Hum Nakhun Kiyon Chabate Hain - Article No. 2102

ہم ناخن کیوں چباتے ہیں - تحریر نمبر 2102

بدھ مارچ

Hum Nakhun Kiyon Chabate Hain - Article No. 2102
عبدالرحمن
اکثر لوگ اپنے ناخنوں کو دانتوں سے کترتے ہیں اور لاکھ کوشش کے باوجود ان کی یہ عادت نہیں جاتی۔لیکن بعض تدابیر اختیار کرکے اس کیفیت سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے۔نفسیات دانوں کا خیال ہے کہ یہ عادت اکثر بچپن میں لاحق ہوتی ہے اور عمر بھر جاری رہ سکتی ہے ۔اسے طبی زبان میں اونیکوفچیا کہتے ہیں جو بظاہر بے ضرر لگتی ہے لیکن اس کے منفی اثرات بہت ہیں اور یہ آپ کو بیمار بھی کر سکتی ہے۔

لیکن آخر ہم اپنے ناخن کیوں چباتے ہیں؟آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔ماہرین طبی اور نفسیاتی بنیادوں پر ناخن چبانے کی یہ وجوہ بیان کی ہیں:
بے چینی،ذہنی تناؤ اور اداسی وغیرہ میں ناخن کھانے کی عادت پڑ جاتی ہے کیونکہ اس سے انسان خود کو مصروف سمجھتا ہے۔

(جاری ہے)

بسا اوقات بہت مصروفیت اور ارتکاز کی وجہ سے بھی لوگ بے دھیانی میں ناخن چبانے لگ جاتے ہیں۔

بعض افراد ناخن چبانے سے وقتی طور پر بے چینی میں آرام اور جز وقتی سکون پاتے ہیں۔بسا اوقات ناخن چبانے کی عادت بعض دماغی امراض مثلاً اے ڈی ایچ ڈی،ڈپریسو ڈس آرڈر،او سی ڈی،گھبراہٹ اور بے چینی کو ظاہر کرتی ہے۔لیکن آخر اس عادت سے چھٹکارا کیوں ضروری ہے؟اس کی وجہ یہ ہے کہ ناخن کترنے کا عمل ان کے نیچے کے ٹشوز کو شدید متاثر کرتا ہے۔دوم ناخن بری طرح مجروح ہو جاتے ہیں اور ابنارمل لگنے لگتے ہیں۔

پھر انگلیوں کے جراثیم اور بیکٹیریا منہ میں جانے لگتے ہیں یہاں تک کہ ناخنوں میں فنگس لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔اگر ناخن کا کوئی حصہ پیٹ میں چلا جائے تو اس سے معدے اور آنتوں کے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔لیکن چند عادات کو اپنا کر اس سے جان چھڑائی جا سکتی ہے۔
ناخن چھوٹے رکھیں
ناخن کترنے سے جان چھڑانے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ بڑھنے پر انہیں کٹر سے تراش دیا جائے اور اس سے بہت افاقہ ہوتا ہے۔


خواتین نیل پالش لگائیں
نیل پالش لگا کر رکھیں۔اس کے بعد جب جب ناخن کتریں گی آپ کو نیل پالش کی کڑواہٹ محسوس ہو گی اور اس عادت کو ترک کرنے میں مدد ملے گی۔
تجزیہ کیجئے
آپ اپنا تجزیہ کیجئے کہ آخر آپ ناخن کیوں کترتی ہیں۔اس کا جائزہ لینے کے بعد عادت بد سے جان چھڑانے میں مدد مل سکتی ہے۔
عادت کو عادت سے بدلیں
اگر مسلسل ناخن کترنے کی عادت ہے تو آپ کوئی اور عادت اپنائیں۔منہ میں سونف رکھ کر چباتے رہیں یا پھر چیونگم کی عادت اختیار کیجئے۔
تاریخ اشاعت: 2021-03-10

Your Thoughts and Comments