بند کریں
صحت مضامینمضامینگرمیوں میں پیدل چلنے کی ورزش

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
گرمیوں میں پیدل چلنے کی ورزش
زندگی کے لیے ہوا، پانی اور غذا کی طرح ورزش بھی ضروری ہے۔ یہ جسمانی اورقلبی راحت کا سامان کرتی ہے۔ورزش روزانہ کرنی چاہیے۔ یہ ہر موسم کی ضرورت ہے۔
زندگی کے لیے ہوا، پانی اور غذا کی طرح ورزش بھی ضروری ہے۔ یہ جسمانی اورقلبی راحت کا سامان کرتی ہے۔ورزش روزانہ کرنی چاہیے۔ یہ ہر موسم کی ضرورت ہے۔
گرمیوں میں برف کااستعمال عام ہوجاتا ہے۔ ائرکنڈیشنڈکمروں میں پناہ لے کر گرمیوں کا مقابلہ کیا جاتا ہے، لیکن کبھی غور کیا کہ آپ کابدن اس موسم میں ورزش کی کمی سے ست اور وزنی ہوجاتا ہے۔ بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے، قلب کی دھڑکن اور اس کی رفتار میں گڑبڑکے آثار نمایاں ہوجاتے ہیں۔ اس صورت حال اور گرمیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ ورزش کریں۔ اس موسم میں پیرا کی علاوہ صبح کے ٹھنڈے وقت میں پیدل چلنے کی ورزش بہت مفید ہوتی ہے۔ اس ورزش سے جسم کو بڑی راحت ملتی ہے۔ پسینے کے اخراج سے گرمی کی شدت دور ہوجاتی ہے۔ پتتے بدن کی وجہ سے ہونے والی بے چینی اور بے کلی ختم ہوجاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ورزش کے دوران ہم اپنے پٹھوں کا استعمال کرتے ہیں، جس سے جسم میں حرارت بڑھ جاتی ہے۔ جسم اس سے نجات کی کوشش کرتا ہے۔ ہمارے اعصابی نظام میں واقع حساس عصبی مراکز دماغ کو جسم کی اس کیفیت، یعنی اضافی حرارت سے باخبر کرتے ہیں۔ ان پیغامات کے ملتے ہی دماغ ہماری جلد کے مختلف حصول کو یہ اطلاع فراہم کرتاہے، جس کے ملتے ہی رگیں کشادہ ہوجاتی ہیں، تاکہ خون زیادہ مقدار مین جسم کو اوپری سطح، یعنی جلد کے قریب سے گزر کر حرارت کونکال پھینکے۔اخراج حرارت کے اس عمل میں اضافہ پانی کی پتلی سطح کرتی ہے، جو جلد میں واقع پسینے کے غدود پورے جسم میں پھیلادیتے ہیں۔ یہ پانی ، یعنی پسینا سوکھتا ہے تو درجہ حرارت بھی گھٹنے لگتا ہے۔
پسینا:
پسینا خارج کرنے کی صلاحیت ہر شخص میں یکساں نہیں ہوتی۔ آپ جتنے صحت مند اور توانا ہوں گے، پسینا اسی حساب سے زیادہ مقدار میں خارج ہوگا، کیوں کہ ہمارے جسم کے اندر واقع حرارت کو باقاعدہ رکھنے والے مراکز بہتر کارکردگی کی کوشش کرتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ اخراج پسینا کے سلسلے میں عمر کا بھی دخل ہوتا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق یہ نظام عمر میں اضافے کی وجہ سے سست نہیں پڑتا، بلکہ اس کی وجہ صحت میں کمی ہوتی ہے۔
عمر میں اضافے کے باوجود اگر صحت اچھی اور مستحکم ہے تو یہ نظام بھی چوکس اور چست رہتا ہے۔ کمزور اور خراب صحت والوں کو پسینا اگر آتا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ ان کا بدن معمول سے زیادہ گرم ہے اور خود کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے جسم کو سخت محنت کرنی پڑرہی ہے۔ اس کوشش کی وجہ سے قلب اور شریانوں کے نظام پر دباؤ پڑتا ہے، لیکن اگر یہی افراد صحت اور توانائی میں اضافہ کرلیں تو جسم کو ٹھنڈا رکھنے والا نظام بھی مستحکم ہوکر زائد حرارت کو جلد خارج کرکے قلب اور شریانوں کو غیر ضروری دباؤ سے محفوظ رکھتا ہے۔
سبب:
جسم سے پسینے کے اخراج میں کمی کی ایک اور وجہ جسم میں پانی کی مقدار کاکم ہونا ہے۔ پانی کی کمی (ڈی ہائڈریش) کی کیفیت ظاہر ہوتے ہیں ہی جسم پسینے کے اخراج کی رفتار کم کردیتا ہے، جس کی وجہ سے جسم کی اندرونی حرارت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
گرمی کی وجہ سے لاحق ہونے والی تکلیف مرض میں تین قسم کی کیفیات ظاہر کرتی ہے۔ حرارت یاگرمی کی وجہ سے پٹھوں میں اینٹھن ہوتی ہے۔ یہ دراصل اشارہ ہوتا ہے کہ جسم میں پانی اور نمک کی کمی واقع ہوگئی ہے۔ گرمی کی وجہ سے لاحق تھکن کے نتیجے میں سر میں درد ہوتا ہے۔ مریض بہکی بہکی باتیں کرتا ہے۔ کمزوری، چکرآنا اور چڑچڑے پن کی کیفیت نمایاں ہوجاتی ہے۔ لولگنے کی شکایت بہت سنگین ہوتی ہے۔ اس میں جان جانے کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔ یہ کیفیت اس وقت لاحق ہوتی ہے، جب جسم کا اندرونی درجہ حرارت 101ڈگری سے بڑھ جاتا ہے۔
