بند کریں
صحت مضامینمضامین گوشت خوری ہمارے معاشرے کا المیہ

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
گوشت خوری ہمارے معاشرے کا المیہ
مچھلی کھانے والے علم الحساب میں ماہر ہوتے ہیں اور ان کی ذہنی کارکردگی کا عمل بہت تیز ہوتا ہے گائے کے گوشت کے مسلسل استعمال سے فالج ‘استسقا‘بے حسی ‘کاہلی اور سرطان جیسے ا مراض لا حق ہو سکتے ہیں

مچھلی کھانے والے علم الحساب میں ماہر ہوتے ہیں اور ان کی ذہنی کارکردگی کا عمل بہت تیز ہوتا ہے
گائے کے گوشت کے مسلسل استعمال سے فالج ‘استسقا‘بے حسی ‘کاہلی اور سرطان جیسے ا مراض لا حق ہو سکتے ہیں
کہا جاتا ہے” آپ وہی کچھ کھائیں جو آپ کھاتے ہیں“ یہ بات کہا ں تک درست ہے ۔اس کا اندازہ لگانا قطعاََ مشکل نہیں ۔کیونکہ جو غذا ہم کھاتے ہیں وہ ہضم ہو کر جب جزوبدن بنتی ہے تو ظاہری وجود کی صورت میں سامنے آتی ہے ۔مثلاََ ایک صحتمند اور متوازن غذا یک صحتمند فرد تشکیل دیتی ہے جبکہ ناقص اور غیر متوازن غذا افراد بیماری اور فساد کو جنم دیتی ہے۔ ایک صحتمند غذا سے مراد غذا کا متوازن ہونا ہے ۔یعنی اس میں وہ تمام غذائی اجزاء مناسب مقدار میں موجود ہوں جن سے جسم کی نشو ونما صحیح خطوط پر ہو اور صحت بر قرار رہے ۔غذا میں عدم توازن نہ صرف صحت کی خرابی کا مو جب بنتا ہے بلکہ معاشرتی بگاڑکا سبب بھی بنتا ہے کیسے ․․․؟آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں ․․․ہم جو بھی غذا کھاتے ہیں وہ ہمارے جسم پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے ۔ہم جو کچھ کھاتے ہیں اس سے ہمار اخون بنتا ہے جو ہمارے پورے جسم میں گردش کرتا ہے اور دماغ کو توانائی فراہم کرتا ہے ۔اگر خون میں کثافت بڑھ جائے تو اس سے دماغی کثافت بھی بڑھ سکتی ہے جو سوچ پر بھی اپنا اثر چھوڑتی ہے ۔اس سے انسان کند ذہن ہو جاتا ہے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ گائے بھینس کے گوشت کی رغبت سے مجموعی طور پر ہماری فکر اور ذہن پر جمود طار ی ہوتا جارہا ہے ۔گائے‘ بھینس کا گوشت ذہنی اور جسمانی عوارض کو جنم دیتا ہے ۔حکیم محمد سعید شہید کہا کرتے تھے” مضر ترین گوشت اگر کوئی ہے تو وہ گائے بھینس کا ہے “قرآن کی سورہ واقعہ کی آیت 21میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”اور جنت میں پرندوں کا گوشت ملے گا “اب آپ خود ہی سمجھ جائیں کہ وہاں گائے بھینس کا گز رنہیں ہے۔گائے کے گوشت کا مسلسل استعمال سے فالج‘ استسقا‘بے حسی ‘کاہلی ‘سرطان جیسے امراض کا خطرہ ہے ۔نیز اس سے سوچ میں بھی فسادات پیدا ہوتے ہیں چونکہ گائے کا گوشت کھانے سے شریانوں میں سختی پیدا ہوتی ہے ۔اس لئے یہ قلب اور فشار خون کے امراض کا باعث بھی بنتا ہے ۔گائے کا گوشت چونکہ دیر سے ہضم ہوتا ہے اس لئے معدے میں غلاظت پیدا ہو جاتی ہے ۔شاہکار انسائیکلو پیڈیا کی جلد سوئم ”اسلامی سائنس “میں” حیوانیات“ کے باب میں صفحہ 109پر تحریر ہے ”گائے کا خون اگر کسی مجمع میں جلایا جائے تو لوگوں نفاق پیدا ہو جائے گا ۔“اس بات سے اندازہ لگائیے کہ گائے کے خون سے بننے والا گائے گوشت ذہن پر کس قدر مضر اثرات مرتب کرتا ہو گا ۔آپ گوشت ہی کھانا چاہتے ہیں تو پر ندوں یا مچھلی کا گاشت کھا ئیے ۔مچھلی قدرت کا ایک تحفہ ہے ۔یہ اتنی پھر تیلی ہوتی ہے کہ آپ ٹھہرے ہوئے پانی میں بھی اسے ہاتھ سے نہیں پکڑ سکتے ۔