بند کریں
صحت مضامینمضامیندھنیا

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
دھنیا
مصالحہ دار پکوان اور دسترخوان کی زینت۔۔۔۔ اسکے بیج مصالحہ جات اور اس کے پتے خوشبو کے لئے استعمال ہوتے تھے برطانیہ میں اسے رومن لے گئے اور وہ اس کو گوشت کے لئے پریذرو نیو کے طو پر استعمال کرتے ہیں
اللہ داد خان:
دھنیا کے سبز پتے اور بیج بطور مصالحہ دارسبزی استعمال ہوتے ہیں اور یہ ہماری ترکایوں کی جان ہے سلاد کے طور پر بھی دھنیا کے پتے استعمال ہوتے ہیں۔ یہ کھانے کے ذائقے کو لذیذ بناتا ہے اور اس کا بیج پیس کر بطور خشک مصالحہ بھی استعمال ہوتا ہے۔ سرکے کے علاوہ اس کا تیل بھی کارآمد ہے۔
تاریخ:۔
دھنیا کے پودے جنگلی حالت میں مشرقی اور جنوبی یورپ میں اب بھی ملتے ہیں اس کے آبائی وطن میں انہی علاقوں کا ذکر آتا ہے تاہم اس کے بیج Nahal henel غار میں بھی کھدائی کے دوران ملے ہیں جو کہ کھدائی کا قیدم ترین دور تھا۔ Tatan Khumum قوت الطمون کے مقبرہ سے بھی تقرلباً 1/2 کلو دھنیے کے بیج ملے ہیں اس لئے تاریخ دان یہ کہتے ہیں کہ اس کا آبائی وطن یورپ نہیں بلکہ مصر ہو سکتا ہے۔ اس کا ذکر بائبل میں بھی ہے۔
دوسری میلینیم بی سی سے اس کی کاشت یونان میں ہو رہی ہے اور اس کا تیل بھی نکال کر استعمال کیا جاتاتھا۔ اسکے بیج مصالحہ جات اور اس کے پتے خوشبو کے لئے استعمال ہوتے تھے برطانیہ میں اسے رومن لے گئے اور وہ اس کو گوشت کے لئے پریذرو نیو کے طو پر استعمال کرتے ہیں۔دھنیا بری نوی کالونی میں نارتھ امریکہ میں 1670 میں پہنچا اور وہاں پر اس کی ابتدائی کاشت شروع ہوئی۔
نام : دھنیے کا نام فرانسیسی لفظ Coriandure سے لیا گیا ہے۔ لاطینی میں اس کو Conianadram ہے۔
منسوب کیا گیا ہے اور یونانی میں Koriandrum کہتے ہیں۔ دھنیا جس کو فاری اصطلاح میں Conianadram satium کہتے ہیں عام طور پر اس کو Clianto بھی پکارا جاتا ہے۔ بھارت میں اس کو دھنیا اور جارجیا میں کنٹرزا کہتے ہیں۔
استعمال دھنیے کے تمام حصے خصوصاً پتے‘ بیج باورچی خانہ میں استعمال ہوتے ہیں اس کا استعمال مختلف ممالک میں مختلف ہوتا ہے۔
1۔پتے:
دھنیا کے پتے تازہ حالت میں سلاد میں ترکاریوں میں استعمال ہوتے ہیں اور اگر پتے سوکھ جائیں یا فریز کر دئیے جائیں تو خوشبو کھو بیٹھتے ہیں اس کا استعمال برصغیر پاک و ہند میں چٹنی میں ہوتا ہے اور پکے ہوئے کھانوں پر گارنش کے طور پر بھی اس کے پتے استعمال ہوتے ہیں۔ خاص کر دالوں پر اس کے پتے بہت لطف اندوز لگتے ہی۔ اس کو پہلے ترکاری میں نہیں ڈالا جاتا کیونکہ اس کا ذائقہ ختم ہو جاتا ہے لہذا کھانے کے آخری مراحل میں اس کے پتے استعمال ہوتے ہیں اب اس کا استعمال دنیا کے مختلف ملکوں میں ہو رہا ہے کیونکہ دنیا اب ایک گلوبل ولیج ہے اور تمام قسم کے کھانے ملک ملک پہنچ گئے ہیں اور حضرت انسان ان سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔
