بند کریں
صحت مضامینمضامین”فالج سے صرف معمر افراد نہیں نوجوان بھی متاثر ہوتے ہیں“

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
”فالج سے صرف معمر افراد نہیں نوجوان بھی متاثر ہوتے ہیں“
اسی فیصد فالج کے حملے سے بچا جا سکتا ہے ۔اگر ہم اپنی زندگی میں (Risk Factor) پر قابو پالیں فالج کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان کے صف اول کے ڈاکٹرزمیں شامل ڈاکٹر شاہد مصطفی کی خصوصی گفتگو
29 اکتوبر 2014 کو فالج کا عالمی دن منا یا جا رہا ہے ،اس موضوع پر روشنی ڈالنے کے لئے ہم نے ڈاکٹر شاہدمصطفی سے ایک نشست کا اہتمام کیا ہے۔ڈاکٹر شاہد مصطفی پاکستان کے ایک ممتاز اور صف اول کے ماہر دماغی/ ذہنی امراض (Neurophysician) ہیں۔انہوں نے امریکہ سے ڈپلومیٹ امریکن بورڈ آف سائیکیٹری اور نیورو لوجی کی ڈگری / تعلیم حاصل کی ہے ۔ شفا انٹر نیشنل ہسپتال اسلام آباد کے نیورو لوجی شعبے کے سربراہ رہ چکے ہیں ۔آج کل نیورو کئیر کلینک کے ڈائیریکٹر اور آغا خان ہسپتال سے منسلک ہیں۔
سوال:فالج کے عالمی دن کی اہمیت کیا ہے؟
جواب:ہر سال اکتوبر میں (WHO) کے زیر اہتمام فالج کا عالمی دن منایا جا تا ہے ۔ اس کا مقصد عوام میں فالج کی بیماری کی اہمیت کو
اجا گر کرنا ،اور عوام الناس کو اس کی تشخیص علاج اور بچا ؤ کے بارے میں معلومات فراہم کرنا ہے۔ہر ملک میں ڈاکٹرز کی تنظیموں،ہسپتالوں،شفا خانوں میں اس کے بارے میں پروگرام ،پوسٹرز، لٹریچر میڈیا کے ذریعے اس مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کیجاتی ہے ۔اس سال کا خاص موضوع ”خواتین اور فالج“ ہے۔
سوال:فالج کے بارے میں پتہ ہونا ؟
جواب:ہمارے Brain / دماغ کو ہر سیکنڈ دوران خون کی ضرورت ہوتی ہے۔دماغ کو خون یا آکسیجن کی بندش کی صورت میں شدیدنقصان پہنچتا ہے ۔ہر سیکنڈ میں تقریباََ بتیس ہزار خلیے اور ہر منٹ میں بیس لاکھ خلیے مردہ ہوجاتے ہیں۔ دوران خون کو خون کا منجمدلوتھڑا بند کرسکتا ہے یا خون کی نالی پھٹنے کی صورت میں دماغ کو شدید نقصان پہنچتا ہے ۔
سوال:فالج کی کیا علا مات ہیں؟
جواب:اچانک بولنے کی صلاحیت متاثر ہونا ،چہرے کا ایک طرف ڈھلک جا نا،بازو یا ٹانگ کا سن ہوجانایا کمزور ہوجانا ،اچانکچکرآنا،چال میں لڑکھڑا ہٹ،اچانک بینائی متاثر ہونا ،یاد داشت کا کھو جانا، اچانک شدید سر میں درد ہونا یا بے ہوش ہوجانا۔
سوال :اگر یہ علامات ہو تو کیا کرنا چاہئے؟
جواب:شروع کے تین سے چار گھنٹے نہایت اہم ہیں۔مریض کو فوراََ کسی ایسے ہسپتال لے جائیں جہاں اسٹروک / فالج کے علاج کی سہولت موجود ہو۔جہاں خون کے لوتھڑے کو ختم کرنے کی خاص دوا (T.P.A) دینے کا انتظام ہوجس سے دماغ کے نقصان کو محدود سے محدود کیا جاسکے ۔
سوال:فالج کس عمر کے لوگوں کو متاثر کرتا ہے ؟
جواب:زیا دہ تر بڑی عمر کے لوگوں ،پچپن سال سے زیا دہ ،لیکن تقریباََ تیس فیصد جوان لوگ بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں ۔ایک محتاطاندازے کے مطابق ہر چالیس سیکنڈ میں ایک شخص فالج کا شکار ہوتا ہے ۔اور ہر دن میں چار سو افراد اس کے نتیجے میں اس دنیا سیرخصت ہوجاتے ہیں اور باقی کسی نہ کسی حد تک معذوری کا شکار ہوجاتے ہیں۔
سوال :فالج میں عورتوں اور مردوں کی تعداد کتنی ہے؟
جواب:ساٹھ فیصد متاثرین خواتین اور چالیس فیصد مرد حضرات ہیں۔
سوال :کیا فالج سے بچا جا سکتا ہے ؟
جواب:جی ہاں ! اسی فیصد فالج کے حملے سے بچا جا سکتا ہے ۔اگر ہم اپنی زندگی میں (Risk Factor) پر قابو پالیں۔
سوال :فالج کے (Risk Factor) کا آپنے ذکر کیا ،اس پر روشنی ڈالیں؟
جواب:بڑھاپے اور عمر کے اضا فے کو تو کم نہیں کیا جاسکتا لیکن باقی (Risk Factor) پر قابو پانا ہمارے اختیار میں ہے ۔
