Fizai Alodgi

فضائی آلودگی

جمعرات دسمبر

Fizai Alodgi
لیاقت علی جتوئی
پاکستان سمیت دنیا بھر میں فضائی آلودگی ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکی ہے۔امریکن لنگ ایسوسی ایشن کی رپورٹ برائے سال2019ء کے مطابق امریکا میں مقیم باشندوں کے ہر سانس کے ساتھ ان کے اندر نقصان دہ فضائی مادے بھی جسم میں منتقل ہورہے ہیں۔ایسوسی ایشن کی ”اسٹیٹ آف دی ایئر“رپورٹ کے مطابق،امریکا کے14کروڑ10لاکھ افراد غیر صحت مند فضا میں سانس لے رہے ہیں،جوکہ2018ء کے مقابلے میں70لاکھ کا اضافہ ہے۔


امریکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکا میں گزشتہ2برسوں کے دوران،ماضی کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں آلودہ دنوں کا سامنا کرنا پڑا۔انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے اعداد وشمار کا جائزہ لینے کے بعد خبر رساں ادارے نے بتایا کہ2013ء سے2016ء کے عرصے کے مقابلے میں2018ء میں امریکی عوام کو 15فیصد زیادہ آلودہ دنوں کا سامنا رہا۔

(جاری ہے)


سائنس ہمیں پہلے ہی بتا چکی ہے کہ غیر صحت مند ہوا انسانی صحت کے لیے خطرہ ہے۔

فضائی آلودگی، خصوصاً فضا میں شامل وہ آلودہ مادے جو آنکھ سے نظر نہیں آتے،انسانی صحت کے لیے خطرات کو مزید بڑھانے کا باعث بنتے ہیں۔اور یہ سچ ہے کہ فضائی آلودگی انسانی جان بھی لے سکتی ہے۔یہاں تک کہ فضائی آلودگی کی کم سطح بھی دل اور پھیپھڑوں کے مسائل پیدا کر سکتی ہے،جس کے نتیجے میں موت واقع ہو سکتی ہے۔
فضائی آلودگی اور صحت کی خرابی کے درمیان تعلق اتنا گہرا ہے کہ عالمی ادارہ صحت (WHO)نے فضائی آلودگی کو’نیا تمباکو‘قرار دیا ہے۔

عالمی ادارے کے حالیہ تخمینوں سے اندازہ ہوتاہے کہ دنیا بھر میں80 لاکھ سے زائد افراد کی اموات کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ آلودہ فضا میں سانس لیتے ہیں،اس کا مطلب یہ ہوا کہ سگریٹ پینے سے اتنی زیادہ اموات نہیں ہوتیں،جتنی کہ آلودہ فضا میں سانس لینے سے ہوتی ہیں۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ماہر طبعیات اور کلائمیٹ ریسرچر،رچرڈ میولر2018ء میں کی جانے والی اپنی ماحولیاتی تحقیق میں فضائی آلودگی سے متعلق ایک قدم اور آگے جاتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ 2018ء میں ایک اوسط امریکی شہری کی زندگی کو پورے دن کے دوران،ایک تہائی سگریٹ پینے جتنا نقصان ہوتاہے۔ہر چند کہ ایک تہائی سگریٹ کے مساوی سگریٹ کا دھواں روزانہ لینا بظاہر کوئی تشویشناک بات معلوم نہیں ہوتی ،تاہم اگر اسے جمع کیا جائے تو ایک سال میں100اور10سال میں1000سگریٹ بنتے ہیں۔رچرڈ میولر کہتے ہیں،”آلودہ فضا میں سانس لینا انسانی صحت کو لاحق خطرات کو بڑھانے کا باعث بنتاہے،جس سے ہر فرد بشمول بچے اور خواتین بھی متاثر ہورہے ہیں۔

میرے خیال میں فضائی آلودگی آج کی دنیا کی سب سے بڑی ماحولیاتی تباہی کی شکل ہے۔یہ انتہائی شرمناک بات ہے کہ ہم اس کی طرف مطلوبہ توجہ نہیں دے رہے“۔
ہم کس فضا میں سانس لے رہے ہیں؟
سگریٹ نوشی کے ذریعے7ہزار کیمیائی مادے انسانی جسم میں داخل ہوتے ہیں،جن میں سے کم از کم69کے بارے میں ہمیں معلوم ہے کہ وہ کینسر کا باعث بنتے ہیں۔

ہر جگہ فضائی آلودگی کی صورتحال مختلف ہے۔اگر امریکا کی بات کی جائے تو وہاں ایندھن،فضائی آلودگی کے باعث اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے اور یہ تقریباً 2لاکھ اموات کی وجہ بنتاہے۔
فضائی آلودگی،صرف شہری مسئلہ؟
آسٹن کی دی یونیورسٹی آف ٹیکساس کا ایک تحقیقی گروپ شہروں میں فضائی آلودگی پھیلانے والے مادوں کے اخراج،لوگوں کے اس سے متاثر ہونے کے عمل اور انسانی صحت کے درمیان تعلقات کی افہام وتفہیم کے لیے کام کرتاہے۔

تنظیمی مشاورت کے میدان میں ایک کہاوت مقبول ہے،”آپ جس چیز کی معیار بندی نہیں کر سکتے، اس کا نظم ونسق سنبھالنا بھی آپ کے بس کی بات نہیں“۔
ہمارے شہروں کی فضا بہت زیادہ آلودہ ہے مگر صرف اتنا معلوم ہونا ہی کافی نہیں ہے۔فضائی آلودگی سے موٴثر طور پر نمٹنے اور صحت عامہ میں بہتری لانے کے لیے شہر کے منصوبہ سازوں،ہوائی معیار کو منضبط (regulate)کرنے والوں،صحت عامہ کے لیے کام کرنے والوں اور اس سے متعلق دوسرے شعبے کے لوگوں کو آلودگی پھیلانے والے مختلف مادوں اور ان کے تعامل کے طریقوں کے بارے میں صحیح معلومات کی ضرورت ہوتی ہے۔


آسٹن کی یونیورسٹی آف ٹیکساس میں ڈپارٹمنٹ آف سول،آرکیٹیکچرل اینڈ انوائر نمینٹل انجینئرنگ میں اسسٹنٹ پروفیسر جو شوا آپٹے کہتے ہیں،”سب سے اہم بات یہ ہے کہ فضائی آلودگی کی درستی کے ساتھ معیار بندی کے بغیر،آلودگی کے ذرائع اور ان سے نبرد آزمائی کے طریقہ کار کے بارے میں ہم لوگ محض تاریکی میں تیر چلا رہے ہوتے ہیں“۔
ماہرین کے مطابق ،آج فضائی آلودگی عمومی طور پر ایک شہری مسئلہ ہے،جس سے دنیا کے بڑے شہر متاثر ہیں،تاہم اگر اس پر سنجیدگی سے کام نہ کیا گیا تو یہ مسئلہ شہروں سے باہر نکل کر گاؤں اور دیہات کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔

تاہم،اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ دیہی علاقے فضائی آلودگی سے مکمل طور پر محفوظ ہیں بلکہ سچ یہ ہے کہ فضائی آلودگی کے اثرات دور دراز کے علاقوں میں ابھی سے ہی محسوس کیے جارہے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2019-12-19

Your Thoughts and Comments