کوشش یہ ہونی چاہیے کہ لُولگنے کی نوبت نہ آئے۔ گرم موسم میں پیدل چلنے کی ورزش اس لیے ضروری ہے کہ آپ کے جسم کی پسینا لانے کی صلاحیت برقرار رہے۔
احتیاطی تدابیر:
پیدل چلنے کے لئے بہترین وقت سورج نکلنے سے پہلے کاہوتا ہے۔ اس وقت حبس تو ہوتا ہے، لیکن لُو نہیں ہوتی، اس لیے نماز فجر سے فارغ ہو کر چل پڑیے۔
ایک صورت یہ بھی ہے کہ کم ازکم ایسا راستہ اختیار کیجیے، جہاں درخت لگے ہوں۔ اگر دھوپ نکل آئے تو سائے میں چلیں اور درختوں سے نکلتی آکسیجن بھی جذب کریں۔
کسی مرض کی صورت میں یہ ورزش شروع کرنے پہلے اپنے معالج سے ضرور مشورہ کرلیجیے۔
اگر آپ اس ورزش کے عادی ہیں تو پھر گرمیوں میں بھی پیدال چلنے سے تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔ جس روز سخت گرمی ہو، رفتار اور فاصلہ کم رکھیے۔ آہستہ آہستہ چلنا شروع کیجیے اور جیسے ہی تھکن نمایاں ہونے لگے، تھوڑا سستا کر گھر واپس آجائیے۔
سخت گرمی میں پیاس یوں بھی ستاتی ہے، پیدل چلنے سے پہلے ایک گلاس ضرور پی لیجیے اور ایک بوتل میں بھی ٹھنڈا پانی ساتھ لے کر نکلے۔ چلنے کے دوران ہر پندرہ منٹ بعد سانس تھوڑا بحال کرنے کے بعد ایک گلاس پانی پینے کا سلسلہ جاری رکھیے۔ گھر سے نکلتے وقت زیادہ پانی پینا بھی مناسب نہیں ہے، کیوں کہ ایسی صورت میں چلنے کے دوران پیشاب کی حاجت ہوسکتی ہے۔ جسم ضرورت سے زیادہ پانی گردوں کے راستے خارج کردیتا ہے۔
اس بات کا اندازہ لگانے کے لیے کہ آپ کے جسم میں پانی کی کمی تو واقع نہیں ہورہی ہے، پیشاب کی رنگت پر غور کرنا چاہیے۔ بہت گہری رنگت اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ جسم میں پانی کی کمی ہورہی ہے۔ یہاں یہ بتانا بھی مناسب ہوگا کہ حیاتین ب (وٹامن بی) اور بعض دیگر دواؤں کی وجہ سے بھی پیشاب زرد ہوجاتا ہے، ایسی صورت میں اسے پانی کی کمی کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔
شدید لُو اور خشک ہوا میں پیدال چلنے کے دوران جسم کو ٹھنڈا رکھنے کی صورت میں یہ بھی ہے کہ سوتی بنیان یاقمیص وغیرہ بھگو کر اور نچوڑ کر پہن لی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ آپ کے پسینے کے غدود کام کرتے رہیں، اس کے لیے پانی پینا نہ بھولیے۔
گرمیوں میں سوتی کپڑا سب سے زیادہ محفوظ اور آرام دہ ہوتا ہے۔ پیدل چلنے کے دوران سوتی لباس جسم کو بھرپور تحفظ فراہم کرتا ہے۔
جاپان میں کی گئی تحقیق کے مطابق ہماری پشت میں واقع پسینے کے غدود ہر موسم میں جسم کو گیلا رکھنے کا عمل سرانجام دیتے رہتے ہیں۔گرمیوں میں پسینا سینے، گردن اور ہاتھوں پر بھی آجاتا ہے لیکن سب سے کم پسینا رانوں اور ٹانگوں پر آتا ہے۔
گرمیوں میں پیدل چلنے کے دوران جسم کے اور حصے تو پسینے کی وجہ سے ٹھنڈے رہتے ہیں، لیکن ٹانگوں میں درجہ حرارت زیادہ رہتا ہے، اس لیے تنگ پتلون یاچست پاجامہ پہننے کے بجائے نیکر یا ڈھیلا ڈھالا پاجامہ پہننا چاہیے۔ اس طرح ٹانگیں ٹھنڈی رہیں گی۔
جوتے پہننا بھی ضروری ہے ، بلکہ مناسب یہ ہے کہ روزانہ ایک ہی جوڑا استعمال نہ کیا جائے، تاکہ جوتوں کو اچھی سوکھنے کا موقع مل جائے۔ اس طرح پنجوں کو رگڑ سے محفوظ رکھنے کے لیے تلووں میں تھوڑی سی پٹرولیم جیلی لگائی جائے اور پسینا جذب کرنے والے موزے پہنے جائیں۔ گھر لوٹ کر انھیں دھوکر اچھی طرح خشک کرنا نہ بھولیے۔اس طرح آپ کے پیر پھپوندی (فنگس) کی تکلیف اور آبلوں سے بھی محفوظ رہیں گے۔
موسم سے شکست نہ کھائیے صبح کے ٹھنڈے اور صحت بخش وقت میں ان ہدایات پر عمل کر کے پیدل چلیے، ورزش کیجیے اور زندگی کا بھرپور لطف اٹھائیے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے