Ghizaon Ke Zariye Vitamin D Ki Kami Door Kijiye - Article No. 1948

غذاؤں کے ذریعے وٹامن D کی کمی دور کیجیے - تحریر نمبر 1948

منگل ستمبر

Ghizaon Ke Zariye Vitamin D Ki Kami Door Kijiye - Article No. 1948
جسم کو صحت مند رہنے کے لئے مختلف وٹامنز اور معدنیات کی ضرورت ہوتی ہے۔انہی میں سے ایک وٹامن ڈی بھی ہے جس کے حصول کا سب سے آسان ذریعہ سورج کی روشنی ہے۔وٹامن ڈی ہڈیوں کی مضبوطی اور اعصاب کی نشوونما کے لئے ضروری ہے۔یہ وٹامن کچھ غذاؤں جیسے مچھلی،اورنج جوس،پنیر اور انڈے کی زردی وغیرہ میں بھی موجود ہوتا ہے لیکن اسے صرف ان غذاؤں کی مدد سے مکمل طور پر حاصل کرنا مشکل ہے۔

جسم کو درکار وٹامن ڈی کی ضرورت پوری کرنے کے لئے سپلیمنٹس سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔وٹامن ڈی کی کمی بہت سے طبی مسائل پیدا کر سکتی ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔
ہڈیوں کی کمزوری
وٹامن ڈی ہڈیوں کی مضبوطی کے لئے ضروری ہے۔وٹامن ڈی ہڈیوں میں کیلشیم کو جذب ہونے میں مدد دیتا ہے جس سے ہڈیوں کی نشوونما میں اضافہ ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

اس وٹامن کی کمی کمر،جوڑوں اور گھٹنوں وغیرہ میں درد کا سبب بن سکتی ہے جو اس قدر شدید ہو سکتا ہے کہ روزمرہ کے کام انجام دینے میں مشکل ہو سکتی ہے۔


ڈپریشن
وٹامن ڈی کی کمی خون کے بہاؤ کی رفتار کو کم کرتی ہے جس سے ایک طرف تو اعصاب اور پٹھوں کے کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے ،دوسری جانب دماغ کی طرف خون کا کم بہاؤ ڈپریشن،مایوسی اور اداسی کے جذبات پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔
بہت زیادہ پسینہ آنا
وٹامن ڈی کی کمی جسم میں پسینہ کے غدود کو فعال کرتی ہے جس سے زیادہ پسینہ آتا ہے۔

یہ علامت نومولود بچوں میں بھی پائی جاسکتی ہے۔اگر کسی شخص یا بچے کو بہت زیادہ پسینہ آرہا ہو تو یہ وٹامن ڈی کی کمی کی علامت ہو سکتی ہے۔
بالوں کا جھڑنا
بالوں کا تیزی سے جھڑنا ذہنی دباؤ کی وجہ سے بھی ہوتا ہے تاہم وٹامن ڈی کی کمی بھی اس کی ایک وجہ ہے۔خواتین میں خاص طور پر بال جھڑنے کی ایک بڑی وجہ وٹامن ڈی کی کمی ہی ہے۔


پٹھوں میں درد
وٹامن ڈی کی کمی پٹھوں میں درد اور الرجی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ایسے افراد سپلیمنٹس کے ذریعے وٹامن ڈی کی کثیر مقدار لے کر اس تکلیف سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ہڈیوں،دانتوں،مسلز اور دیگر متعدد جسمانی افعال کے لئے وٹامن ڈی ضروری ہے۔وٹامن ڈی کی کمی سے جسم کے لئے کیلشیم یا فاسفورس کی مقدار کو ریگولیٹ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

یہ وہ وٹامن ہے جو جسم خود بنانے سے قاصر رہتا ہے۔اس کا حصول سورج کی روشنی سے ممکن ہے۔کچھ غذائیں بھی ایسی ہیں جو وٹامن ڈی کی کمی کو دور کرنے میں مفید ہو سکتی ہیں۔
مچھلی
مچھلی وٹامن ڈی کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے اور لگ بھگ ہر طرح کی مچھلی اس حوالے سے مفید ہے تاہم چربی والی مچھلی زیادہ فائدہ مند ہے ۔اس غذا کا ایک فائدہ اور بھی ہے اور وہ ہے دل کی صحت کے لئے فائدہ مند اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کا حصول۔


انڈے کی زردی
جو لوگ مچھلی کھانا پسند نہیں کرتے تو انڈے ایسے افراد کے لئے اچھا آپشن ہے۔انڈے وٹامن ڈی سے بھرپور ہونے کے ساتھ دیگر غذائی اجزاء بھی جسم کو فراہم کرتے ہیں۔انڈے کی سفیدی میں پروٹین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے مگر وٹامنز اور منرلز عام طور پر زردی میں ہوتے ہیں۔ ایک انڈے کی زردی سے کچھ مقدار میں وٹامن ڈی جسم کو ملتا ہے خصوصاً دیسی انڈوں میں یہ مقدار فارمی کے مقابلے میں تین سے چار گنا زیادہ ہوتی ہے۔


فورٹیفائیڈ ملک
گائے کا فورٹیفائیڈ دودھ وٹامن ڈی کے ساتھ ہوتا ہے مگر آئس کریم اور پنیر میں یہ خوبی موجود نہیں ہوتی۔
فورٹیفائیڈ اورنج جوس
اگر دودھ پسند نہیں تو کوئی مسئلہ نہیں،فورٹیفائیڈ اورنج جوس سے بھی اس کا حصول ممکن ہے،تاہم مختلف برانڈز میں اس وٹامن کی مقدار مختلف ہو سکتی ہے۔

تو لیبل چیک کرنا ضروری ہے۔
سپلیمنٹس
وٹامن ڈی سپلیمنٹس بھی بازار میں عام دستیاب ہیں۔مگر کسی سپلیمنٹس کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے سے ہی کرنا چاہیے۔
گائے کی کلیجی
گائے کی کلیجی میں وٹامن ڈی کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے۔اس سے دیگر غذائی اجزاء بھی جسم کو ملتے ہیں جیسے وٹامن اے ،آئرن اور پروٹین ،تاہم اس میں کولیسٹرول کی مقدار کافی زیادہ ہے تو اسے بہت زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہیے۔
تاریخ اشاعت: 2020-09-08

Your Thoughts and Comments