Fast Foods Culture - Article No. 1299

فاسٹ فوڈز کلچر - تحریر نمبر 1299

پیر 30 اپریل 2018

Fast Foods Culture - Article No. 1299

محمد ریاض اختر

فاسٹ فوڈز کلچر نے بچوں کی صحت پر جو اثرات مرتب کئے ہیں یہ اس کا ہی اثر ہے کہ نونہال سبزی اور دال سے دور ہو گئے ہیں انہیں روزانہ نوڈلز‘ برگر‘ فنگرچپس‘ شوارما اور مشروب دیں وہ بخوشی کھا لیں گے مگر سبزیوں اور دالوں کو اچھا نہیں سمجھتے۔ اس صورتحال کے قصوروار بچے نہیں بلکہ بڑے ہیں ہم نے خود انہیں جنک فوڈ کا عادی کیا ہوا ہے۔

فاسٹ فوڈز میں بچوں کی دلچسپی اور رجحان صرف پاکستان کا ہی مسئلہ نہیں‘ دنیا بھر میں ریڈی میڈ چیزوں کو زندگی کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ کسی دور میں خاندان اور گھروں میں مرچ‘ نمک اور مصالحے پیسنے کا رواج تھا۔ لسی‘ چٹنی اور سلاد دستر خوان کا ناگزیر حصہ ہوا کرتے تھے۔ آج یہ سب چیزیں موجود ہیں مگر گھروں میں تیار نہیں ہو رہیں۔

(جاری ہے)

سلاد‘ لسی اور چٹنی (کیچپ) ہر چیز بازار سے تیار شدہ اور خوبصورت پیکنگ میں دستیاب ہے۔

فریز کیا ہوا گوشت‘ کباب‘ سموسے‘ پیزا حتیٰ کہ سبزیاں بھی آپ کو فریز کی ہوئی مل سکتی ہیں ۔ آسانیوں کی بات کی جائے تو سبزیوں میں چھلے ہوئے مٹر‘ صاف سترہ لہسن‘ لیمن کا رس‘ تراشیدہ پیاز اور اس طرح کی بے شمار چیزیں موجود ہیں معلوم نہیں یہ چیزیں معیار کے اعتبار سے کس درجے پر فائز ہیں اس بارے میں حتمی بات نہیں کی جاسکتی ہے۔

طبی ماہرین کہتے ہیں کہ گوشت چند دن تک تو اپنی قدرتی مہک اور تازگی برقرار رکھ سکتا ہے مگر جب اسی گوشت کو چار‘ پانچ اور چھ ہفتے بعد پکایا جائے گا تو پھر اس کی تازگی کہاں رہے گی۔ اسی طرح فاسٹ فوڈز میں استعمال ہونے والی اشیاء سٹور کر لی جاتی ہیں اور انہیں بتدریج (ضرورت کے مطابق) استعمال کیا جاتا ہے چونکہ وہ تازہ تیار کی گئی ہیں اس لئے کھانے والے کو لطف آتا ہے۔

پنجاب فوڈز اتھارٹی ان دنوں پنجاب بھر میں کھانے پینے کی اشیاء کی کوالٹی چیک کرنے کے لئے متحرک ہے۔ صوبہ بھر میں جعلی اشیاء تیار کرنے اور فروخت کرنے والوں کی سختی آئی ہوئی ہے۔ اسی طرح ہوٹل‘ ریسٹورنٹ اور فاسٹ فوڈز کی نگرانی ہو رہی ہے اور جہاں حفظان صحت کے اصولوں کے منافی کوئی شے دیکھی جاتی ہے تو فوراً ایکشن لیا جاتا ہے۔ فاسٹ فوڈز کلچر کیوں بڑھ رہا ہے اس صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے ممتاز معالج حیدر میڈیکل سنٹر کے میڈیکل آفیسر ڈاکٹر سلمان غازی کا کہنا تھا کہ بچوں کی افزائش‘ صحت اور ذہنی صلاحیت کی شکایات کی بڑی وجوہ خوراک کا غیر متوازن ہونا ہے۔

