بند کریں
صحت مضامینمضامینحرام فوڈز

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
حرام فوڈز
اسلام میں حلال و حرام پر واضح احکامات ہیں۔ ذبحہ سے لے کرکھانے پینے کی اشیاء تک اس سلسلے میں مسلمانوں کو آگاہ کیا گیا ہے۔ اسلامی ممالک میں کسی بھی چیز کے حلال ہونے کے بارے میں احتیاط بھی کی جاتی ہے
دین اسلام انتہائی سادہ اور فطرت کے عین مطابق ہیں۔ اس کی تعلیمات اپنے پیروکاروں کیلئے اس قدر سخت اور خلاف فطرت نہیں کہ ان پر ہر چیز حرام قرار دے کر انہیں دنیاوی نعمتوں سے کنارہ کش ہوجانے کی شرائط عاید کر دے۔ البتہ اسلام میں حلال و حرام، جائز و ناجائز اور صحیح غلط کی پہچان کے سلسلے میں کچھ قواعد و ضوابط مقرر ہیں جو قرآن و حدیث سے بآسانی اخذ کئے جا سکتے ہیں۔ عرب کے مشہور مصنف علامہ یوسف القرضاوی نے کئی علمی و تحقیقی کتب رقم کیں۔ ان کی کتاب الحلال و الحرام فی الاسلام انسانی ضابطہ حیات سے متعلق ایسے مسائل پر مشتمل ہے جس سے ہم سب کو اکثر و بیشتر واسطہ رہتا ہے۔ حرام و حلال کے بارے میں وہ لکھتے ہیں اہل جاہلیت جن باتوں میں گمراہی کا شکار ہوگئے تھے ان میں سے ایک حلال و حرام کا معاملہ بھی تھا۔ اسلام نے لوگوں کو گمراہی سے نکال کر حلال و حرام کے معاملہ کی طرف متوجہ کیا اور ان امور کی تشریح کر کے اصول و ضوابط مقرر کئے۔ اسلام نے جن باتوں کو حلت و حرمت کی اساس بتایا اس پر عمل کرنے کے نتیجہ میں اعتدال و توازن پیدا ہوا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جس شے یا عمل کو حلال ٹھہرایا، وہ حلال ہے اور جس کو حرام ٹھہرایا وہ حرام ہے اور جن چیزوں کے بارے میں سکوت فرمایا ہے وہ معاف ہیں۔ حضرت سلمان فارسی سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ نے گھی، پنیر اور گورخر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ”حلال وہ ہے جسے اللہ نے اپنی کتاب میں حلال ٹھہرایا اور حرام وہ ہے جسے اس نے اپنی کتاب میں حرام ٹھہرایا ہے۔ پھر ایسی چیزیں جن کے بارے میں سکوت فرمایا ہے وہ معاف کر دی گئی ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ نبی اکرم نے جزئیات کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھا بلکہ ایک ایسا قاعدہ بیان فرمایا کہ جس سے حلال و حرام میں بآسانی تمیز کی جا سکتی ہے۔ چنانچہ اس بحث کے پیش نظر یہ جان لینا کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے ان کے ماسوا جو چیزیں ہیں وہ آپ ہی حلال و طیب قرار پائی ہیں۔ “
اسلام میں حلال و حرام پر واضح احکامات ہیں۔ ذبحہ سے لے کرکھانے پینے کی اشیاء تک اس سلسلے میں مسلمانوں کو آگاہ کیا گیا ہے۔ اسلامی ممالک میں کسی بھی چیز کے حلال ہونے کے بارے میں احتیاط بھی کی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ اب اسلامی ممالک میں فروخت کیلئے یورپی ممالک سے آنے والی اشیاء پر حلال فوڈز کے الفاظ واضح طور پر درج ہوتے ہیں۔ گذشتہ دنوں قومی اسمبلی کے اجلاس میں جے یو آئی (ف) کی خاتون رکن اسمبلی نے ان قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کا انکشاف کر کے سب کو حیران کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد کے سٹور پر بچوں کے لئے ایسی جیلی، چیونگم و دیگر اشیاء دستیاب ہیں جن کی خریداری کے بعد متعلقہ لٹریچرپڑھنے سے ان اشیاء میں غیر حلال اجزاء شامل ہونے کی نشاندہی ہوئی ہے۔
حلال اتھارٹی کا قیام ضروری ہے!
