بند کریں
صحت مضامینمضامینجاڑے میں الرجی

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
جاڑے میں الرجی
یوں توالرجی ہونے کاکوئی خاص وقت یاموسم نہیں البتہ بدلتے موسم میں ہونے والی الرجی زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ مگر جلد کے ماہرین اس امرپرمتفق ہیں کہ موسم خواہ کوئی بھی ہو،الرجی محض جلدی خارش کانام نہیں بلکہ یہ ایک بیحدعام بیماری ہے جو آہستہ آہستہ جسم پراثر کرتی ہے۔
ثروت یعقوب:
یوں توالرجی ہونے کاکوئی خاص وقت یاموسم نہیں البتہ بدلتے موسم میں ہونے والی الرجی زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ مگر جلد کے ماہرین اس امرپرمتفق ہیں کہ موسم خواہ کوئی بھی ہو،الرجی محض جلدی خارش کانام نہیں بلکہ یہ ایک بیحدعام بیماری ہے جو آہستہ آہستہ جسم پراثر کرتی ہے۔یہ آپ کی قوت مدافعت کمزورکردیتی ہے۔جس سے آپ جلدبیمارپڑنے لگتے ہیں۔ سردی لگ جانے اورالرجی ہونے میں فرق ہے۔وسکنسن میڈیکل کالج کے پروفیسراسیٹون کوہن کا کہناہے کہ‘جب کسی کو سردی لگ جاتی ہے تواس کااثر تین پانچ یازیادہ سے زیادہ سات دن میں ٹوٹنے لگتاہے جبکہ الرجی کی علامات طویل عرصے تک محسوس ہوتی ہیں۔سردیوں میں آپ زیادہ تربندجگہوں پہ وقت گزارتے ہیں۔جس کے باعث مٹی کے ذرات روم اسپریز میں موجودکیمکل موٹے اوراُونی کپڑے الرجی کاباعث بنتے ہیں۔
بعض اوقات سردیوں میں ہونے والی الرجی کی علامات موسم گزرنے کے بعدبھی نظر آتی رہتی ہیں۔ان علامات میں چھینکیں آنا، جسم پرخارش ہونا،بخاررہنا اور آنکھوں میں جلن ہونا شامل ہیں۔اگر آپ تھوڑی سی احتیاط سے کام لیں توآپ بناکسی اور پریشانی یہ موسم پرسکون انداز میں گزار سکتے ہیں اور سردیوں کے مزے بھی لوٹ سکتے ہیں۔ان کاآسان نسخوں پر سردی کے موسم میں ہرقسم کی الرجی سے محفوظ رہاجاسکتاہے۔
ہواکی تبدیلی:گرمیوں کی طرح سردیوں میں بھی کمرے میں ہواکی گزربیحدضروری ہے۔ہواکی آمدرفت سے الرجی کاباعث بننے والے جراثم ایک جگہ جمع نہیں ہوپاتے۔نہاتے اور کھانا پکاتے وقت ایگزاسٹ فین چلائیں۔
قالین کی صفائی:یوں توآج کل گھروں میں قالین کے زیادہ استعمال سے گریزکرنے کی تاکید کی جاتی ہے۔تاکہ صفائی آسان ہوسکے اور الرجی پھیلانے والے جراثیم کوچھپنے کی جگہ نہ ملے۔البتہ اگرآپ اپنے گھروں میں قالین کااستعمال کرناچاہتے بھی ہیں توان کی صفائی کاخاص خیال رکھیں۔انہیں روزانہ ویکیوم سے صاف کریں۔ساتھ ہی فرش پربھی ایک اچھے انٹی بیکٹیریا ڈٹرجنٹ سے فرش کی صفائی کریں تاکہ جراثیم پنپ نہ سکیں۔
ہاتھ باقاعدگی سے دھوئیں:کھاناکھانے سے پہلے یاکسی سے ہاتھ ملانے کے بعدہاتھ ضرور دھوئیں۔اگرآپ باقاعدگی سے اپنے ہاتھ دھوئیں توجراثیم کوجسم میں داخل ہونے کاموقع نہیں ملے گااور سردیوں میں پھیلنے والے مختلف اقسام کے ایسے جراثیم سے بھی آپ محفوظ رہیں گی جوجلدی امراض کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔
گرم پانی کااستعمال:گرم پانی ٹھنڈے پانی کے مقابلے میں جراثیم جلدمارتا ہے۔گرم پانی کا استعمال صرف نہانے میں نہیں بلکہ برتن اور کپڑے دھونے میں بھی کریں۔اونی اور موٹے کپڑے جیسے پاجامے‘سوئٹرزاور جنیزاور بیڈکی چادریں دھونے کیلئے بھی گرم پانی کاہی استعمال کریں۔پانی کادرجہ حرارت اگر130ڈگریزیااس سے زیادہ ہوتواس کے استعمال سے زیادہ ترجراثیم اور مٹی کے ذرات ختم ہوجاتے ہیں۔
بیڈروم کی صفائی:بیڈروم میں ٹھنڈے پانی کے مقابلے میں گرم پانی جراثیم جلدمارتاہے۔اگر گرم پانی کااستعمال کیا جائے تو بھی آپ کے زیادہ وقت بیڈروم میں گزرتاہے اس لئے کوشش کریں کہ یہاں الرجی پیداکرنے والاسامان کم سے کم ہو۔ بیڈروم میں پودے رکھنابھی مناسب نہیں کیونکہ بیڈرومزمیں پودے انسانی صحت کیلئے نقصان دہ ہیں۔
ادرک اور ہلدی کازیادہ استعمال:سردیوں کے موسم میں ہلدی اور ادرک کااستعمال وقت مدافعت کومضبوط بناتا ہے۔ اس سے الرجی بیدارکرنے والے جراثیم سے محفوظ رہتاہے۔موسم سرمامیں الرجی سے محفوظ رہنے کابہترین نسخہ ادرک اور ہلدی سے بننے والاٹانک ہے جوآپ گھر میں ہی تیارکرسکتے ہیں۔اس کیلئے درج ذیل اجزاء درکارہیں۔
اجزاء:ہلدی ،چائے کی پتی آدھاآدھاچائے کاچمچہ،ادرک ایک چھوٹاٹکڑا،شہدایک چائے چمچہ، گرم پانی آدھاکپ۔
ترکیب:ان تمام اشیاء کوایک کپ میں ڈال کرچمچے سے اچھی طرح ملائیں تاکہ یہ مکسچرکی شکل اختیارکرلے۔پیتے وقت مکسچر میں سے ادرک کاٹکڑاہٹادیں۔اس ٹانک کاآدھاگلاس دن میں ایک یادوبارپینے سے آپ الرجی سے بچے رہیں گے بچوں کوبھی استعمال کروائیں۔

(1) ووٹ وصول ہوئے