Heart Attack Ka Sabab Banne Wali Ghazain Konsi Hain - Article No. 2101

ہارٹ اٹیک کا سبب بننے والی غذائیں کونسی ہیں - تحریر نمبر 2101

منگل مارچ

Heart Attack Ka Sabab Banne Wali Ghazain Konsi Hain - Article No. 2101
محمد علی
ہارٹ اٹیک یا دل کا دورہ اکثر جان لیوا ہوتا ہے اور اگر جان بچ بھی جائے تو بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ اس کے دوسرے اٹیک کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔دنیا کے 5 براعظم کے افراد کے کھانے پینے کی عادات پر کی گئی تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کاربوہائیڈریٹس کی خراب اقسام کے استعمال کرنے کے سبب دل کے عارضے،فالج اٹیک اور اموات کے خدشات بڑھ جاتے ہیں ۔

انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہونے ہونے والی نئی تحقیق کے مطابق خراب قسم کے کاربوہائیڈریٹس کی زیادہ مقدار استعمال کرنے کے سبب انسانی صحت پر متعدد مضر صحت اثرات مرتب ہوتے ہیں جن میں ہارٹ اٹیک،فالج اور موت کے خدشات کا بڑھ جانا سرفہرست ہے۔
تحقیق کے مطابق’ہائی اِن پوور کوالٹی کاربوہائیڈریٹس یعنی کے خراب قسم کے کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذا کو ’ہائی گلائیسمیٹ ڈائیٹ‘ کہا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

مذکورہ تحقیق میں 5 براعظم کے شہریوں اور دیہاتوں میں سے 137,851 افراد شامل کیے گئے جن کی عمریں 35 سے 70 کے درمیان تھیں۔محققین کی جانب سے اس تحقیق میں شامل رضاکاروں سے ڈیٹا جمع کرنے کے لئے ایک سوالنامہ بنایا گیا جس میں کھانے پینے کی عادات اور غذا کی اقسام سے متعلق سوالات پوچھے گئے تھے۔اس تحقیق کے دوران ریسرچ میں شامل 8,780 رضاکاروں کی موت کا سبب عمر جبکہ 8,252 رضاکاروں کی موت کا سبب ہارٹ اٹیک بنا۔


محقق ڈیوڈ جینکنز،پروفیسر آف نیوٹریشنل سائنسز اینڈ میڈیسن کا کہنا ہے کہ انہوں نے لمبے عرصے تک کاربوہائیڈریٹس کی اقسام سے متعلق، لو کاربوہائیڈریٹس اور ہائی کاربوہائیڈریٹس پر تحقیق کی،اُنہوں نے اس تحقیق کے دوران صحت کی خراب صورتحال کی سب سے بڑی وجہ ہائی کوالٹی کاربوہائیڈریٹس کو قصور وار پایا ہے۔تحقیق کے نتیجے میں یہ بات واضح طور پر سامنے آئی ہے کہ ہر طرح کے کاربوہائیڈریٹس انسانی صحت کے لئے نقصان دہ ثابت نہیں ہوتے۔

ہائی اِن پوور کوالٹی کاربوہائیڈریٹس کے استعمال کے سبب موت جلد مواقع ہونے کے خدشات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں جبکہ ہائی کوالٹی کاربوہائیڈریٹس کے استعمال سے جیسے کہ پھل،سبزیاں اور دالوں کے استعمال کے نتیجے میں فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔ماہرین کے مطابق پھل،سبزی،بیج،دالوں اور خشک میوہ جات میں لو گلائیسمیٹ پایا جاتا ہے جبکہ سفید ڈبل روٹی،روٹی، سفید آٹے،میدے،چاول،آلوؤں میں گلائیسمیٹ کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہے جو کہ انسانی صحت کے لئے نہایت مضر صحت قرار دیے گئے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2021-03-09

Your Thoughts and Comments