Gulab Ka Phool - Article No. 2252

گلاب کا پھول ۔ صحت اور خوبصورتی کا ضامن - تحریر نمبر 2252

منگل 21 ستمبر 2021

Gulab Ka Phool - Article No. 2252
ڈاکٹر حکیم وقار حسین
گھروں اور باغوں میں پائے جانے والے پھول قلب کے امراض،سینے،جلد،بال،معدے اور جگر کے لئے مفید ہوتے ہیں۔ان پھولوں میں گلاب کا پھول،جسے گلِ سرخ بھی کہتے ہیں،بصارت بہتر کرنے اور خون کی صفائی میں بہت فائدہ مند ہے۔یہ گرتے بالوں،گرمی کا اثر اور وزن کم کرنے اور جلد کی خوبصورتی کے لئے بے مثال پھول ہے۔

اگر گلاب کے پھول سے بنے قہوے میں ایک چائے کا چمچہ شہد بھی ملا لیا جائے تو قلب اور سینے کے امراض جاتے رہتے ہیں۔گلاب کے پھول کا شمار نادر ادویہ میں کیا جاتا ہے۔گلاب کی پتیاں نہ صرف چبانے میں،بلکہ قہوے کے طور پر پینے میں بھی فائدہ مند ہیں۔گلاب کی پتیوں سے بنی چائے شہد ملائے بغیر پینے سے معدے،جگر اور خون کی نالیوں کی صفائی ہو جاتی ہے۔

(جاری ہے)

اگر ان پتیوں کو دودھ میں اُبال کر پییں تو قبض اور قلب و سینے کے امراض سے چھٹکارا مل جاتا ہے۔گلاب کے خوشبودار پھولوں سے بنا شربت (شربتِ گلِ سرخ) یرقان،جگر کی گرمی،زبان کی خشکی اور جلد کی خارش دور کرنے میں اکسیر ہے۔
گلاب کے پھولوں سے ایک خاص طریقے سے قطرے نکال کر جمع کر لیے جاتے ہیں۔یہ قطرے آنکھوں کے امراض دُور کرنے میں بہت فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔

مثال کے طور پر یہ آنکھوں کے قطرے (آئی ڈراپس) آشوبِ چشم دور کرنے،آنکھوں کی میل (آنکھوں کے آنسو کے غدود سے خارج ہونے والی میل) آنکھوں کو نقصان پہنچائے بغیر صاف کرنے اور جلد کی پھپوندی سے نجات دلانے میں مدد کرتے ہیں۔نیز بیکٹیریا سے بھرے زخم کو بھی مندمل کر دیتے ہیں۔گلاب میں حیاتین الف،ب 2،ب 12،ج اور ھ (وٹامنز اے،بی 2،بی 12،سی اور ای) پائی جاتی ہیں۔

اس میں فولک ایسڈ اور مولبڈینم (Molybdenum) نامی معدن (منرل) وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ان کے علاوہ گلاب میں مانع تکسید اجزاء (Antioxidants)،لیسی تھن (Lecithin)،تورین (Taurine) اور اینتھوسیانن (Anthocyanin) اور فینولز (Phenols) بھی پائے جاتے ہیں۔اس میں موجود مانع تکسید اجزاء جلد کا رنگ نکھارتے ہیں،جھریاں دور کرتے ہیں اور جلد پر پڑے نشانات کو بھی ختم کرتے ہیں۔


گلاب کے پھول میں پائے جانے والی حیاتین ج مدافعتی قوت (Immunity) میں اضافہ کرتی ہے،خون کی گردش کو بہتر کرتی ہے اور مردہ خلیات (سیلز) کو رفع کرنے میں مدد کرتی ہے۔گلاب میں فولاد (آئرن) بھی ہوتا ہے،جو خون پیدا کرنے،خون کے سرخ خلیے بنانے اور چہرے پر سرخی لانے میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔گلاب حیاتین الف سے بھرپور ہوتا ہے۔یہ حیاتین آنکھوں اور ہڈیوں کے لئے بہت فائدہ مند ہے۔