۱۔45 سال سے زیا دہ ہر تین میں سے ایک مرد فستار خون میں زیادتی کا شکار ہے اس کے زیا دہ ہونے کے کوئی علامت نہیں ہوتی صرف چیک کروانے سے ہی معلوم ہوسکتا ہے ۔B.P / فستار خون سال میں کم از کم دو مرتبہ ضرور چیک کروائیں۔بلڈپریشر کو 10 سے20 mmhg کم کرنے سے فالج کے خطرے کو 50% کم کیا جا سکتا ہے ۔
۲۔زیابطیس / Sugar کو چیک کروائیں خاص طور پر وہ لوگ جن کے ماں باپ کو Sugar کا مرض ہے ۔خالیپیٹSugar 100 سے کم ہونی چاہئے۔
۳۔خون میں چربی کی مقدار / LDL 100 سے کم ہونی چاہئے غذا میں احتیاط،بڑا گوشت ،چکنائی سے پرہیز اور اگر پھر بھیزیا دہ ہو تو چربی کو کم کرنے کیلئے دوائی کا استعمال ۔
۴۔سگریٹ نوشی فالج کے خطرے کو 50% زیا دہ کرتی ہیں اس سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔
۵۔ورزش ہفتے میں کم از کم پانچ دن / تیس منٹ کی کرنے چاہئے تیز چلنے سے فالج کے خطرے کو بیس فیصد کم کیا جا سکتا ہے۔اس کے فوائد B.P ،شوگر ،چربی،وزن کم کرنے پر ظاہر ہوتے ہیں۔
۶۔موٹاپا اور وزن کو اپنے عمر اور قد کے حساب سے مناسب رکھیں۔مرد کمر کی چوڑائی 36" سے کم رکھیں۔
۷۔اگر آپ کے دل کو کوئی بیماری ہے تو اس کا علاج ضرور کروائیں کیونکہ اکثر اوقات دل کے صحیح کام نہ کرنے سے خو ن کالوتھڑادل کے بائیں خانے میں جم سکتا ہے اور ٹوٹ کر دماغ کی شریان کو بند کرسکتا ہے۔
۸۔اپنی نبض کو وقتاََ فوقتاََ چیک کریں اور اگر دل کی حرت بے ترتیب ہو تو فوراََ ڈاکٹر سے رجوع کریں یہ بھی دل میں خون کیجمنے کاسبب ہے۔
۹۔اگر ایک مرتبہ فالج کا حملہ ہو یا فالج کی علامات وقتی طور سے ظاہر ہو تو پھر ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق دوا لیں۔خاص طور پرخون کو پتلا کرنے کی دوائیں زندگی بھر استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
سوال : اگر فالج ہوجائے تو کیا اس کا علا ج کیا جاسکتاہے؟
جواب:ضرور ہوسکتا ہے،اس میں خون کو پتلا کرنے کی دوائیں B.P،چربی ،وزن کنٹرول کرنے کی دوائیں دی جاتی ہے اور اسکے ساتھساتھ فزیوتھراپی سے آہستہ آہستہ بہتری آتی ہے اس کے ساتھ ساتھ اکثریت اداسی / Deppression میں چلی جاتی ہے جسکو دواؤں سے بہتر کیا جاسکتا ہے ۔
سوال :کیا فالج کے مریض نہا سکتے ہیں؟
جواب:جی ہاں! فالج کے مریض ٹھنڈا پانی پی سکتے ہیں،ٹھنڈی ہوا میں،ائیرکنڈیشنڈ میں رہ سکتے ہیں اور موسم کی مناسبت کے حساب سیپانی میں نہا سکتے ہیں۔
سوال:فالج کی تشخیص کے سلسلے میں کسی ٹیسٹ سے مدد لی جاسکتی ہے؟
جواب:فالج کے مریض کا دماغ کا C.T Scan ضرور ہونا چاہئے تاکہ شریان کی بندش یا شریان کے پھٹنے کا فرق کیا جاسکیاسکے علا و ہM.R.I Scan سے مدد لی جاتی ہے۔ دل کا حال معلوم کرنے کیلئے Echo Cardiogram اور گردن میں خونکی شریانوں کی بندش کو چیک کرنے کیلئے Carotid U/S کا ٹیسٹ کیا جا تا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ خون میں چربی کیمقدار (LDL) اور شوگر کی مقدار ،HbA1C کو چیک کرنا ضروری ہے ۔
سوال:آخر میں آپ کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟
جواب:فالج ایک خطرناک بیماری ہے اکثریت ہمارے بوڑھے بزرگ والدین کی ہوتی ہے لیکن اس سے جوان حضرات خاوند ، بیوی ،بہن، بھائی اور اولاد بھی متاثر ہوسکتے ہیں اس کا بہترین علاج اس سے بچاؤ ہے۔اور یہ مقصد مریض اور معالج(Neurologist) / ڈاکٹر کی مشترکہ کوششوں سے حاصل کیا جاسکتا ہے ۔فالج بچاؤ کلینک خاص طور سے اس میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ہمارا پیغام۔
اپنا فالج خطرہ جاننا ضروری
معذوری سے بچنا بے حد ضروری

(17) ووٹ وصول ہوئے