بند کریں
صحت مضامینمضامینجڑی بوٹیوں کے حیرت انگیز فائدے

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
جڑی بوٹیوں کے حیرت انگیز فائدے
ہلدی خوشبودار ہوتی ہے ۔ اسے ذائقے کیلئے سالن میں ڈالتے ہیں۔ گائے اور بکری کا گوشت پکاتے وقت بھی اسے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے دال میں بھی ڈالا جاتا ہے۔ مچھلی پکاتے وقت اس کی بو ختم کرنے کیلئے بھی ہلدی استعمال کی جاتی ہے
صبا گل حسن:
حال ہی میں کی گئی ایک تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ وطن عزیز میں پائی جانے والی بہت سی ضری بوٹیاں صحت کیلئے فائدے مند ہیں۔ چنانچہ آپ انہیں پابندی سے استعمال کیجیے۔ مسالوں کے طور پراستعمال کی جانے والی پانچ جڑی بوٹیوں سے حاصل ہونے والے فائدے ذیل میں درج کیے جارہے ہیں:
دار چینی:
ثابت دار چینی مختلف قسم کے کھانے میں ڈالی جاتی ہے، مثلاََ بریانی، قیمہ اور کابلی چنوں میں، اس کے علاوہ پسی ہوئی دار چینی کو میٹھی ڈشوں میں بھی شامل کرتے ہیں، اس کے فائدوں کی بنا پر اسے کافی میں بھی ڈالا جاتا ہے۔ اس خوشبودار جڑی بوٹی میں مینگنیز اور ایلڈرہائڈ (ایک کیمیائی مرکب) ہوتا ہے، جو ہڈیوں، عضلات اور بافتوں کو مضبوط بناتا اور پروان چڑھاتا ہے۔ وہ افراد جنہیں جوڑوں کا درد ہو یا سوجن، معالج انہیں دار چینی کھانے کی ہدایت کرتے ہیں۔ اس میں جراثیم کش خصوصیات ہوتی ہیں اور یہ شکر کی سطح کو اعتدال پر رکھتی ہے۔
میتھی:
پسی ہوئی میتھی کو سالن میں ڈالا جاتاہے۔ اس کے علاوہ مسور کی دال میں ذائقہ پیدا کرنے کیلئے بھی میتھی ڈالی جاتی ہے۔ اگر اسے پابندے سے کھایا جاے تو یہ خراب کولیسٹرول (LDL)کی سطح کم کردیتی ہے۔ ذیا بیطس قسم دوم اور دل کے مریضوں کی نقصان دہ چکنائی کو بھی کم کردیتی ہے۔ ایک گرام میتھی ایک پیالی پانی میں روزانہ رات کو بھگو دیں۔ پھر صبح اٹھ کر اسے پی لیں، آپ کا وزن کم ہوجائے گا۔
سونف:
سونف کو ڈبل روٹی اور کیک تیار کرتے وقت شامل کیا جاتا ہے۔ اسے بہت سی سبزیوں اور پلاؤ پکاتے وقت بھی ہانڈی میں ڈالتے ہیں۔ کالے موتیا (گلوکوما) اور ذیابیطس میں مبتلا مریضوں کو اگر سونف کھلائی جاے تو ان کی بینائی کو فائدہ پہنچتا ہے۔ چونکہ اس میں پوٹاشئیم کے طاقتور اجزا بھی شامل ہوتے ہیں، اس لیے اس کی چائے پینے سے افسردگی اور اضمحلال کم ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ذہنی فتور (DEMENTIA) کے اثرات بھی دور کردیتی ہے۔
زیرہ:
زیرے کو سالن میں ڈالا جاتاہے اور اس سے مختلف دالیں بگھاری جاتی ہیں۔ زیرہ آزاد اصلیوں (FREE RADICALS)کو کم کرتا ہے۔ خون میں شامل آزاد اصلیے ایسے مرکبات ہوتے ہیں جو خلیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ روزانہ زیرے کی معمولی سی مقدار کھانے سے جگر کا فعل درست رہتا ہے اور اس کی درستی سے جسم کے زہریلے اثرات ختم ہوجاتے ہیں۔ گرم پانی کے ایک گلاس میں ایک چمچہ زیرہ ملا کر پینے سے معدے کی جلد، سوزش اور اینٹھن دور ہوجاتی ہے اور ہاضمہ بھی درست رہتا ہے۔
ہلدی:
ہلدی خوشبودار ہوتی ہے ۔ اسے ذائقے کیلئے سالن میں ڈالتے ہیں۔ گائے اور بکری کا گوشت پکاتے وقت بھی اسے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے دال میں بھی ڈالا جاتا ہے۔ مچھلی پکاتے وقت اس کی بو ختم کرنے کیلئے بھی ہلدی استعمال کی جاتی ہے۔
ہلدی میں حیاتین ج (وٹامن سی) ہوتی ہے، جس سے وقتِ مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس میں سوزش اور ورم دور کرنے کی خاصیت ہوتی ہے۔ ہلدی پانی میں ملا کر پینے سے دل کی بیماریوں پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔ اس لیے اسے بین الاقوامی طور پر فائدے مند تسلیم کیا اور پیا جاتا ہے۔

(20) ووٹ وصول ہوئے