Garmi Ko Shikast Dein - Article No. 2859

Garmi Ko Shikast Dein

گرمی کو شکست دیں - تحریر نمبر 2859

اگر اس موسم میں گرمی سے بچاؤ کا مناسب انتظام نہ کیا جائے، تو طبی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

بدھ 3 جولائی 2024

حکیم حارث نسیم سوہدروی
ان دنوں ملک بھر میں سورج سوا نیزے پر ہے۔اگر اس موسم میں گرمی سے بچاؤ کا مناسب انتظام نہ کیا جائے، تو طبی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ کام کاج چھوڑ چھاڑ کر ٹھنڈے کمرے میں رہا جائے۔ہم احتیاطی تدابیر اختیار کر کے شدید گرمی کے اثرات سے محفوظ رہتے ہوئے معمول کے کام انجام دے سکتے ہیں۔

یاد رکھیے، موسمِ گرما میں جب گرمی عروج پر ہو تو جسمانی صلاحیتوں کے ساتھ قوتِ ہضم میں بھی کمی آ جاتی ہے۔سخت پیاس لگتی ہے۔سر درد، قے، دست، جی متلانا، سر چکرانا اور بے چینی جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔اضمحلال و افسردگی چھا جاتی ہے۔پیشاب کی رنگت زرد اور جلن محسوس ہوتی ہے، لہٰذا اس موسم میں جسم کا درجہ حرارت ایک خاص حد میں رکھنا ضروری ہو جاتا ہے۔

(جاری ہے)