2۔بیج:
دھنیے کے بیج کو پیس کر پاوٴڈر بنا لیا جاتا ہے۔ تاہم یہ پوڈر اسی وقت بنائیں جب کہ آپ کو اسی دن استعمال کرنا ہوتا ہم اگر کافی وقت تک اس کا پاوٴڈر رکھیں گے تو یہ اپنی افادیت کھو بیٹھے گا۔ اس لئے اس کے بیج کو ٹھنڈی جگہ پر کسی جار یا بوتل میں ایرٹائٹ رکھیں اس کا استعمال اچار میں بھی کیا جاتا ہے۔
3۔جڑیں :
اس کی جڑیں کئی بھارتی کھانوں میں بھی استعمال ہوتی ہیں۔ خاص کر تھائی ڈشز میں اس کی جڑوں کا استعمال ہوتا ہے۔
4۔دھنیے کا تیل:
دھنیے کا تیل بھی بہت سی بیماریوں میں مفید ہے۔
دھنیے کا ادویاتی استعمال:
دھنیا دوائی کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ خاص کر تھکاوٹ کو دور کرنے کے لئے اور نیند نہ آنے میں اس کا استعمال نہ بتایا گیا ہے۔ یہ پیشاب اور ہے یہ مخرج یا ریاح بھی ہے۔ جوڑوں کے درد میں بھی اس کا بتایا گیا ہے اور اس کا استعمال پرفیوم انڈسٹری میں بھی ہوتا ہے۔
دھنیے کی پیداواری کی پیداوار ٹیکنالوجی
آب و ہوا:
دھنیا موسم سرما کی فصل ہے۔ لہٰذا سردی کے شروع میں اس کی کاشت کی جاتی ہے۔
زمین کا انتخاب:
زرخیز میرا زمین جس میں پانی کا نکاس رہتا ہو بہتر ہے۔
زمین کی تیاری :
3 سے 4 بل دے کر سہاگہ دینے کے بعد زمین کو اچھی طرح بھر بھری کر لیں۔
کھادوں کا استعمال:
کاشت سے تقریباً ایک ماہ پہلے اچھی طرح تیار شدہ زمین میں 10 سے 12 ن گو برکی گلی سڑکی کھاد ڈال کر ہل چلا کر زمین میں ملا دیں۔ کیمیائی کھادوں کا استعمال:
وتر آنے پر بل چلا کر ایک بوری DAP اور ایک بوری کھاد فی ایکڑ ڈالیں اور سہاگہ پھیر دیں۔
شرح بیج: 16 سے 20 کلوفی ایکڑ
وقت کاشت اور طریقہ کاشت:
بیج کے لئے:
بیج کے لئے فصل کو لائینوں میں کاشت کیا جائے اور چھدرائی کر کے پودوں کا فاصلہ 6 سے 9 انچ رکھیں اور لائینوں کا فاصلہ 1/2 فٹ رکھیں۔ اکثر کاشت کے بعد ایک کٹائی کی جاتی ہے اور دوسری کٹائی کو بیج کیلئے چھوڑ دیا جاتا ہے بیج کے لئے 10-8 کلوگرام بیج کافی ہوتا ہے۔
اگیتی کاشت:
اگست ستمبر کی اگیتی کاشت کے ئے کم از کم بیج 25 سے 30 کلو گرام فی ایکڑ ڈالیں۔ اس وقت بیج چھٹہ کر کے کاشت کریں اور پانی لگا دیں۔ بہتر اگاوٴ ہو گا۔
پچھیتی کاشت:
اکتوبر نومبر کی سازگار موسمی فصل برائے دھنیا16 تا 20 کلو گرام بیج چھٹہ کر کے کاشت کریں۔
اقسام:
قنھارنی‘ ایرانی اور دیسی اقسام
آب پاشی:
شروع میں بیضہ دار آبپاشی کریں بعد میں یہ وقفہ پندرہ دن تک بڑھایا جاسکتا ہے۔
برداشت:
کٹائی کاشت کے تقریباً 60 دن بعد کی جاتی ہے۔ ہر کٹائی کے بعد 15 کلو یوریا کھاد فی ایکڑ استعمال کیا جائے تو پیداوار زیادہ حاصل ہو گی۔

(3) ووٹ وصول ہوئے