Hathoon Ki Safai Wabai Amraz Se Mehfooz Rehne Ka Tariqa - Article No. 1918

ہاتھوں کی صفائی وبائی امراض سے محفوظ رہنے کا طریقہ - تحریر نمبر 1918

منگل اگست

Hathoon Ki Safai Wabai Amraz Se Mehfooz Rehne Ka Tariqa - Article No. 1918
ہاتھوں کی صحت و صفائی سے متعلق ایک بہت اہم کام ہے۔پورے دن میں ہم مختلف لوگوں اور آلودہ سطحوں کے ساتھ براہ راست رابطے سے اپنے ہاتھوں پر جراثیم جمع کرتے رہتے ہیں۔اگر ہم ہاتھوں کی صفائی پر درست طریقے سے عمل نہ کریں تو ہم اپنی آنکھوں،ناک یا منہ کو چھونے سے اپنے آپ کو ان جراثیم سے متاثر کر سکتے ہیں۔یہ جراثیم مختلف بیماریوں مثلاً نمونیا،دست،نزلہ،پیٹ کی مختلف بیماریوں،پیرا سائیٹس سے ہونے والی بیماریوں اور ساتھ ساتھ جلد اور آنکھوں کی بیماریاں بھی شامل ہیں،میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔


ہمیں ہر حال میں اپنے ہاتھوں کی صفائی کا خیال رکھنا چاہیے۔کھانا کھانے سے پہلے،آنکھوں ،ناک اور منہ کو چھونے سے پہلے اور چھونے کے بعد ہمیشہ اپنے ہاتھوں کو صاف کرنا چاہیے تاکہ جراثیم ہمارے جسم کے دوسرے حصوں پر منتقل نہ ہوں۔

(جاری ہے)

بیت الخلا استعمال کرنے کے بعد،ناک صاف کرنے اور چھینکنے یا کھانسنے کے بعد،چہرے یا کسی زخم کو ہاتھ لگانے سے پہلے اور بعد میں دھونا چاہیے۔

جب بھی گوشت، مچھلی یا پولٹری کو دھوئیں اس کے بعد اپنے ہاتھوں کو مکمل اور درست طریقے سے دھونا چاہیے کیونکہ گوشت،مچھلی یا پولٹری یا مختلف کچی سبزیوں پر بیکٹیریا اور مختلف پیرا سائیٹ موجود ہو سکتے ہیں جو بہت تیزی کے ساتھ ہمارے ہاتھوں پر منتقل ہو جاتے ہیں اور پھر ہاتھوں کے ذریعے ہمارے جسم میں داخل ہو کر مختلف انفیکشن پیدا کر تے ہیں۔


بچوں کے ڈائپرز بدلنے یا بچوں یا بیمار افراد کی گندی اشیاء کو ٹھکانے لگانے کے بعد ہاتھ صاف کرنے چاہیے اس کے علاوہ مختلف جانوروں، پولٹری اور پالتوں جانوروں کو چھونے کے بعد یا ان کے فضلے کو ٹھکانے لگانے کے بعد، کوڑا کرکٹ اور مٹی یا ڈسٹ سے اٹی چیزوں کو ہاتھ لگانے کے بعد درست طریقے سے ہاتھوں کی صفائی ضروری ہے۔ایک ریسرچ کے مطابق مختلف عوامی تنصیبات اور آلات جیسا کہ متحرک زینہ،لفٹ ،دروازے کے لاک،سوئچ بورڈز،ٹیلیفون وغیرہ جو کہ مشترکہ طور پر استعمال ہوتے ہیں ان پر بیکٹیریا کافی تعداد میں موجود ہوتے ہیں۔

ایک ریسرچ کے مطابق ایک اسمارٹ فون پر تقریباً 30,000کے قریب بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں اور ایک کی بورڈ پر ،ایک ٹوائلٹ سیٹ کی نسبتاً زیادہ بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں۔کرنسی نوٹ پر بھی مختلف اقسام کے بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں جو ہمارے چھونے کے بعد با آسانی ہمارے ہاتھوں پرمنتقل ہو جاتے ہیں جس سے بچنے کا واحد حل ہاتھوں کی باقاعدہ صفائی ہے۔
اگر مختلف ہاسپٹل یا نجی سیٹ اپ کی بات کریں تو وہاں ہمیں ہاتھوں کی صفائی کا اور بھی خاص خیال رکھنا چاہیے کیونکہ وہاں پہلے سے بیمار افراد موجود ہے۔

کسی جگہ مریض کی عیادت کرنے جا رہے ہیں تو ہمیں کچھ باتوں کا خیال رکھنا چاہیے جس سے ہم خود بھی مختلف بیماریوں سے محفوظ رہتے ہوئے مریض کو بھی مزید بیماریوں میں مبتلا ہونے سے بچا سکتے ہیں۔مریض کے ساتھ رابطے یا مریض کو چھونے سے پہلے ہاتھوں کو اچھی طرح صاف کر لینا چاہیے تاکہ مریض مختلف مہلک جراثیموں سے محفوظ رہ سکے۔مریض کو چھونے کے بعد اور مریض کے پاس سے ہٹنے کے بعد بھی ہاتھوں کی صفائی ضروری ہے تاکہ خود کو اور اپنے اردگرد کے ماحول کو مریض کے نقصان دہ جراثیم سے بچا سکیں۔

