Dieting Nah Kijiyej

ڈائٹنگ نہ کیجئے

Dieting Nah Kijiyej


ایسے لوگ جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمارے پاس وزن گھٹانے یا ڈائٹنگ سب سے مستند طریقہ موجود ہے تو جان لیجئے کہ یہ بات سو فیصدی درست نہیں ۔ڈائٹنگ کے دوران کیلوریز کو ایک مقرر مقدار میں استعمال کرنا اکثر صحیح فیصلہ ثابت نہیں ہوپاتا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ہم اپنے جسم کو ایک مقرر مقدار تک کیلوریز فراہم کرتے ہیں تو ہمارا مقررہ قدرتی وزن بھی اس تبدیلی کے سبب متاثر ہوتا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ جب ہماری ڈائٹنگ اختتام کو پہنچتی ہے تو ہمارا جسم واپس اس وزن کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے نتیجتاً ہمارا وزن ڈائٹنگ چھوڑنے کے فوراً بعد ہی دوبارہ بڑھنے لگتا ہے وقتاً فوقتاً وزن میں کی جانے والی اس تبدیلی کے باعث ہماری مجموعی صحت بھی خاصی متاثر ہوتی ہے ۔اور ہمارا جسم پہلے کے مقابلے میں بدنما اور بھدانظر آنے لگتا ہے ۔

(جاری ہے)

اگر آپ کا مقصد صحت مند جسم کا حصول ہے تو بہتر ہے کہ آپ اس قسم کے تجربوں سے بازرہیں اور اس سال ڈائٹنگ کے بجائے مفید غذا کے ذریعے صحت مند زندگی گزارنے کو اپنی ترجیحات میں شامل کیجئے۔
وزن اور صحت ہم پلہ نہیں
ہمیں اس امر کو سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ وزن خواہ کم ہویا زیادہ ،انسان دونوں صورتوں میں صحت مند رہ سکتا ہے یعنی صحت مند جسم کا دارومدار کبھی وزن پہ نہیں ہوتا ۔

ضروری نہیں کہ زیادہ وزن رکھنے والے افراد صحت مند ہوں ۔یہاں تک کہ اس ضمن میں کی گئی تحقیق میں بھی یہ بات واضح نہیں ہوسکی ہے کہ آیا بہتر صحت کا تعلق وزن گھٹانے سے ہے یا ہمارے طرز زندگی میں کی جانے والی مثبت تبدیلیوں مثلاً بہتر غذائیت کے استعمال اور جسمانی سر گرمیوں سے ۔
وزن میں مستقل تبدیلی ،ڈائٹنگ کے ذریعے ممکن نہیں
دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیجئے کہ ڈائٹنگ ،مستقل عادات کے حصول میں معاون ثابت نہیں ہوتی ۔

اگر ہم غذائیت سے بھر پور غذا کا استعمال اور جسمانی سر گر میوں کا دائرہ وزن کم کرنے کی حد تک محدود رکھتے ہیں تو مطلوبہ تنائج حاصل نہ ہونے کی صورت میں ہم ان عادات کو ترک کر دیتے ہیں جس کے سبب ہم نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی غیر صحت بخش عادات کی طرف واپس آجاتے ہیں خواہ وزن میں کمی بھی کیوں نہ ہو جائے۔
ڈائٹنگ ذہنی صحت بھی متاثر کرتی ہے
جن افراد کے ذہنوں میں وزن کم کرنے کا رجحان پایاجاتا ہے و ہ مسلسل اپنی باڈی امیج کو لے کر انتہائی تشویش کا شکار اور ذہنی طور پر غیر مطمئن رہتے ہیں ۔

ساتھ ہی ان کا ماننا ہے کہ ڈائٹنگ کے ذریعے وزن گھٹالینے کے بعد وہ ذہنی طور پر مطمئن ہوجاتے ہیں جبکہ ایسا ہر گز نہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈائٹنگ کے ذریعے بہتر باڈی امیج کا حصول ممکن نہیں کیونکہ اس صورت میں اگر وزن دوبارہ بڑھنا شروع ہو جائے تو آپ کے تمام تر عزائم اور خود اعتمادی دھری رہ سکتی ہے ۔اس لئے باڈی امیج کی پرواہ کئے بغیر غذائیت سے بھر پور غذا کا انتخاب کیجئے ۔

مت سوچئے کہ ریسٹورنٹ یا پا رٹی مینیو میں موجود غذائیں آپ کے ڈائٹ پلان میں شامل ہیں یا نہیں ،کس کھانے میں کتنی کیلوریز ہیں یہ سوچنے کے بجائے اس مرتبہ غذائیت پہ دھیان دیجئے۔
غرضیکہ رواں برس وزن گھٹانے کو اپنا عزم بنانے کے بجائے اچھی اور بہتر طرز زندگی کو اپنا شعار بنائیں
۔ڈائٹنگ سے اپنی ذہنی اور جسمانی صحت متاثر کرنے کے بجائے صحت بخش غذا کا انتخاب کریں اور جسمانی سرگرمیوں کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور بھول جائیں ڈائٹنگ کی جھنجھٹ کو۔

تاریخ اشاعت: 2018-11-28

Your Thoughts and Comments