Diabities Type 1 Ya Type 2

ذیابیطس ٹائپ 1یا ٹائپ2؟

Diabities Type 1 Ya Type 2


ٹائپ 1اور ٹائپ 2شوگر کی بیماری ٹائپ 1
یہ زیادہ تر نوجوانوں اور بچوں میں پائی جاتی ہے ۔اس بیماری میں انسانی جسم یا تو بہت ہی کم یابالکل ہی انسولین نہیں بنا سکتا۔شوگر کی بیماری ٹائپ 1کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں مثلاً یہ خاندانی اثریعنی وراثت میں چلنے والی بیماری بھی ہوسکتی ہے ۔
ٹائپ 1دراصل ایک وائرس ہے جس کی ساخت اور خاصیت کی مشابہت پنکریاز کے Beta Cells
سے ہوتی ہے ۔

جب یہ وائرس جسم میں داخل ہوتا ہے تو قوت مدافعت کا نظام قدرتی طور پر جس طرح کسی بیرونی وائرس کے خلاف برسر پیکار ہوتا ہے اسی طرح احتجاج کرتا ہے اور جسم کو اس وائرس سے بچانے کے لئے فوری طور پرAntibodiesبنانا شروع کردیتا ہے ،وہاں وہ پنکریاز کے بیٹا سیلز کو (وائرس سے مشابہت کی وجہ سے )ختم کردیتا ہے ۔

(جاری ہے)

جس کا خطرناک عمل ٹائپ 1شوگر کی بیماری کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے ۔

اس بیماری کے مریضوں کو زندگی بھرانسولین کے انجیکشن لینے پڑتے ہیں ۔
شوگر کی بیماری ،ٹائپ2
یہ مرض عام طور پر بالغوں اور بوڑھوں میں دیکھا گیا ہے ۔اس بیماری کے آغاز کی وجوہات میں خاندانی وراثت ،موٹاپے کی بیماری اور جسمانی ورزش کا فقدان شامل ہے ۔اس بیماری میں جسم انسولین ہارمون تو بناتا ہے لیکن انسولین جسم میں ٹھیک انداز سے کام نہیں کرتی ۔

جس وجہ سے خون میں انسولین کی مقدار کم ہونے لگتی ہے اور گلوکوز کی مقدار بڑھنے لگتی ہے ۔
شوگر کی بیماری ٹائپ 2کا علاج عموماً فوڈتھراپی اور دوائی (اینٹی ذیابیطس)سے کیا جاتا ہے ۔
اگر خدانخواستہ کسی کو شوگر ہوجائے تو وہ کیا کرے؟
ظاہر ہے کہ انسانی جسم میں بعض اہم تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں ۔ایک صحت مند جسم میں جگر خود بھی گلوکوز پیدا کرتا ہے اور اس گلوکوز سے توانائی ملتی ہے لیکن شوگر کی بیماری کی وجہ سے جگر میں گلوکوز کی پیداوار بند ہوجاتی ہے ۔


خون میں گلوکوز کی مقدار جب 160ملی گرام /ڈیسی لیٹر کی حد تک پہنچ جائے تو گلوکوز Urineکے راستے خارج ہوجاتا ہے ۔
شوگر کے مرض میں بھوک کی زیادتی کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ جسمانی سیلز کے اندرگلوکوز کی پیداوار بند ہوجاتی ہے ۔جسم کو درکار انرجی میسر نہیں آتی اس لئے بار بار بھوک لگتی ہے ۔
جسمانی تھکاوٹ کا احساس بھی بڑھ جاتا ہے ۔انرجی یعنی توانائی مہیا نہیں ہوپاتی ۔

مریض کا وزن کم ہونے لگتا ہے ۔جسمانی فیٹ اور پروٹین کو انرجی کا ذریعہ بنا لیتے ہیں اور مریض کا وزن کم ہونے لگتا ہے ۔
مریض کے Urineمیں شدید بدبو کی بڑی وجہ کیٹون ایسڈز (جسم میں جب Fatsٹوٹتے ہیں تو کیٹون ایسڈز پیدا ہوتے ہیں )کی موجودگی ہوتی ہے جو Urineکے راستے جسم سے خارج ہوتے ہیں ۔
شوگر میں غذا کا انتخاب کیسا ہو؟
ایسے غذائی اجزاء جیسے کاربوہائیڈریٹس ،فیٹ اور پروٹین مل کر غذا کو مکمل روپ دیتے ہیں اور ان کے کھانے سے خون میں گلوکوز کی سطح پر اثر پڑتا ہے ۔


1گرام کاربوہائیڈریٹس کھانے سے جسم کو 4کلو کیلوریز انرجی مل جاتی ہے ۔1گرام فیٹ کھانے سے 9کیلوریز یا 37کلوانرجی مل سکتی ہے ۔البتہ سیچوریٹڈ فیٹس سے مکمل پر ہیز ضروری ہے جیسے گوشت کی چربی ،گھی ،مکھن ،انڈے کی زردی وغیرہ نہیں کھانے چاہئیں ۔
1گرام پروٹین کھانے سے جسم کو 4کیلوریز اور 16کلوانرجی ملتی ہے ۔پروٹین گوشت ،دال ،دودھ اور پنیر وغیرہ سے مل جاتا ہے ۔


دن میں پانچ سے چھ بار کھانا تقسیم کرکے (یعنی بیک وقت پیٹ نہیں بھرنا)کھانا اچھا ہے ۔
فائبر والی غذائیں جیسے سبزیاں ،پھل ،دالیں ،مچھلی اور پھلیاں غذا کا حصہ بنانا چاہئے۔
نمک کی مقدار بھی کم کرنی ضروری ہے ۔دودھ اور اس سے بنی مصنوعات سے چکنائی علیحدہ کرکے کھانا چاہئے ذیابیطس کے مریضوں کے لئے تیار شدہ خصوصی غذاؤں اور وزن کم کرنے والی خوراک سے پرہیز کریں مثلاً ڈائٹ رس ملائی ،مٹھائیاں اور چاکلیٹ نہ کھائیں ۔
چہل قدمی کو شعار بنالیں تو مرض پر قابو پانا قدرے آسان ہوجاتا ہے۔

تاریخ اشاعت: 2018-11-24

Your Thoughts and Comments