حیاتین الف آنکھوں کے حلقے دُور کرنے میں نافع ہے۔اس میں ایک ایسا خامرہ (انزائم) بھی ہوتا ہے،جو خون میں فولاد بنانے کے عمل کو تیز کر دیتا ہے،اسے فولک ایسڈ کہتے ہیں۔نیز مدافعتی قوت پیدا کرنے والے اجزاء کو بڑھانے میں جست (زنک) بھی بہت موٴثر معدن ہے،یہ بھی گلاب کے پھول میں موجود ہوتا ہے۔گلاب کے پھول میں موجود مانع تکسید اجزاء بہت اہمیت و افادیت کے حامل ہوتے ہیں،ان کی کمی سے سرطان اور ذیابیطس جیسے امراض لاحق ہو جاتے ہیں اور جھریاں بھی نمودار ہو جاتی ہیں۔

گلاب کا پھول صحت اور نشوونما میں بہت کارگر ثابت ہو چکا ہے۔
گلاب کا پھول قلب اور گردے کے امراض میں،گرمی سے ہونے والے سر کے درد،فضلے کی مقدار بڑھانے،زخم کو مندمل کرنے،وزن کم کرنے،بصارت تیز کرنے،بھوک لگانے،بال خورے سے نجات دلانے اور استسقا (ایک بیماری جس میں پیٹ بڑھ جاتا ہے اور پیاس بہت لگتی ہے) سے چھٹکارا دلانے میں معاونت کرتا ہے۔

گرمی کی وجہ سے اگر کسی فرد کے سر میں درد رہتا ہو تو اُسے چاہیے کہ وہ گلاب کی پتیوں کی چائے بنا کر اُس میں مناسب مقدار میں شکر ملا کر پیے یا اس کی پتیوں کا لیپ ماتھے پر لگائے،سر کا درد جاتا رہے گا۔اگر قبض رفع کرنے کے لئے کھانا مقصود ہو تو گائے کے گرم دودھ میں تھوڑی سی شکر شامل کرکے اس میں گلاب کی پتیاں ڈال دیں،نیم گرم ہونے پر دودھ پی لیں،بہت موٴثر ہے،نہار منہ پینے سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔


ہائی بلڈ پریشر کے لئے گلاب کے شربت کا پینا بہت سود مند ثابت ہوتا ہے۔اس سے ہائی بلڈ پریشر نارمل ہو جاتا ہے۔جو خواتین خوبصورت اور نرم و ملائم جلد کی خواہش مند ہوں،انھیں گلاب کی پتیوں کا سفوف کسی اچھی کریم میں ملا کر رات کو چہرے پر لگانا چاہیے۔پھر دو گھنٹے بعد کسی معیاری صابن یا فیس واش سے اپنا چہرہ دھو لینا چاہیے۔اگر وہ بہت اچھے نتائج چاہتی ہوں تو کریم کو رات بھر لگا رہنے دیں۔


جن افراد کا مزاج بلغمی ہو یا جنھیں نزلہ زکام زیادہ رہتا ہو،وہ گلاب کی خوشبو سے متاثر ہو کر بیمار پڑ سکتے ہیں،ایسے افراد کو گلاب کی خوشبو سے بچنا چاہیے۔اس ضمن میں انھیں اپنے معالج سے مشورہ کرنا چاہیے۔عام طور پر گلاب کے پھول کی خوشبو ہر فرد کے دماغ کو قوت اور قلب کو فرحت و مسرت بخشتی ہے۔گلاب کے پھول سے ہی گل قند تیار کیا جاتا ہے،جو اسہال لانے میں موٴثر ہوتا ہے۔فالج میں مبتلا ایسے مریضوں کو جنھیں جھٹکے لگتے ہوں اور رعشے کے مریضوں کو گلاب کا پھول استعمال نہیں کرنا چاہیے۔اس کی مصلح (ضرر سے بچانے والی) انیسوں نامی دوا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2021-09-21

Your Thoughts and Comments