Hari Bhari Salad Khaye

ہری بھری سلاد کھائے

بدھ اکتوبر

Hari Bhari Salad Khaye

راحت شہناز
مانع تکسیدی اجزاء سے بھر پور.
آپ کی سلاد پلیٹر میں نارنجی ،سبز زردی مائل سرخ ،سفید دودھیا اور جامنی رنگ اپنے علیحدہ علیحدہ اثرات کے حامل بھی ہیں اور یہ وٹامن Cکے ساتھ ساتھ بہترین اینٹی آکسیڈ نٹس یعنی مانع تکسیدی صلاحیتوں سے مالامال بھی ہے ۔
علاوہ ازیں بیٹا کیرو ٹین اور کیرنائیڈز بھی ہیں ۔ایک محتاط اندازے کے مطابق 7ملی گرم کے برابر وٹامن Cایک کپ پالک میں 93%فیصد اور صرف سلاد کے پتے ہی میں 88فیصد پایا جاتا ہے ۔


اگر آپ میڈیم سائز کی ایک گاجر بھی روزانہ اپنے پلیٹر میں شامل کرلیتی ہیں تو اینٹی آکسیڈنٹس کی مقدار وسیع ہو جائے گی ۔ٹماٹر ،بروکولی ،بھاپ میں پکی ہوی سلاد ،مٹر ،گوبھی اور کٹی لال مرچ چٹکی بھر ملا لیتی ہیں تو سلاد کا بھر پور اور متوازن پلیٹر ہو گا ۔

(جاری ہے)


پروٹین سے بھر پور
کھانے میں گوشت کا موجود ہونا ضروری نہیں بلکہ غذائیت کا معیار اس کھانے میں موجود غذائی اجزاء پر ہوتا ہے ۔

جانوروں سے حاصل کردہ پروٹین زائد مقدار میں استعمال کیا جائے تو دل کی بیماری،جسم سے کیلیشئیم کااخراج اور معدے کا کینسر پیدا کرتا ہے جبکہ دالیں اور سبزیاں پروٹین کی ضرورت کو پورا کرسکتی ہیں ۔اسی طرح کم چکنائی والا پنیر بھی سلاد میں شامل کر لیا جائے تو آپ کی سلاد بھر پور غذائی پروٹین مہیا کرتی ہے ۔تا ہم اگر آپ کبھی کبھار ابلی ہوئی مرغی اور چکنائی سے پاک سرخ گوشت کے قتلے شامل کر لیں تو سلاد کا ذائقہ قدرے تبدیل ہوجاتا ہے ۔

مگر پھر آپ اپنا پورشن سائز چھوٹا رکھئے ۔یہ ہر گز بھی فربہہ نہیں کرے گا ۔
صرف ہری سبزیاں وزن کو اعتدال میں رکھتی ہیں
دو کھانوں کے درمیانی وقفے میں موسم کی تمام ہری سبزیاں بھاپ میں پکا کر تازہ زیتون یا زیتون کے تیل کے چند قطرے باہم ملا کر کھانے سے وزن کنٹرول میں رہتا ہے ۔ایک درمیانی پیالے میں دستیاب ہری سبزیوں پر مشتمل سلاد سے 150حرارے (کیلوریز)حاصل کی جاسکتی ہیں ۔


اسمارٹ فیٹس ،محتاط انتخاب
بلاشبہ چند چکنائیاں صحت کے لئے ناگزیر بھی ہیں اور جن کا اعتدال سے استعمال مہلک امراض سے بچاؤ بھی کرتا ہے مثلاََ مونوان سچور ئیٹڈ فیٹ زیتون کے تیل ،آواکا دو اور خشک میوؤں میں موجود ہوتا ہے ۔یہ بے ضرر چکنائی آپ کی سلاد کو فائٹو کیمیکلز مہیا کرتی ہے جو جسم میں جذب ہو کر تو انائی مہیا کرتے ہیں ۔سلاد میں 1/2یاد وکھانے کے چمچ کے برابر آواکادو کی مقدار اسے مقوی بنا دے گی ۔

کیا آپ جانتی ہیں کہ یہ اتنی سی مقدار آٹھ گنا زائد مقدار میں الفا کیروٹین اور 13گنا زیادہ بیٹا کیروٹین کی مقدار مہیا کر سکتی ہے ۔سلاد کی اس قسم کو ایک ہفتے میں تین بار کھانے کی روٹین بنا لی جائے تو کینسر جیسے مہلک مرض سے بچاؤ آسان ہو جاتا ہے ۔
اپنے شہر کے سلاد باروں کا رخ کیجئے
پاکستان کے ہر بڑے شہر میں بنی بنائی تیار سلاد کی دکانیں موجود ہیں مثلا کراچی میں خیابان سحر پر Evergreenکے آؤٹ لیٹ پر فیٹا اور شی ٹیک مشرو مز سلاد ،تلوں کے ساتھ Snappersاور Caesar Salad Wrapدستیاب ہے۔

لاہور اور اسلام آباد میں بھی سلاد کی چند آؤٹ لیٹس پر بحیرہ اوقیانوس ،اٹلی ،ترکی اور بحیرئہ روم میں کاشت ہونے والی جڑی بوٹیاں اور ہری سبزیاں کی جاتی ہیں جنہیں مقامی سبزیوں کے ساتھ باہم ملا کر شاندار سلاد کے Wrapsبنائے جاتے ہیں ۔صحت کا شعور رکھنے والے شائقین اپنے شیڈول میں انہیں شامل کرتے ہیں ۔بہر حال پاکستان میں آرٹی چوک ،اور یگانو ،باسل ،پارسلے اور دیگر جڑی بوٹیاں درآمد کی جانے لگی ہیں بہتر ہے کہ سلاد کے سادہ پلیٹر کو ذائقہ دار بنا کر کھائیں اور دیر پا صحت وتندرستی پا ئیں ۔

تاریخ اشاعت: 2018-10-03

Your Thoughts and Comments