Ehsaas E Kamtari

احساسِ کمتری ۔۔۔اسباب و تدارک

Ehsaas E Kamtari
عرفان محمود
احساسِ کمتری (Inferiority Complex) اس ذہنی کیفیت کا نام ہے جس میں انسان خود کو دوسروں سے کمتر اورحقیر خیال کرتاہے۔ایسا فرد دوسروں کی کامیابی کو اپنی نااہلی کاثبوت قرار دیتا ہے اور دوسروں کےمقابلے میں خود کو اتنا گراتاچلاجاتاہےکہ اسے خود اپنی ذات سے نفرت ہوجاتی ہے ۔احساسںِ کمتری دراصل ایک نفسیاتی عارضہ ہے جو رفتہ رفتہ انسان کی خوداعتمادی اور قوتِ ارادی کو ختم کرکے شخصیت کو اندر سے کھوکھلا کردیتا ہے۔

اس میں مبتلا فرد اہلیت اور استعدادِ کار ہونے کے باوجود خود کو زندگی کی کشمکش سے علیحدہ کرلیتاہے اوردوسروں کی فتوحات دیکھ کر کڑھتارہتاہے۔
احساسِ کمتری میں مبتلا انسان کاذہن اپنی خامیوں پر اتنا مرکوز ہوجاتاہےکہ اسے اپنی دیگر صلاحیتیں اورخارجی مواقع دکھائی ہی نہیں دیتے اوروہ اپنے ایک عیب کی وجہ سےاپنی پوری شخصیت کو داؤ پر لگادیتاہے۔

(جاری ہے)

کوئی دوسرانفسیاتی مسئلہ انسان کی صلاحیتوں کو کند کرنے میں ایسا تباہ کن نہیں، جتنا احساسِ کمتری کا عارضہ ہے۔
اسباب
احساسِ کمتری کامنفی جذبہ اپنی شخصیت کا دوسروں سے تقابل کرنے سے اس وقت پیداہوتاہے جب انسان خود کو کسی نہ کسی اعتبار سے دوسروں سے پیچھے پاتاہے۔احساسِ کمتری کی متعدد وجوہ ہیں جن میں سے چند کا ذیل میں ذکرکیاجارہا ہے:
1) جسمانی احساسِ کمتری
کالی یا سانولی رنگت ، مٹاپا، دبلاپن، چھوٹاقدیاچہرے کی بدنمائی وغیرہ احساسِ کمتری کے عام اسباب ہیں۔

آئینہ ایسے لوگوں کادشمن ہوتاہے جو روزانہ انھیں ان کی بدصورتی اورغیر دلکشی کا یقین دلاتارہتاہے۔دوسروں کاحسن اور صحت ایک خنجر بن کر ان کےدلوں میں پیوست ہوتاچلاجاتا ہے۔
2) ذہنی احساسِ کمتری
عموماً اس کاسبب تعلیمی ناکامیاں ہوتی ہیں اور انسان سمجھتاہے کہ وہ حافظے ،عقل اورذہانت کے اعتبار سے ناقص ہے۔اساتذہ کی ڈانٹ ڈپٹ،والدین کے طعنوں اور دوستوں کی تضحیک سے انسان یہ سمجھتاہے کہ وہ ذہنی لحاظ سے پس ماندہ ہے اوراپنی کند ذہنی کی وجہ سے زندگی میں کوئی نمایاں کام انجام نہیں دے سکتا۔


3) سماجی احساسِ کمتری
کسی مفلس اور سماجی اعتبارسے پست گھرانے میں جنم لینا انسان کے اندر طبقاتی احساسِ کمتری کے جذبات ابھاردیتاہے۔ایساشخص معاشرے کافعال فردبننے کی بجائے اپنے اندر سماج مخالف رجحانات پالتا چلا جاتاہے۔اس کے ذہن میں شکایتیں ہی شکایتیں ہوتی ہیں۔غربت اورکمتر خاندانی پس منظر ،زندگی میں محنت اور جدوجہد کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔


علامات
احساسِ کمتری جن منفی رویّوں کو جنم دیتاہے ان میں شرم،جھجک،تنہائی پسندی، دروں بینی ،خیالوں میں کھوئے رہنا،پست ہمتی،قنوطیت اورمایوسی وغیرہ شامل ہیں۔احساسِ کمتری میں مبتلا شخص دوسروں کاسامنا کرنے سے گھبراتا اور محفلوں میں جانے سے گریز کرتاہے۔
تدارک
احساسِ کمتری کے تدارک کی دوصورتیں ہیں:
1) ازالہ۔

۔۔ یعنی براہِ راست اس سبب کوختم کیا جائے جو احساسِ کمتری پیداکررہاہے۔مثال کےطورپر اگر موٹے اوربھدے جسم کی وجہ سے احساسِ کمتری ہے تو مختلف تدابیر سے جسم کو متناسب بنایا جائے ۔اس طرح نہ صرف احساسِ کمتری کا خاتمہ ہو جاتا ہےبلکہ خوداعتمادی بھی پیدا ہوجاتی ہے۔
2) تلافی۔۔۔ یعنی بالواسطہ طور پر اپنی ذات میں کوئی ایسی خوبی پیدا کرلی جائے جس سے احساسِ کمتری کاباعث بننے والے عیب کی تلافی ہوجائے۔

مثال کے طورپر پست خاندانی پس منظر کے باوجود اعلا تعلیم اوربرتر معاشی حثیت کے ذریعے معاشرےمیں عزت بنالی جائے۔اس طر ح نہ صرف فرد کا اپنا تصورِ ذات (Self-image) بہتر ہوجاتا ہے بلکہ دوسرے لوگ بھی اس کے عیب کو نظرانداز کرتے ہوئے اس کی اکتسابی کامرانیوں کی ستائش کرنے لگتے ہیں۔
احساسِ کمتری کے تدارک کیلئے ازالے کی صورت مناسب رہےگی یا تلافی کی، اس کا انحصار فرد کی ذاتی بصیرت اور احساسِ کمتری کی نوعیت پر ہے۔

تاہم یہ دونوں صورتیں مؤثر ہونے کیلئے ہمت، مستقل مزاجی اورمنصوبہ بندی کاتقاضا کرتی ہیں۔ کسی بھی معالج کے پاس ایسا کوئی سریع الاثر کیپسول موجود نہیں ہے جسے آپ رات کو نگل کر سوجائیں اور صبح آپ کے اندر احساسِ کمتری کی جگہ خوداعتمادی کے چشمے پھوٹ رہے ہوں۔احساسِ کمتری کاتدارک ایک طویل المیاد عمل ہے لہٰذا پورے صبر و تحمل کے ساتھ بہ تدریج اپنی شخصیت میں اعتماد کی آبیاری کرتے جائیے۔
تاریخ اشاعت: 2019-08-26

Your Thoughts and Comments