
1-بغیر کسی خاص وجہ کے تھکے تھکے رہنا۔


2-کسی خاص ایشو پر توجہ قائم رکھنے اور فیصلہ کرنے میں مشکل پیش انا۔
3-دلچیسی والے کاموں میں دل نہ لگنا۔
4-بھوک کانہ لگنا یا کم ہو جانا۔
5-نیند کا نہ آنا یا جلدی آنکھ کا کھل جانا۔
6-خود اعتمادی کم ہو جانا۔
7-موت یا خودکشی کے بارے میں خیال آنا۔
بعض لوگوں میں ڈپریشن کی کوئی خاص وجہ نہیں ہوتی۔بہت سے لوگوں جو اداس رہتے ہیں ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں اپنی اداسی کی وجہ سمجھ نہیں آتی۔

(جاری ہے)

اس کے باوجود ان کا ڈپریشن بعض دفعہ اتنا شدید ہو جاتا ہے کہ انھیں مدد اور علاج کی ضرورت ہوتی ھے۔
بعض تکلیف دہ واقعات،جن میں کسی قریبی دوست یا عزیز کے انتقال،طلاق یا نوکری ختم ہو جانے کے بعد کچھ عرصہ اداس رہنا تمام ایسی باتیں ہیں۔اگلے کچھ عرصہ تک اس کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں اور بات کرتے رہتے ہیں پھر کچھ عرصہ کے بعد ہم اس حقیقت کو تسلیم لیتے ہیں پھر اپنی روزمرہ کی زندگی میں واپس آ جاتے ہیں لکین بعض لوگ اس اداسی سے باہر نہیں آ سکتے اس طرح وہ ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں
اگر ہم تنہا ہوں ہمارے اس پاس کوئی دوست نہ ہو ہم ذہنی دباؤ کا شکار ہو ں یا ہم بہت زیادہ جسمانی تھکن کا شکار ھوں اسی صورت حال میں ڈپریشن کی بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔


جسمانی طور پر بیمار لوگ ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں ان میں کینسر،دل کی بیماری،جوڑوں کی تکیف،سانس کی بیماری۔ ڈپریشن کی وجہ ہماری شخصیت بھی ھو سکتی ھے بچپن کے حالات وتجربات،کوئی ایسا واقعہ جس سے دل ودماغ پر بہت گہرا اثر پڑا ہو جو لوگ الکوحل استعمال کرتے ہیں ان میں اکثر ڈپریشن ہو جاتاہے اس طرح ان میں خود کشی کرنے کا خطرہ عام لوگوں سے زیادہ ہوتا ھے ۔


مردوں کی نسبت خواتین میں ڈپریشن ہونے کا امکان زیادہ ہوتے ہیں۔
ڈپریشن کی بیماری بعض اوقات موروثی ہوتی ہے۔
کچھ خاندانوں میں ڈپریشن کی بیماری بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔
ڈپریشن ذاتی طور پر کوئی شئے نہیں ھے بلکہ یہ مختلف حالات کا نتیجہ ہے۔ مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ میں اداس تھا، حیران پریشان تھا، شہر ویران تھا اورجنگل بیابان تھا کیونکہ شہر میں وہ بندہ نہیں تھا جس کو میں ڈھونڈتا تھا۔

وہ جن کے جانے سے بہاریں چلی جاتی ہیں۔پھر وہ بندہ آیا تو شہر آباد ہو گیا۔گویا ایک بندے کا نام ہے شہر کی آ بادی اور ایک بندے کا نام ھے شہر کی بربادی، حالانکہ سارا شہر بندوں سے بھرا پڑا ہے۔
ڈپریشن کا سب سے بڑا مسلہء امید ہے،اگر امید ختم ہو جائے تو چھوٹی بات بھی گوارہ نہیں ہوتی۔جس شخص کو کسی پر بھروسہ نہ ھو، بلکہ اپنے نصیب پر بھی بھروسہ نہ ھو وہ آ دمی ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے۔

ایسا آ دمی زندگی میں مختلف مقامات پر امید ختم کرتا جاتا ہے اور نا امیدی پھیلاتا رہتا ہے۔ اللّٰہ پاک نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا کہ اے میرے بندے میری رحمت سے مایوس نہ ہو۔مایوسی ڈپریشن کا سبب ہے انسان کے ذہن میں امید ہی ختم ہو جائے
امید کا چراغ گل ہو جائے اس طرح آپ امید کو ضائع نہ ہونے دیں۔امید کو واضح کرنے کے لیے بتایا گیا ہے کہ جہاں سب راستے ختم ہو جاہیں وہاں سے راستہ نکلتا ہے اور جب اندھیرا گہرا ہو جائے تو وہاں سے روشنی پیدا ہوتی ہے۔

کوئی رات دنیا میں ایسی نہیں آئی جس کے بعد دن نہ آیا ہو۔
اگر آ پ نے کوئی بری خبر سنی ہو تو اسے کسی دوست،عزیز سے شیر کر لیں اور ان کو یہ بھی بتائیں کہ آ پ کیا محسوس کر رہے ہیں۔
متوازن غذا کھانا بہت ضروری ہے۔ آ پ کا دل کھانا کھانے کو نہ چاہ رہا ہو تو پھل اور سبزیاں سے فائدہ اُٹھائیں اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ ڈپریشن میں لوگ کھانا کھانا چھوڑ دیتے ہیں جس سے بدن میں وٹامن کی کمی ہو جاتی ہےاور طبیعت اور زیادہ خراب ہو جاتی ہے۔
کوشش کریں نیند پوری آ ہے اگر نہ آئے تو بھی آ رام سے لیٹ جائیں
ورزش اور جسمانی کام ضرور کریں
ڈپریشن کا علاج باتوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2019-08-01

Your Thoughts and Comments