بند کریں
صحت مضامینمضامینہلدی سے شفا حاصل کیجیے

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ہلدی سے شفا حاصل کیجیے
ہلدی کی رنگت پیلی ہوتی ہے۔ یہ جنوبی ایشیا میں پائی جاتی ہے ۔ یہ بڑی مفید شے ہے ۔چوٹ لگ جائے تو دودھ میں ہلدی ڈال پیو، تو غلط نہیں تھا، اس لیے کہ ہلدی میں زخم کو مندمل کرنے کی خاصیت ہے۔ اسے گرم دودھ میں گھول کر پیا جاسکتا ہے ۔ جسم پر چوٹ کی صورت میں اس کا لیپ لگایا جاتا ہے ۔
شکیل صدیقی :
ہلدی کی رنگت پیلی ہوتی ہے۔ یہ جنوبی ایشیا میں پائی جاتی ہے ۔ یہ بڑی مفید شے ہے ۔چوٹ لگ جائے تو دودھ میں ہلدی ڈال پیو، تو غلط نہیں تھا، اس لیے کہ ہلدی میں زخم کو مندمل کرنے کی خاصیت ہے۔ اسے گرم دودھ میں گھول کر پیا جاسکتا ہے ۔ جسم پر چوٹ کی صورت میں اس کا لیپ لگایا جاتا ہے ۔
ہلدی میں ورم اور سوزش دور کرنے کی خاصیت ہے۔ اپنی اس خاصیت کی بنا پر اسے ہندوستان اور چین میں کھانوں اور دواؤں میں استعمال کیاجاتا ہے۔ سوجن دور کرنے کے علاوہ یہ ریاح کوکم اور یرقان کو ختم کرتی ہے۔ پیشاب میں اگر خون آرہا ہوتو ہلدی کھانے سے رک جاتا ہے ۔ یہ دانتوں کا درد بھی دود کرتی ہے۔ اگر جسم پر کہیں چوٹ لگ جائے ، سینے یا پیٹ میں درد ہو یا جریان خون ہو توہلدی استعمال کی جاسکتی ہے ۔
ہلدی ” کرکیوما“ نامی پودے کی جڑ ہے۔ ہلدی کا اُوپری حصہ سخت اور بھورا ہوتاہے، جب کہ اندر سے یہ گہری نارنجی اور نرم ہوتی ہے ۔ یہ فولاد اور مینگینز حاصل کرنے کا اچھا ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ اس میں حیاتین ب 6(وٹامن 6) ریشہ اور پوٹاشیئم بھی ہوتا ہے۔ تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ہلدی بہت سی بیماریوں میں فائدہ مند ہے، کیوں کہ اس میں شفابخشنے کی خاصیت زیادہ ہوتی ہے ۔
جنوبی ایشیا میں اسے کھانوں میں رنگ اور ذائقہ پیداکرنے کے لیے ڈالاجاتا ہے۔ اسے مسالے کے طور پر اچار اور چٹنی میں بھی شامل کرتے ہیں ۔ ہلدی کے مزید فائدے ہیں ۔
یہ دافع عفونت ہے اور اگر زخم اور چوٹ پر لگائی جائے تو انھیں جراثیم سے پاک کرتی ہے ۔
یہ قدرتی طور پر جگر کو زہریلے اثرات سے پاک کرتی ہے ۔
یہ الزائمر(نسیان کامرض ) کا خاتمہ کرسکتی ہے اور اس کے اثرات کابتدریج ازالہ بھی کرتی ہے ۔ دماغ میں پیدا ہونے والے ایک خاص مادے (AMYLOYD PLAQUE) کو ختم کرتی ہے، اس مادے سے الزائمر کی شکایت ہوجاتی ہے ۔
ہلدی دوسری ادویہ کی طرح سے سوجن اور جلن کو ختم کرتی ہے، لیکن اس کے پہلوائی اثرات نہیں ہوتے ۔ یہ جوڑوں کاورم دور کرنے کا قدرتی علاج ہے ۔
قدرتی طور پر ہلدی درد دور کرکے آرام پہنچاتی ہے ۔
جسم میں چکنائی کو کم کرتی اور وزن کو تناسب میں رکھتی ہے۔
طوریل عرصے سے ہلدی چین میں اضمحلال وافسردگی (ڈپریشن ) دور کرنے والی ادویہ میں استعمال کی جارہی ہے ۔
یہ زخموں کو تیزی سے مندمل کرتی اور مجروح جلد کی جگہ نئی جلد پیداکرتی ہے ۔
ہلدی بہت سے جلدی امراض جن میں چنبل (PSOPIASIS) بھی شامل ہے، کاخاتمہ کرتی ہے ۔
ہلدی مستقل طور پر کھانے سے آپ کو بتدریج معلوم ہوجائے گا کہ یہ اور کن کن امراض کے لیے مفید ہے ہلدی کو درج ذیل طریقوں سے بھی کھایاجاسکتا ہے ۔
اُبلے ہوئے انڈوں پر معمولی مقدار میں ہلدی چھڑکنے سے نہ صرف ذائقے میں اضافہ ہوتا ہے، بلکہ خوشبو بھی پیداہوتی ہے ۔
ہلدی کو شورب میں ذائقے اور خوشبو کے لیے ڈالا جاتا ہے، مگر اسے پھول گوبھی، ہری پھلیوں اور پیاز کے ساتھ پکانے پر کھانے کا ذائقہ بڑھ جاتا ہے ۔
پازکترنے کے بعدا س میں مایونیز، نمک اور سیاہ مرچ شامل کرکے سلاد بنالیں۔ پھرہلی ہوئی پھول گوبھی اور پالک کے اوپر تھوڑی سی ہلدی چھڑک کرسلاد کے ساتھ کھائیں ۔ بہت مزہ دے گی ۔
مسور کی دال پکاتے وقت اگر اس میں ہلدی بھی شامل کردی جائے تو دال کے ذائقے میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔
کسی بھی قسم کا سلاد بنانے کے بعد اگر اوپر سے تھوڑی سی ہلدی چھڑک دی جائے تو سلاد کی رنگت خوش نما ہونے کے ساتھ ساتھ ذائقہ بھی اچھا ہوجاتا ہے ۔
پھول گوبھی پکاتے وقت اس میں ہلدی ڈال دیں اور زیتون کاتیل ، نمک اور شیاہ مرچ بھی شامل کردیں تو ایک بہت مزے دارڈش تیا ہوجائے گی ۔
جن افراد کے پتے میں پتھری ہویاجنھیں قے اور متلی کی شکایت رہتی ہو، انھیں ہلدی نہیں کھانی چاہیے ۔ حاملہ خواتین ہلدی کھاسکتی ہیں، مگر معالج سے مشورہ بہت ضروری ہے ۔

(2) ووٹ وصول ہوئے