بیشتر والدین بچوں کی فرمائش پوری کر کے انہیں جنک فوڈ کا حصہ بنا دیتے ہیں‘ کبھی کبھی ان چیزوں کے استعمال میں حرج نہیں لیکن مستقل طورپر انہیں بچوں کی خوراک کا عادی بنا دینا کہاں کی دانشمندی ہے؟ یاد رکھیں کسی صورت بھی دودھ اور دہی کا متبادل کوئی مشروب نہیں ہو سکتا۔ سبزیاں بچوں کی جسمانی اور ذہنی صلاحیت کو جلا بخشتی ہیں والدین کا فرض ہے کہ وہ خود بھی اور بچوں کو بھی اس کاعادی بنائیں۔

افشاں میڈیکل سنٹر کی سربراہ ڈاکٹر افشاں خان کا کہنا تھا کہ دکھ اس بات کا ہے کہ اب فاسٹ فوڈز ہمارے کلچر کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ کبھی صرف ہفتہ وار حلوہ پوری صبح کے دستر خواں کا حصہ تھا اب تو بازاری کھانا لانا معمول ہے۔ آپ فون کریں اگلے چند منٹوں میں آرڈر گھر پہنچ جائے گا فاسٹ فوڈز سے بچوں کی قدرتی افزائش پر منفی اثر پڑ رہا ہے نونہالوں کے قد‘ صحت اور آئی سائٹ کی شکایت بڑھ رہی ہیں۔

والدین اکثر شکایت کرتے ہیں کہ ان کے بچے کھانا نہیں کھاتے۔ چپس‘ نوڈلز‘ برگر اور مشروب روز دے دیں وہ کھا لیں گے اس صورتحال میں پنجاب حکومت کی طرف سے تعلیمی اداروں میں مشروب کی بندش کا احسن قدم تھا۔ پنجاب فوڈز اتھارٹی بھی متحرک ہے۔ والدین چاہتے ہیں کہ حکومت اس طرح کے انقلابی قدم اٹھاتی رہے۔ میڈیکل مانٹرینگ گروپ ٹاپ سیڈ سکول سسٹم راولپنڈی کی سربراہ و شفاء انٹرنیشنل کی ینگ ڈاکٹر ثنا زبیر جاوید نے بتایا کہ بچوں کا لنچ بکس کے ساتھ سکول آنا معمول ہے افسوس ہوتا ہے کہ نونہالوں کی اکثریت کے پاس بازار کی تیار شدہ چیزیں ہوتی ہیں۔

چپس‘ بسکٹ‘ جوس‘ برگر اور اسی طرح کی دوسری اشیاء ہوتی ہیں بہت کم بچے ایسے ہیں جو پھل لے کر آتے ہیں والدین کی مصروفیت اور بچوں کی عدم دلچسپی کے باعث پھل دستر خواں کا حصہ نہیں۔ بچے جوس پسند کرتے ہیں لیکن ماں کے پاس ملک شیک بنانے کا ٹائم نہیں، وہ بازار سے جوس کا پیکٹ منگوانے میں عافیت محسوس کرتی ہے ہماری ان چھوٹی چھوٹی کوتاہیوں نے بچوں کو فاسٹ فوڈز کا عادی بنا دیا ہے نونہالوں کی صحت اور تندرستی کے لئے انہیں سبزیوں اور پھلوں کا دوست بنانا پڑے گا۔

مشرق مطب گوجر خان کے پروفیسر حکیم عبدالرئوف کیانی کا کہنا تھا کہ فاسٹ فوڈز کے نقصانات سے ہم آگاہ نہیں ، والدین بچوں کی فرمائش پورا کرنے کے لیے اندھا دھند انہیں برگرز، نوڈلز اور مشروب کا عادی بنا رہے ہیں ، اس صورتحال میں بچوں کی ہڈیاں کمزور رہ جاتی ہیں اس کے صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ، ہمیں بچوں کی صحت کے حوالے سے سکولوں اور گھروں میں اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوںگی۔

تاریخ اشاعت: 2018-04-30

Your Thoughts and Comments