چیئرمین طارق بشیر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا اجلاس ہوا جس میں وزارت کو حرام اشیاء کی روک تھام کے لئے تمام چیف سیکرٹریز کو مراسلہ لکھنے کی ہدایت کی گئی۔کمیٹی کے ارکان نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت حرام اشیاء کی فروخت میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرے۔ حرام اشیاء کی فروخت میں غفلت برتنے والے افسران کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ حلال اتھارٹی کے قیام سے متعلق ڈرافٹ بل کابینہ ڈویڑن اور مشترکہ مفاداتی کونسل کو بھجوایا جائے۔ ایک اطلاع کے مطابق پاکستان میں 67 فیصد درآمدی خوردنی اشیاء میں حرام اجزاء کی آمیزش ہوتی ہے اور اہم بات یہ ہے کہ وطن عزیز میں ایسے حرام فوڈز کی درآمد روکنے کے سلسلے میں کوئی ادارہ موجود نہیں۔
حرام اشیاء کے حوالے سے جے یو آئی (ن) کی خاتون ممبر قومی اسمبلی نے حرام خوردنی اشیاء کی خرید و فروخت کے حوالے سے ایوان کی توجہ دلوائی تو وزارت میں سائنس و ٹیکنالوجی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری نے انکشاف کرتے ہوئے 23 خوردنی اشیاء کی فہرست پیش کی جس میں حرام اجزاء شامل ہیں۔ جن میں دہی (یوگرٹ چپس، پیزا، چکن اور نوڈلزشامل ہیں۔ اور یہ اشیاء زیادہ تر ہالینڈ، سپین، امریکہ فرانس، برطانیہ ڈنمارک انڈونیشیاء اور کئی ممالک سے آ رہی ہیں۔ اور ان اشیاء کے حلال اور معیاری ہونے کے بارے میں جانچ پڑتال کرنے والا کوئی ادارہ موجود نہیں۔ جبکہ کئی دوسرے اسلامی ممالک بھی کھانے کی یہ اشیاء درآمد کرتے ہیں مگر وہ اس کے حلال ہونے کا سرٹیفکیٹ بھی طلب کرتے ہیں۔
چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کا کہنا ہے ہمیں ان اشیاء کے فروخت ہونے پر تشویش ہے، جن میں حرام اجزا شامل ہیں خاص کر وہ چیزیں جو بچے استعمال کرتے ہیں۔ ہمیں بتایا گیا کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے پاکستان حلال اتھارٹی کے قیام کا بل پیش کیا ہے۔ اگرچہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد خوراک صوبائی معاملہ ہے ، لیکن اس معاملے میں ایک مرکزی اتھارٹی کا قائم ہونا ضروری ہے۔ پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں ہماری پوری کوشش ہو گی کہ یہ ادارہ قائم ہو۔ کیونکہ موجودہ قوانین کے تحت صرف کسٹم حکام کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ایسی اشیاء کو ملک کے اندر نہ آنے دیں۔ پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں اپنی کمیٹی کی رپورٹ پیش کریں گے، تاکہ حکومت قانون سازی کے ذریعے حرام غذائی اشیاء کی پاکستان میں درآمد پر پابندی لگادے۔ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے جوائنٹ ٹیکنیکل ایڈوائزر نے بتایا کہ پاکستان حلال اتھارٹی ایکٹ 2014ء زیر غور ہے۔ اسے کابینہ میں منظوری کے لئے اس وقت بھیجا جائے گا، جب صوبائی حکومتیں اس پر راضی ہو جائیں گی۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ یہ معاملہ کونسل آف کامن انٹرسٹ میں لایا جائے۔ اگرچہ امپورٹ پالیسی کے تحت واضح ہدایت موجود ہے کہ پاکستان میں حلال خوردنی اشیاء ہی درآمد ہو سکتی ہیں جو ہر حال میں حرام اجزا سے پاک ہوں۔ لیکن بسااوقات اس حکم کی پاسداری میں کوئی نہ کوئی غفلت رہ جاتی ہے۔ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے یہ بل کابینہ اور کونسل آف کامن انٹرسٹ میں بھیج دیا ہے۔ یہ بل مارچ میں کونسل آف کامن انٹرسٹ میں زیر بحث آئے گا۔ یہ اتھارٹی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے تحت قائم ہو گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس وہ تمام سائنسی سہولیات میسر ہیں اور پاکستان اسٹینڈرڈ کنٹرول اتھارٹی بھی ہے، جس نے حلال اشیاء کا اسٹینڈرڈ بنایا۔ اس کے علاوہ وزارت کے تحت پاکستان نیشنل ایکریڈیٹیشن کونسل موجود ہے، جو ان اشیاء کا تصدیق نامہ جاری کرتی ہے۔

(5) ووٹ وصول ہوئے