یہ بات زبان زدوعام ہے کہ مچھلی کھانے والے علم الحساب میں بہت تیز ہوتے ہیں یعنی ان کا ذہنی Processبہت تیز ہوتا ہے ۔ان میں چستی اور مہم جوئی کی خصوصیات بھی زیادہ ہوتی ہیں ۔اس کی مثال جاپانیوں میں نمایاں ہے جو دنیا سب میں سب سے زیادہ مچھلی کھاتے ہیں اور ان کے علم کی دھاک آج پوری دنیا پر بیٹھی ہوئی ہے ۔انگریزوں نے جب دنیا پر حکومت کی تھی تو ان کی خوراک میں مچھلی اور آلو کے چپس کی زیادتی تھی ۔ڈیڑھ ہزار سال قبل کے زمانے پر نگاہ دوڑائیں تو وہاں ہمیں ایک ممتاز قبیلہ” قریش“ نظر آتا ہے ۔قریش کے لغوی معنی ”شارک مچھلی“ کے ہیں۔ شارک مچھلی جو بہت سے سمندروں میں ہوتی ہی نہیں ہے اور اس دور میں جبکہ ذرائع ابلاغ بھی اتنے جدید نہ تھے شارک کے نام پر قبیلے کا نام رکھنے سے ہم قیاس کرسکتے ہیں کہ عربوں میں مچھلی کا استعمال کس قدر عام تھا ۔جبکہ ہمارے مچھلی کھانے والے افراد کی تعداد چند فیصد ہی ہے اور گائے بھینس کے گوشت کا استعمال کرنے والوں کی تعداد بے تحاشہ ہے۔بلکہ ہمارے ہاں تو گوشت کا استعمال اسٹیٹس سمبل بن چکا ہے اور اکثر افراد کے جسم تو گوشت ہی پرپل رہے ہیں ایسے ہی لوگوں کے لئے کہاجاتا ہے کہ بچپن سے جوانی تک انسان گوشت کھاتا ہے پھر وہی گوشت اسے کھانے لگتا ہے “غذائیت کے اعتبار سے ہم گائے‘ بھینس اوربکرے کا گوشت کیوں استعمال کرتی ہیں؟ تا کہ اس سے مکمل پر وٹین حاصل ہو ۔ہم غذائی نعم البدل سے بھی تو یہ سب کچھ حاصل کرسکتے ہیں ۔مثلا گائے ،بھینس اور بکر ے کے مہنگے گوشت کے بجائے سویا بین‘ لوبیا‘ چنے کی دال اور پھلیاں استعمال کی جاسکتی ہیں ۔صرف پروٹین کیلئے 3اونس گوشت کی جگہ 21/2پیالی دودھ یا 11/ 2پیالی پکی ہوئی پھلیاں استعمال کی جاسکتی ہیں ۔اگر ہم پروٹین کے حصول کا طریقہ بناتاتی رکھیں تو اس سے ہمیں ایک بہت بڑا فائدہو گا ۔وہ یہ کہ ہمارے ہاں گوشت خوری کی رغبت کی وجہ سے گوشت کا مطالبہ بڑھتا جارہا ہے جس کوپورا کرنے کے لئے نہ صرف بیمار‘مردہ اور اور ایج جانور لوگوں کو کھلائے جاتے ہیں بلکہ کئی دودھ دینے والے جانور بھی مذبح خانوں میں بھیج دےئے جاتے ہیں ۔جس سے دودھ کی قلت ہوتی جا رہی ہے اور اس کی قیمت میں اضافہ ہوتا جا ر ہا ہے یہی وجہ ہے کہ بیشتر ھگرانوں میں دودھ صرف چائے میں ڈالنے کے لئے ہی خریداجاتا ہے اس کے برعکس مغربی ممالک میں گوشت کے حصول کے لئے خصوصی جانور پالے جاتے ہیں اور دودھ دینے والے جانوروں کی قلت بھی نہیں ہوتی ۔یہی وجہ ہے کہ فاضل دودھ پاؤڈر یا ڈبے کی صورت میں ہم جیسے ممالک کو فروخت کردیا جاتا ہے ۔طبیب انسانیت نے واضح طور پر بتا دیا کہ گائے کے گوشت میں بیماری اور دودھ میں شفا ہے تو پھر ہمارے معا شرے میں گائے بھینس کے گوشت کی رغبت کیا معنی رکھتی ہے ۔آپ کے قول کے برعکس ہماری غذا سے دودھ تو مفقود ہوتا جارہا ہے جبکہ گوشت کھانے کا رواج بڑھ رہا ہے ۔ہم لوگ صدیوں سی گائے بھینس کا گوشت کھاتے آرہے ہیں اور․․․ معذرت کے ساتھ ہمارے معاشرے میں اکثریت کی تمام عادتیں بھی بھینس جیسی ہوتی جارہی ہیں مثلا․․․ عقلیں موٹی ہوتی جارہی ہیں ۔کاہلی‘ گندگی میں رہنا ‘گندگی پھیلانا ‘پٹنا‘ ہنکائے جانا اب ہماری سر شت میں شامل ہوتا جارہا ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں مسائل گفت و شنید کی
بجائے طاقت کے زور پر حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے