Garam Mashrubaat

گرم مشروبات

Garam Mashrubaat
زیادہ گرم مشروبات کااستعمال کینسر یا خوراک کی نالی کے سرطان کی بیماری کے امکانات کو دوگنا کرتا ہے عالمی ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ بہت گرم مشروبات سرطان کی ایک ممکنہ وجہ ہوسکتے ہیں۔ تاہم اچھی خبر یہ ہے کہ ماہرین صحت نے نئی تحقیق میں چائے یا کافی کے بجائے تیز گرم چائے یاکافی کو اُس بیماری کے ساتھ منسلک کیا ہے۔ عالمی ادارہٴ صحت کے ماہرین نے ایک نئی تحقیق کے نتائج جاری کئے ہیں جس کے مطابق ماہرین کو چائے یا کافی پینے سے سرطان پیدا ہونے کا کوئی حتمی ثبوت نہیں ملا ہے تاہم محدود شواہد سے یہ پتا چلا ہے کہ گرم مشروبات پینے سے سرطان کاخطرہ بڑھتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی ہدایت کے مطابق اس بیماری سے بچنے کے لیے تازہ چائے اور کافی کا ٹھنڈا کرکے پینا چاہیے کیونکہ چند منٹ کاانتظار عام طور پر گرم مشروبات کو نگلنے کے قابل بناتا ہے۔

(جاری ہے)


کینسر پر تحقیق کی بین الاقوامی ایجنسی سے منسلک محققین نے کافی میں سرطان کی ممکنہ خصوصیات تلاش کرنے کے لیے 1000سے زائد سائنسی مطالعوں کا جائزہ لینے کے بعد یہ اندازہ لگایا کہ سرطان کے خطرے کا ذمہ دار گرم مشروبات کا مادہ نہیں تھا بلکہ گرم مشروبات کادرجہ حرارت سرطان کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

اس مطالعے کا انعقادانٹرنیشنل ایجنسی فارریسرچ آن کینسر IARC کی طرف سے کیاگیا، جس کے نتائج سے یہ ظاہر ہوا کہ 65ڈگری سیلسیس یااس سے تیز گرم مشروبات کینسر یاخوراک کی نالی کے سرطان کی بیماری کے امکانات کو دوگنا کرتے ہیں ۔
ایجنسی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سٹوفر وائلڈ کے مطابق تیز گرم مشروبات خوراک کی نالی کے سرطان کی ایک ممکنہ وجہ ہوسکتے ہیں۔

اور بظاہر مشروبات کے مقابلے میں اس کا درجہ حرارت اس کے لیے ذمہ دار ہے۔ ڈاکٹڑ کرسٹوفر وائلڈ کے مطابق چین، ترکی، ایران، اورجنوبی امریکہ میں کئے جانے والے مطالعوں میں خوراک کی نالی کے سرطان کاخطرہ پایاگیا ہے جہاں روایتی طورپر گرم مشروبات کو 70 ڈگری سلیسیئس سے زیادہ گرم درجہ حرارت پر پیاجاتا ہے۔ ڈاکٹر کر سٹوفر وائلڈ نے واضح کیا کہ نئے نتائج یہ ثابت کرنے کے لیے ناکافی ہیں کہ کافی سرطان کے لیے خطرہ نہیں ہے۔ لیکن اب تک اس بات کے بھی حتمی ثبوت نہیں ملے ہیں کہ کافی کینسر کا ایک سبب بنتی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2016-07-16

Your Thoughts and Comments