Flu - Article No. 2297

فلو - تحریر نمبر 2297

ہفتہ 13 نومبر 2021

Flu - Article No. 2297
فلو یا انفلوئنزا ایک ایسی متعدی بیماری ہے جو مختلف صورتوں میں دنیا بھر کے انسانوں کے لئے پریشانی کا سبب بنتی ہے۔فلو جب بھی وبائی صورت اختیار کرتا ہے،خطرناک ہو جاتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ فلو وائرس کی تین اقسام اے،بی اور سی ہیں،ان میں وائرس بی نسبتاً کم تر وبائی صورت اختیار کرتا ہے جبکہ سی وائرس عموماً نزلہ و زکام کا سبب بنتا ہے۔

وائرس کی قسم ”اے“ خطرناک ہے۔یہ وائرس جب بھی پھیلتا ہے وسیع آبادی کو فلو زدہ کر دیتا ہے۔اس وائرس کا تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ یہ اپنا روپ بدل لیتا ہے اور کچھ عرصے بعد نئی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
فلو،سانس کی نالی میں ہونے والا وائرل انفیکشن ہے۔اس میں سر درد،بخار،پٹھوں میں درد کے ساتھ کمزوری پیدا ہوتی ہے۔

(جاری ہے)


سردی لگنا،ناک بہنا،قے اور متلی،جوڑوں میں سختی،بھوک ختم ہونا بلغم کے ساتھ یا اس کے بغیر کھانسی،گلے میں درد،پسینہ آنا،ناک سے خون بہنا،دست اور منہ کے ذائقے کا بدلنا فلو کی علامات ہیں۔


پُرہجوم علاقوں میں مقیم افراد پھیپھڑوں اور دل کی کمزوری میں مبتلا افراد فلو کے زیادہ امکانات رکھتے ہیں۔عمر رسیدہ افراد کے لئے بھی فلو سے بچاؤ کی خصوصی احتیاط ضروری ہے۔فلو ہونے کے بعد احتیاط لازمی ہے۔اس کی علامت عام طور پر سات سے دس دن رہتی ہیں۔فلو ہونے کے بعد آرام نہ آنے کی صورت میں خصوصاً کھانسی کے ساتھ براؤن یا ہرا بلغم آنے پر ڈاکٹر سے ضرور رجوع کرنا چاہیے۔


فلو سے حفاظت کے لئے تین گرام اجوائن اور تین گرام دار چینی،دونوں کو اُبال کر ان کا پانی پینا مفید بتایا جاتا ہے۔بارہ گرام،اجوائن،دو کپ پانی میں اُبالیں۔آدھا رہ جائے پر ٹھنڈا کرکے،چھان کر پئیں۔اس طرح روزانہ تقریباً چار مرتبہ پینے سے فلو میں آرام ملتا ہے۔
تین گرام ادرک یا سونٹھ،سات تلسی کے پتے،سات سیاہ مرچ،تھوڑی سی دار چینی،سب کو دو کپ پانی میں اُبال کر شکر ملا کر نیم گرم پینے سے انفلوئنزا،سر درد میں افاقہ ہوتا ہے۔

مرض پھیلنے کی صورت میں یہ قہوہ مفید ہے۔
فلو ہونے پر شہد کے استعمال سے کھانسی سے آرام آتا ہے۔بخار اور سر درد کم ہوتا ہے۔
انفلوئنزا ہونے پر دار چینی پانچ گرام،دو لونگ،چوتھائی سونٹھ پیس کر ایک کلو پانی میں اُبالیں۔چوتھائی پانی رہنے پر چھان کر اس پانی کے تین حصے کرکے دن میں تین مرتبہ پینا مفید ہے۔
دو چمچ شہد،200 ملی لیٹر گرام دودھ،آدھا چمچ میٹھا سوڈا ملا کر صبح اور آدھا چمچ شام کو پلانا مفید ہے۔


فلفل دراز کو پیس کر اس کا پاؤڈر آدھا چمچ،دو چمچ شہد اور ادرک کے جوس کا آدھا چمچ ملا کر دن میں تین مرتبہ کھلائیے۔
تلسی (نیاز بو یا ریحان) کے سبز پتے ہیں۔اس کے ایک گرام سبز پتے اور کچھ ادرک (سونٹھ) آدھا لیٹر پانی میں ڈال کر جوش دیں۔جب یہ پانی آدھا رہ جائے تو چولہے سے اُتار لیجیے اور چائے کی طرح نوش کیجیے۔
لہسن اور ہلدی بھی انفلوئنزا کے لئے مفید ہیں۔

لہسن،جراثیم کش (Antiseptic) خاصیت رکھتا ہے،لہسن کا جوس ناک کے ذریعہ سونگھنا بھی اسی طرح مفید ہے۔پسی ہوئی ہلدی ایک چمچ کی مقدار میں ایک کپ گرم پانی میں ڈال کر دن میں تین مرتبہ پینا مفید بتایا جاتا ہے۔
احتیاط
فلو،اگر شدید ہو تو مریض کو ٹھوس غذا ترک کر دینی چاہیے۔پھلوں اور سبزیوں کے جوس میں اتنی ہی مقدار میں پانی (یعنی آدھا پانی،آدھا جوس) ملا کر تین یا پانچ دن تک (مرض کی شدت کے لحاظ سے) استعمال کرتے رہنا چاہیے۔

یہ جوس ٹمپریچر نارمل ہونے تک جاری رکھنا چاہیے۔
بخار اُتر جانے کے بعد مریض دو تین دن تک صرف فروٹ استعمال کرتا رہے۔دن میں تین مرتبہ رس بھرے فروٹ یعنی سیب،ناشپاتی،انگور، مالٹے،کینو،انناس،آلو بخارا اور خربوزہ وقفے وقفے سے کھانا چاہیے۔بہتر ہو گا کہ بند ڈبوں والے فروٹ نہ لیے جائیں۔
اس کے بعد دو تین روز کے لئے فروٹ کے ساتھ دودھ شامل کر لیجیے۔پھر تین بنیادی فوڈ گروپس پر مشتمل متوازن غذا کھانا شروع کیجیے ۔یہ فوڈ گروپ بیجوں،نٹس (بادام،اخروٹ اور مونگ پھلی)، سبزیوں اور پھلوں پر مشتمل ہونے چاہئیں۔سلاد کے ہمراہ لیموں کا رس بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2021-11-13

Your Thoughts and Comments