Hadion Ka Bhar Bhara Pan - Article No. 1370

ہڈیوں کا بھر بھراپن - تحریر نمبر 1370

منگل 18 ستمبر 2018

Hadion Ka Bhar Bhara Pan - Article No. 1370

لیاقت علی جتوئی
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت کے مطابق ،آسٹیو پوروسس (ہڈیوں کا بھر بھراپن )، دل کے امراض کے بعد دنیا بھر میں سب سے زیادہ پایاجانے والا عارضہ ،یعنی انسانی صحت سے متعلق دوسرا سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔اس مرض میں ہڈیوں کی لچک میں کمی آجا تی ہے اور وہ بھر بھرے پن اور نرم پڑجانے جیسے مسائل سے دو چار ہو جاتی ہیں ۔

ہڈیوں کے کمزور ہوجانے کے باعث ان کے ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ہڈی ایک زندہ ٹِشو ہے ،جو مستقل طور پر بنتی رہتی ہے اور اس کے پُرانے حصے ختم ہوتے رہتے ہیں ۔ہڈی 30سے 40برس کی عمر کے دوران اپنی بھر پور حالت میں ہوتی ہے ،جبکہ اس کے بعد جوں جوں بڑھتی ہے ،ہڈیاں گھلنا شروع ہو جاتی ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ ،کون سے ایسے خلیے ہیں جو ہڈیوں کو بناتے اور توڑتے ہیں۔

(جاری ہے)

آپ کو بتاتے چلیں کہ اوسٹیو کلاسٹ نامی خلیے ،ہڈیوں کو توڑتے ہیں ،ان ٹوٹی ہوئی ہڈیوں میں پُرانے خلیے کی جگہ نئے خلیے بنتے ہیں ۔اس عمل کو طب کی زبان میں اوسٹیو بلاسٹ کے نام سے جانا جاتا ہے ۔اس طرح ہمارے جسم کے اندر ہڈیوں کے ٹوٹنے اور بننے کے عمل میں توازن قائم رہتا ہے ۔ڈھلتی عمر،ورزش نہ کرنے ،متوازن خوراک کی کمی اور خواتین میں ماہواری بند ہونے کے بعد ،ہڈیوں کے ٹوٹنے کاعمل تیز ہو جاتا ہے ۔

ہڈیوں کے بھربھرے پن یا خستہ ہونے کی بیماری میں ہڈیوں کو توڑنے والے خلیے یعنی اوسٹیو کلاسٹ اپنا کام تیز کرکے اوسٹیو بلاسٹ ،جو ہڈیوں کے جوڑنے کے خلیے ہیں۔

ان کے کام کو ضائع کردیتے ہیں ۔مطلب یہ کہ ہڈیوں کے ٹوٹنے کا عمل تیز اور بننے کا عمل سسُت ہونے کی وجہ سے ہڈیوں کے بھربھرے پن کا آغاز ہوتا ہے ۔اس عمل کے نتیجے میں ہڈیاں زیادہ پتلی اور زیادہ کمزور ہوتی چلی جاتی ہیں اور پھر ذراسا دباؤ پڑنے سے بھی ٹوٹ جاتی ہیں ۔

ماہرین کے مطابق ،مردوں کے مقابلے میں عورتوں میں یہ مرض زیادہ پایا جاتا ہے ۔عورتوں میں 45برس کی عمر کے بعد یہ مرض پیدا ہوتا ہے جبکہ مردوں میں 50برس میں آسٹیو پوروسس ہوتا ہے ۔مردوں کے مقابلے میں عورتوں میں یہ مرض 40فیصد زیادہ ہوتا ہے ۔اگر پاکستان کی بات کریں تو ،غیر سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ،پاکستان میں 75سے 84برس کی 97فیصد ،جبکہ 45سے 54برس کی 55فیصد خواتین آسٹیو پوروسس کا شکار ہیں ۔

یہ بیماری یوں تو پورے جسم کی ہڈیوں کو متاثر کرتی ہے ،لیکن ریڑھ ،گھٹنے ،کولہے اور کلائی پر اس کا زیادہ اثر پڑتا ہے ۔ہڈیوں کی مضبوطی کا تعلق سورج کی روشنی یادھوپ سے بھی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ یہ مرض پاکستان کے دیہی علاقوں سے زیادہ شہروں میں پایا جاتاہے ۔عموما ہمارے یہاں شہروں میں رہنے والے لوگ جن کا دھوپ میں نکلنا نہیں ہوتا ،دودھ نہیں پیتے اور مچھلی نہیں کھاتے،ان لوگوں کو ہڈیوں کا مسئلہ ہو جاتا ہے ۔

