Face Mask Se Hone Wali Allergy Se Kaise Bacha Jaye - Article No. 1956

فیس ماسک سے ہونے والی الرجی سے کیسے بچا جائے - تحریر نمبر 1956

بدھ ستمبر

Face Mask Se Hone Wali Allergy Se Kaise Bacha Jaye - Article No. 1956
جمیلہ آصف
طبی ماہرین کافی عرصے سے فیس ماسک کو پہننے کی اہمیت پر زور دے رہے ہیں جس سے مریضوں سے صحت مند افراد تک کورونا وائرس کی منتقلی کا امکان کم ہوتا ہے مگر اب یہ مسئلہ سامنے آیا ہے کہ کئی لوگوں کو ماسک سے الرجی سی ہو رہی ہے اُن کی جلد کئی طرح کے مسائل کا شکار ہو رہی ہے بہر حال یہ ایک حقیقت کورونا وباء کے دنوں میں ماسک ضرور استعمال کریں تاکہ وباء سے بچ سکیں کیونکہ اس کا فائدہ چہرے کو ڈھانپنے والے کو بھی ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان سمیت متعدد ممالک میں فیس ماسک کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے اور ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اپنے چہرے کو ڈھانپنے والے افراد کے لئے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کا خطرہ 65 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔

(جاری ہے)

کیلیفورنیا یونیورسٹی کے ڈیوس چلڈرن ہاسپٹل کے بچوں کے وبائی امراض کے شعبے کے سربراہ ڈین بلیو مبرگ نے بتایا ”ہم نے تحقیقی اور دیگر سائنسی شواہد سے بہت کچھ معلوم کیا اور اب ہم جانتے ہیں کہ نہ صرف فیس ماسک کو پہننے والے فرد سے دیگر تک وائرس کی منتقلی کا خطرہ کم ہوتا ہے بلکہ یہ فیس ماسک کو پہننے والے فرد کو بھی ایسے افراد سے تحفظ فراہم کرتا ہے جو چہرے کو نہیں ڈھانپتے“۔


کورونا وائرس سے بچنے کے لئے فیس ماسک کا استعمال نہایت ضروری ہے، تاہم ہر وقت منہ ڈھانپے رکھنے سے جلد مختلف مسائل کا شکار بھی ہو سکتی ہے۔ دن کا زیادہ حصہ فیس ماسک پہن کر گزارنے سے ناک،تھوڑی اور گالوں کی جلد مختلف مسائل کا شکار ہو سکتی ہے جس میں سب سے عام ایکنی ہے۔ ایکنی ماسک کے جلد سے ٹکرانے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اور اسے ماسکنی کا نام دیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں چہرے کے مذکورہ حصوں پر الرجی،خارش یا جلد سرخ ہونے کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔ ایسے میں چند عام طریقوں سے ان مسائل سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔
چہرے کو دھونے کے لئے اچھے معیاری فیس واش کا استعمال کیا جائے۔
دن میں کئی بار منہ دھویا جائے اور تولیے سے خشک کرنے کے بجائے ہوا سے خشک کیا جائے۔
ماسک کے نیچے کی جلد کو نم رکھنا ضروری ہے اور اس کے لئے اچھا موئسچرائزر استعمال کیا جائے۔

لیکن خیال رہے کہ یہ موئسچرائزر زیادہ چکناہٹ بھرا نہ ہو ورنہ چکناہٹ اور پھر ماسک پہنے رکھنے سے چہرے کے مسام بند ہو جائیں گے اور ایکنی جلد کو خراب کر دے گی۔
ماسک کا کپڑا بہت زیادہ موٹا یا ریشمی نہ ہو ورنہ یہ الرجی پیدا کر سکتا ہے۔
ماسک کو روزانہ دھوئیں،اگر آپ ابھی تک گھر میں بند ہیں اور کبھی کبھار باہر جانے کے لئے ماسک استعمال کرتے ہیں تو ماسک کو واپس رکھنے سے پہلے دھونا نہ بھولیں۔


گھر کے اندر کچھ دیر کے لئے کھڑکیاں دروازے کھلے رکھیں تاکہ گھر میں تازہ ہوا کا گزر رہے۔
صبح کے وقت سر سبز درختوں کے درمیان واک کرتے ہوئے ماسک استعمال کرنا ضروری نہیں، اس وقت کی ہوا کو اپنے چہرے سے ٹکرانے دیں۔
جلد کی حفاظت کے لئے کیے جانے والے مختلف گھریلو ٹوٹکوں وغیرہ کا استعمال بڑھا دیں تاکہ جلد کی حفاظت ہو سکے۔
اس کے علاوہ جلد پر بننے والے داغ دھبوں سے جان چھڑانے کے لئے سبز چائے کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سبز چائے میں اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی انفلامیٹری خصوصیات پائی جاتی ہیں، ایکنی کے خاتمے اور داغ دھبوں کی صفائی کے لئے سبز چائے کو بطور سکن ٹونر استعمال کریں، ایکنی اور داغ دھبوں کی صفائی کے لئے سبز چائے کا مہینے تک مسلسل دن میں دو بار استعمال کرنا شرط ہے۔ یونیورسٹی آف میری لینڈ میڈیکل سنٹر کے مطابق سبز چائے میں پائے جانے والے مخصوص ایپیگلو ٹوٹچن گولیٹ کیمیکل سے ایکنی کی صورت میں بننے والی سوجن کا خاتمہ ہوتا ہے اور ایکنی کے داغ دھبوں کا صفایا ہوتا ہے۔ سکن ٹونر کے طور پر صاف چہرے پر روئی کی مدد سے سبز چائے لگائیں اور 15 سے 20 منٹ بعد چہرہ دھولیں۔
تاریخ اشاعت: 2020-09-16

Your Thoughts and Comments