Infection Or Wabai Amraz Se Tahafuz

انفیکشن اور وبائی امراض سے تحفظ

ہفتہ جون

Infection Or Wabai Amraz Se Tahafuz
حضرت انسان نے خوب سے خوب ترکی تلاش میں جب سے نت نئی دریافتوں کا ڈول ڈالا ہے تب سے اسے آئے روز مختلف مسائل و مصائب کا سامنا بھی ہے ۔گزشتہ دو اڑھائی صدیوں سے نئی سہولتوں کی دریافت کے ساتھ ساتھ نئے امراض سے بھی واسطہ پڑ رہا ہے۔ طاعون کی وبا سے لے کر ہسپانوں انفلوئنزا تک ،ایڈز کی ہلاکت خیزیوں سے لے کر سارس وائرس کی تباہ کاریوں تک ،سوائن فلو، برڈ فلو، زیکا،نفھاہ اور ایبولا وائر سز کی وباؤں کے اثرات ابھی معدوم نہیں ہوئے تھے کہ کورونا وائرس مصائب کا بگل بجاتے آدھمکا۔

وبائی امراض کی پیدائش وافزائش پر غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ مادی ارتقاء نے سہولتوں کے ساتھ ساتھ کئی مشکلات ومسائل کو بھی جنم دیا ہے ۔ماہرین ایک مرض پر قابو پانے ہی لگتے ہیں کہ دوسری بیماری تباہی کے روپ میں وارد ہو جاتی ہے ۔

(جاری ہے)

دنیا میں تمام ترقیاں سائنس کے بل بوتے پر ممکن ہو سکتی ہیں لیکن دھیان رہے کہ سائنس اور فطرت میں ہم آہنگی پیدا کیے بنا ہر ترقی ”ترقی معکوس“ ہی رہے گی۔


کائنات کی سب سے افضل تخلیق حضرت انسان ہے ۔انسان کی بقاء وقیام کے لئے فطری اصولوں کی پاسداری ضروری ہے ۔قدیم زمانے سے معالجین جانتے ہیں کہ زیادہ تر امراض مزاج میں سردی اور خشکی بڑھ جانے سے پیدا ہوتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ بوڑھے افراد امراض کے نرغے میں جلد آجاتے ہیں ۔عام طور پر چالیس سال کے بعد بدن انسان میں سردی اور خشکی غالب آنے لگتی ہے ۔

جدید میڈیکل سائنس کی رو سے بھی ثابت ہو چکی ہے ۔جدید میڈیکل سائنس یہ مانتی ہے کہ بدن میں مطلوبہ آکسیجن کی رسد کم ہونے یا خلیات کو آکسیجن کی مناسب مقدار مہیانہ ہونے سے خلیات مرنے لگتے ہیں۔ اور قوت مدافعت کمزور ہو جاتی ہے قوت مدافعت کمزور ہونے کا سب سے بڑا سبب ہمارے خون میں آکسیجن کی کمی واقع ہونا ہے ۔زیر نظر سطور میں ہم بدن میں آکسیجن کی مطلوبہ مقدار کی فراہمی اور قوت مدافعت میں اضافہ کرنے کے لوازمات پر روشنی ڈالیں گے:
روز مرہ معمولات
انسانی جسم میں خون کی گردش اور رسد کو متوازن کرنے کا بہترین ذریعہ ورزش ہے ۔

ورزش کرنے سے بدن انسانی کے خلیات میں تازہ آکسیجن کی فراہمی آسانی کے ساتھ ہو جاتی ہے ۔ورزش عموماً سورج کی روشنی اور تازہ ہوا میں کرنی چاہیے۔ نیند بھی انسانی صحت اور قوت مدافعت کو بحال کرنے کے لئے بنیادی جز ہے ۔ایک رات میں کم از کم سات گھنٹے متواتر سونا اچھی صحت کے لئے ضروری ہے ۔نیند کی کمی ،قوت مدافعت میں کمی نتیجتاً بدن انسانی پر امراض مسلط ہونے کا سبب بنتی ہے۔

متوازن غذا کا استعمال بھی صحت مند بدن کے لئے لازمی شرط ہے ۔غذا ہمیشہ ہلکی ،سادہ ،زود ہضم مگر توانائی سے بھرپور استعمال کی جانی چاہیے ۔ثقیل ،دیر ہضم ،بادی ،ترش اور مرغن غذاؤں سے گریز ضروری ہے ۔نظام ہضم یعنی میٹا بولزم متحرک اور مضبوط ہونا بھی صحت مند زندگی کی ضمانت فراہم کرتا ہے ۔قبض اور کمزور نظام ہضم بھی لا تعداد امراض پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں ۔

صحت مند زندگی اور مضبوط قوت مدافعت کے لئے قبض کے خبیث مرض کو کبھی قریب نہ آنے دیں۔ باقاعدہ نہانے سے بدن کے مسام کھلے رہتے ہیں جس سے بدنی خلیات کو تازہ آکسیجن مہیا ہوتی رہتی ہے۔ہاتھوں کو وقفے وقفے سے دھونا ہی کورونا سے بہترین حفاظت ہے۔
قوت مدافعت بڑھانے والی غذائیں
کھجور:
کھجور بالخصوص عجوہ کھجور بدن انسانی کی قوت مدافعت میں اضافے کے لئے بہترین قدرتی ذریعہ ہے ۔