دراصل، جسم اپنا پانی جلد کے مساموں کے ذریعے خارج کرتا ہے، جو طبی اصطلاح میں پسینہ (Sweat) کہلاتا ہے۔ظاہر سی بات ہے، جب زائد پسینہ خارج ہو گا، تو بالخصوص موسمِ گرما میں ڈی ہائیڈریشن کا امکان بڑھ جاتا ہے۔اس لئے کوشش کریں کہ دن بھر میں کم از کم 520 ملی لیٹر پانی فی گھنٹہ پئیں۔گھر سے باہر جانے والے افراد چاہے وہ طلبہ ہوں، مزدور یا ملازمت پیشہ اپنے ساتھ پانی کی بوتل رکھیں اور وقفے وقفے سے پیتے رہیں۔
گرمی کے اوقات میں بلا ضرورت گھر سے باہر نہ نکلیں۔اگر جانا ضروری ہو تو سر پر گیلا کپڑا رکھیں اور ایک، دو گلاس پانی پی لیں، تاکہ درجہ حرارت معتدل رہے۔اگر کوئی طبی مسئلہ نہ ہو تو لیموں کا رس اور قدرے کم نمک تازے یا ٹھنڈے پانی میں مکس کر کے پئیں۔کچی نمکین لسی بھی مفید ہے۔یاد رکھیے، جب پہلی بار پیاس لگتی ہے، تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہمارے جسم میں دو فیصد پانی کی کمی واقع ہو چکی ہے، لہٰذا احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ پیاس محسوس ہونے سے قبل ہی پانی پی لیا جائے۔
اس طرح جسم میں پانی کی کمی واقع ہو گی، نہ پیاس لگے گی۔
دیکھا گیا ہے کہ اس موسم میں برف کا زیادہ استعمال کیا جاتا ہے، جو پیاس بجھانے کے بجائے مضر ثابت ہوتا ہے۔اس لئے نارمل پانی پئیں۔موسمِ گرما میں قوتِ ہاضمہ بھی متاثر ہو جاتی ہے۔بہتر تو یہی ہے کہ چٹ پٹی، فرائی اشیاء، مرغن غذائیں، کڑاہی گوشت، حلیم، مرغ روسٹ، نشاستہ دار اشیاء، انڈا، مچھلی اور تیز مرچ مسالا جات کے استعمال میں احتیاط برتیں، کیونکہ یہ اشیاء جسم میں تیزابی مادے اور درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔
باسی اشیاء کے استعمال میں بھی احتیاط برتی جائے، کیونکہ یہ جلد گل سڑ جاتی ہیں اور بعض اوقات فوڈ پوائزن کا سبب بن جاتی ہیں۔گرمیوں کی سبزیاں اور پھلوں کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ان میں کدو، ٹینڈے، کریلے، توری، خربوزہ، تربوز، آلو بخارا اور لیموں وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔تربوز میں 90 فیصد پانی پایا جاتا ہے۔اس کے استعمال سے جسم میں پانی کی ضرورت کو باآسانی پورا کیا جا سکتا ہے۔
اسی طرح خربوزہ بھی ڈی ہائیڈریشن سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ترش پھل جیسے مالٹا، انگور اور لیموں وغیرہ ٹھنڈی تاثیر رکھتے ہیں اور ہاضمے کو بہتر بناتے ہیں۔فالسے پیاس بجھانے کے لئے موٴثر ہیں، تو کھیرے گرمی کا بہترین توڑ ہیں۔موسمِ گرما میں بطور سلاد اس کا استعمال موسمی اثرات سے محفوظ رکھتا ہے۔کیفین یا کافی تاثیر میں گرم ہوتی ہے، لہٰذا ان کا استعمال کم کر دیں۔
بہتر تو یہی ہے کہ بالکل ختم کر دیں۔گرمی میں کافی کا استعمال السر اور معدے میں تیزابیت پیدا کرتا ہے۔
گرمیوں میں ہلکے رنگوں کے ملبوسات زیبِ تن کیے جائیں۔گہرے سیاہ رنگ میں حرارت جذب کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے، اس لئے گہرے، خصوصاً سیاہ رنگ کے پیراہن استعمال نہ کیے جائیں۔ویسے سب سے بہتر سفید ململ ہے۔مصنوعی دھاگے والے اور نائیلون کے کپڑے بہت مضر ہیں۔
ان سے جلد میں فساد پیدا ہوتا ہے اور پھوڑے پھنسیاں، خارش اور دیگر جلدی مسائل لاحق ہو سکتے ہیں۔ورزش ضرور کریں، مگر زیادہ دیر تک نہیں۔
موسمِ گرما کے امراض:
موسمِ گرما میں لُو لگنا (جسے اسٹروک بھی کہتے ہیں) عام ہے۔یہ ایک خطرناک حالت ہوتی ہے۔ابتداء میں سر درد، تھکن اور پھر بخار ہوتا ہے۔پیاس شدت سے لگتی اور پیشاب بہت کم آتا ہے۔
دل تیزی سے دھڑکتا ہے۔کبھی مریض بے ہوش ہو جاتا ہے، اس وجہ سے جسم کا درجہ حرارت پر کنٹرول کا عمل بگڑ جاتا ہے۔پسینہ نہیں آتا، جلد سرخی مائل اور کبھی دانے نکل آتے ہیں۔نبض کی رفتار تیز اور آنکھوں کے گرد اندھیرا چھا جاتا ہے۔اگر کسی کو لُو لگے، تو اُسے ٹھنڈی جگہ پر رکھیں۔سر پر ٹھنڈا پانی ڈالیں اور پانی پلائیں، برف کے پانی میں پٹیاں بھگو کر پیشانی پر رکھیں۔
ہمدرد کا خمیرہ مروارید دن میں تین بار آدھا آدھا چمچ ہمراہ عرقِ گازوبان آدھا آدھا کپ لیں۔
پیشاب میں جلن اور سرخی:
اس صورت میں کچی لسی میں تخم ملنگاں یا پھر ٹھنڈے پانی میں ستو اور شکر مکس کر کے صبح و شام پینا مفید ہے۔ہمدرد کا شربت بزوری معتدل صبح و شام پئیں۔
بھوک کی کمی:
پودینے اور انار دانے کی چٹنی دوپہر اور رات کھانے کے ساتھ کھائیں۔جلد افاقہ ہو گا۔
اسہال:
دست آنے کی صورت ثابت اسپغول دہی میں ملا کر دن میں دو تین بار استعمال کریں۔اس کے علاوہ گوشت سبزی میں ملا کر کھائیں۔
قے:
لیموں دو حصوں میں کاٹ کر چاٹ لیں۔

Browse More Healthart