مریض یا مریض کے اردگرد موجود مختلف اشیاء یا فرنیچر وغیرہ کو چھونے کے بعد حتیٰ کہ مریض کو چھوا بھی نہ ہو تب بھی ہاتھوں کی صفائی ضروری ہے۔
ہاتھوں کی صفائی کے لئے صرف پانی سے ہاتھ دھونا کافی نہیں ہوتا ہے بلکہ صابن کا استعمال بھی ضروری ہے۔عالمی ادارہ صحت کے اچھے طریقے سے ہاتھ دھونے کے طریقے کے مطابق سب سے پہلے ہاتھوں کو پانی سے گیلا کریں اور ہاتھ کی تمام سطحوں کو اچھی طرح سے صابن لگائیں ۔

ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو مسلیں،دائیں ہتھیلی کو دوسرے ہاتھ کی پشت پر رکھ کر انگلیوں اور دوسرے حصوں کو آگے پیچھے ملنا چاہیے، ہتھیلیوں کی طرف سے انگلیوں کو ملیں اور انگلیوں کی پشت کو آپس میں مخالف ہتھیلیوں پر ملیں،دونوں انگوٹھے ہتھیلیوں میں لے کر گھوماتے ہوئے ملیں،دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ہتھیلیوں میں پیچھے اور آگے کی طرف اور اردگرد گھوماتے ہوئے ملیں،اب ہاتھ پانی کے ساتھ دھولیں اورکسی تولیے سے صاف کرنے کے بجائے پیپر ٹاول یاHot air blowerکی مدد سے اچھی طرح خشک کرلیں۔


جب صابن اور پانی موجود نہ ہوں تو ہینڈ سینی ٹائزرز مفید ہوتے ہیں۔الکوحل سے تیار شدہ(کم سے کم 70فیصد90فیصد الکوحل پر مشتمل) ہینڈ سینی ٹائزر،جیل جراثیموں کی تعداد کو کم کر دیتے ہیں لیکن اگر ہاتھ واضح طور پر گندے ہیں تو پھر صابن اور اپنی سے دھونا چاہیے۔ایک تحقیق کے مطابق باقاعدگی سے ہاتھوں کی صفائی سے دست کی بیماریوں سے 32فیصد اور سانس کی بیماریوں میں 30فیصد کمی کی جا سکتی ہے۔

کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کو معمول بنائیں،خاص طور پر بچوں کو اس کی ترغیب دیں اور ان کو سکھانا چاہیے کہ کس طرح سے مناسب طریقے سے بیت الخلا سے واپسی پر اور مختلف چیزوں استعمال کرنے کے بعد اور کھانا کھانے سے پہلے اپنے ہاتھوں صاف کرنے چاہیے۔چھینکتے یا کھانستے وقت ٹشو پیپرز کا استعمال کریں اور اپنے بازو کو چہرے پر رکھنا چاہیے۔


اپنے ہاتھوں پر چھینکنا یا کھانسنا نہیں چاہیے اور استعمال کے بعد ٹشو پیپر کو مناسب طریقے سے کوڑے دان میں ڈالنا چاہیے،اپنے گھروں اور دفاتر میں مختلف سطحوں وغیرہ کو صاف اور جراثیم سے پاک رکھنا چاہیے،دروازے کی نابز،سوئچ بورڈ،ٹیلیفون،کی بورڈ کی صفائی کا خاص خیال رکھتے ہوئے استعمال کے بعد اپنے ہاتھوں کو مکمل صاف کرنا چاہیے۔بڑھے ہوئے ناخنوں میں میل،مٹی اور جراثیم با آسانی پھنس جاتے ہیں اور کھانے کے دوران یہ ہماری خوراک کا حصہ بن سکتے ہیں،بڑھے ہوئے ناخنوں کی صفائی قدرے مشکل ہوتی ہے لہٰذا ناخن باقاعدگی سے تراشنے چاہیے اور ہاتھوں کی صفائی کے ساتھ ساتھ ناخنوں کی صفائی کا بھی خاص رکھنا چاہیے۔

گھروں میں تولیوں کا اشتراک نہیں کرنا چاہیے ہاتھوں کی باقاعدہ اور بھر پور صفائی کے ذریعے نا صرف ہم مختلف بیماریوں سے بچ سکتے ہیں بلکہ اپنے دین کے احکام پر بھی خوش اسلوبی سے عمل پیرا ہو سکتے ہیں جو ہمیں سکھاتا ہے کہ ”صفائی نصف ایمان ہے“اور ہماری آدھی سے بھی زیادہ بیماریوں کا حل صرف اور صرف ہاتھ دھونے میں پوشیدہ ہے۔
تاریخ اشاعت: 2020-08-04

Your Thoughts and Comments