اس کے مقابلے میں دیہی علاقوں میں رہنے والی خواتین جو کھیتوں میں کام کرتی ہیں ،ان میں آسٹیو پوروسس کی شرح کم ہے۔

دوسرے لفظوں میں یہ کہہ لیں کہ ہم نے جتنا جدید لائف اسٹائل اختیار کیا ہے ،مثلا اےئر کنڈ یشز میں سونا، دھوپ میں نہ نکلنا اور موٹاپے کے ڈر سے مناسب غذانہ لینا،ان تما م عوامل کا نتیجہ آسٹیو پوروسس کی صورت میں سامنے آتا ہے ۔

طبی ماہرین کے مطابق ،آسٹیو پوروسس کی بعض دیگر وجوہات میں بڑھتی عمر ،خاندان میں پہلے سے اس بیماری کا موجود ہونا،جسمانی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے کی عادت ،بہت زیادہ کیفین کا استعمال ،کیلشیم کی کمی،تھائرائڈ ہار مونز کا مسئلہ ،اور اسٹیر ائڈز کا استعمال وغیرہ شامل ہیں ۔اکثر ماہرین اسے ایک ’خاموش بیماری ‘کا نام بھی دیتے ہیں ،کیونکہ اس میں ہڈیوں کی فرسودگی کا عمل کسی تکلیف کے محسوس ہوئے بغیر سسُت روی سے جاری رہتا ہے ۔

یہ ممکن ہے کہ ،آسٹیوپوروسس ہونے کے بعد مریض درد یا تکلیف محسوس کرنے لگے۔جن لوگوں کو یہ مرض ہو،اگر وہ کسی وجہ سے گر جائیں ،تو گرنے اوراُٹھنے کے دوران ،ان کے ہاتھوں یا پیر کی ہڈی میں فریکچر ہو جاتا ہے ۔اس بیماری کی علامات عموماََ دیر سے ظاہر ہوتی ہیں ۔اس کی ابتدائی علامات میں، مریض کو جوڑوں کے درد کے ساتھ ساتھ اُٹھنے بیٹھنے میں بھی تکلیف محسوس ہوتی ہے ۔

ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ ،اگر اس مرض میں مبتلا افراد ،دواؤں سے بچنا چاہتے ہیں تو صرف بیس منٹ روزانہ سن باتھ لیں (سورج کی دھوپ میں گزاریں )۔اگر صرف بیس منٹ بھی ایسا کیاجائے تو ہمارے جسم کی روزانہ کی وٹامن ڈی تھری کی ضرورت پوری ہو جا تی ہے۔ یہ وٹامن ہڈیوں میں کیلشیم کو جمع کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے ۔ہماری جلد میں یہ وٹامن پہلے سے موجود ہوتا ہے ،جو سورج کی روشنی جسم پر پڑنے سے متحرک ہوجاتا اور ہڈیوں تک کیلشیم کو پہنچا نا شروع کر دیتا ہے ۔

اس کے علاوہ ،غذا کے ذریعے مردوں اور خصوصاََ خواتین کو کیلشیم ضرور حاصل کرنا چاہیے ۔یہ دودھ او ر اس سے بنی دیگر اشیاء ،ہری سبزیوں اور مچھلی سے حاصل ہو سکتا ہے ۔اس کے برعکس ،فاسفورس ،پروٹین اور نمک کا روزانہ ضرورت سے زیادہ استعمال کرنا آسٹیو پوروسس کی وجہ بنتا ہے ،اس کی وجہ یہ ہے کہ زیادہ پروٹین اور فاسفورس پر مشتمل غذائیں ،پیشاب کے ذریعے کیلشیم کے اخراج میں اضافے کا سبب سمجھی جاتی ہیں ۔ریفا ئنڈ شوگر بھی جسم میں کیلشیم کی کمی بڑھاتی ہے ۔

تاریخ اشاعت: 2018-09-18

Your Thoughts and Comments