طب نبوی کے مطابق باقاعدہ عجوہ کھجور استعمال کرنے والے پر زہر بھی اثر انداز نہیں ہوتا۔ وائرس کے لغوی معنی بھی زہر ہی کے ہیں۔ روزانہ تین سے پانچ یا سات وجہ کھجوریں نہار منہ کھانا بھی ہر قسم کے زہریلے امراض سے قدرتی حفاظت کا ذریعہ بنتا ہے۔
شہد:
شہد کی شفائی خصوصیات سب کے علم میں ہیں ۔روزانہ صبح وشام ،نہار منہ حسب ضرورت شہد کا استعمال بدن کی قوت مدافعت میں اضافے کا قدرتی ذریعہ ہے۔


کلونجی:
کالا دانہ جسے عرف عام میں”کلونجی“ کہا جاتا ہے ۔احادیث مبارکہ میں اس کی دوائی اہمیت اور شفائی افادیت سے آگاہ کیا گیا ہے ۔کلونجی بدن کی خشکی اور سردی کو زائل کرکے قوت مدبرہ بدن کو متحرک کرتی ہے ۔قوت مدبرہ بدن کی تحریک ہی قوت مدافعت کی مضبوطی کی دلیل ہے ۔نہار منہ ایک سے ،تین گرام تک کلونجی حسب گنجائش شہد میں ملا کر کھانے سے بھی بدن انسانی میں بیماریوں کے خلاف دفاعی طاقت مضبوط ہوتی ہے۔


زیتون:
زیتون کا پھل اور تیل قوت مدافعت بدن میں اضافے کا بہترین ذریعہ ہے ۔عام طور پر زیتون کے پھل کی دستیابی آسان نہیں ہوتی لہٰذا روغن زیتون میں شہد ہم وزن ملا کر کھانا کئی فوائد کا باعث ہے ۔روغن زیتون کو دودھ ،سالن یا کسی مشروب کے ساتھ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
بادام روغن:
بادام روغن ملین اور وٹامنز سے بھر پور ہے ۔

اس کا استعمال نہ صرف قوت مدافعت میں اضافہ کرتا ہے بلکہ یہ پھیپھڑوں سے بلغم نکالنے اور قبض دور کرنے میں بھی مفید ہے۔دو سے چار چمچ روغن بادام دودھ کے ساتھ یا سادہ استعمال کیا جا سکتاہے۔
روز مرہ خوراک:
روز مرہ خوراک میں کیلا، خشک میوہ جات میں انجیر اور مغز بادام کا استعمال اچھے نتائج دیتاہے۔ترشے پھلوں کے رس جیسے کینو،موسمی وغیرہ پیے جائیں ۔

ترکاریوں میں کھیرا،مولی اور گاجر کا استعمال بھی بہترین ہے ۔سر کہ سیب سرکہ انگوری میں پانی ملا کر پینا بھی بدن کے دفاعی نظام کو مضبوط کرتاہے ۔پھلوں کے رس میں کالی مرچ اور کالے نمک کا سفوف حسب ذائقہ شامل کرنا بھی مفید ہوتاہے ۔دیسی مرغی کی یخنی ،انڈہ ،اور شوربے والا سالن چپاتی بہترین غذا ہے۔
کورونا سے تحفظ میں معاون قدرتی گھریلو تراکیب
گلے میں خراش اور ورم کی کیفیت دور کرنے کے لئے گرم پانی میں نمک اور شہد ملا کر دو گھنٹے کے وقفے سے غرارے کریں۔

پانی ابال کر بھاپ لیں ،یہ عمل وقفے وقفے سے کرتے رہیں ۔پینے کے لئے نیم گرم پانی استعمال کرنا زیادہ فوائد کا حامل ہوتاہے۔الائچی کلاں کے قہوے میں شہد ملا کر پینے سے سانس کی روانی بحال ہو جاتی ہے ۔دار چینی ،لونگ، ادرک اور جلوتری کا قہوہ پکا کر حسب ضرورت شہد ملا کر دن میں دو سے تین بار استعمال مفید بتایا جاتاہے ۔ادرک والی چائے قوت مدافعت میں اضافے کے لئے مفید ہے ۔

خون میں آکسیجن کی روانی مناسب اور باقاعدہ کرنے کے لئے مرچ سیاہ اور اجوائن بہت ہی مفید اور فوری اثرات کی حامل نباتات ہیں ۔دھیان رہے کہ خون پتلا کرنے والی ادویات استعمال کرنے والے افراد مرچ سیاہ اور اجوائن کے استعمال سے احتراز کریں۔ صبح کی دھوپ میں لیٹنا جسم کی حرارت غریزی کو برانگیختہ کرتا ہے اور بدن کو قدرتی وٹامن ڈی کی وافر مقدار مہیا ہوتی ہے۔
غذائی پرہیز
وبائی دنوں میں ہلکی، سادہ زود ہضم لیکن غذائیت سے بھر پور خوراک کھانی چاہیے۔بڑا گوشت، کولا مشروبات، برف ،آئس کریم ،بیکری مصنوعات ،چکنائیاں ،مٹھائیاں ،مرغن ،ثقیل، بادی اور دیر ہضم غذائیں کھانے سے گریز کرنا چاہیے۔
تاریخ اشاعت: 2020-06-06

Your Thoughts and Comments