بند کریں
صحت مضامینمضامینجوڑوں کا درد اور ورم

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
جوڑوں کا درد اور ورم
اس مرض میں جوڑوں کی اندرونی جھلیاں متاثر ہوتی ہیں۔ اس کا اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو متاثرہ فرد معذور بھی ہوسکتا ہے
جوڑوں کا درد اور ورم
ہمارے جسم کے مدافعتی نظام میں اگر خرابی پیدا ہوجائے تو مختلف قسم کے امراض سراٹھانے لگتے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ تکلیف دہ مرض جوڑوں کا درد و ورم ہے۔ جوڑوں کا درد و ورم ایک سے سوبرس کی عمر کی افراد کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ اس کی علامات میں جوڑوں میں درد ، سوجن، ہڈیوں کا ٹوٹنا اور اکڑاؤ شامل ہیں۔ اس مرض میں جوڑوں کی اندرونی جھلیاں متاثر ہوتی ہیں۔ اس کا اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو متاثرہ فرد معذور بھی ہوسکتا ہے۔ ہمارے ملک میں دل کی بیماریاں اور جوڑوں کا درد و ورم معذوری کے دو بڑے اسباب ہیں۔ امریکا میں بھی جوڑوں کا درد و ورم معذوری کا سب سے بڑا سبب بن چکا ہے۔ جوڑوں کے درد و ورم کا شکار مرد اور خواتین دونوں ہوتے ہیں۔ یہ مرض نہ صرف ہڈیوں اور جوڑوں ، بلکہ گرودں ، شریانوں، جلد ، آنکھوں، پھیپڑوں اوردل ودماغ کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اس مرض کی سو سے زیادہ اقسا م پائی جاتی ہیں۔ کوئی بھی مرض، جو جوڑوں پر اثر انداز ہوتا ہے، وہ جوڑوں کے درد وورم کا مرض عارضہ زیادہ دیکھنے میں آتا ہے ۔ جوڑوں کے پتھرانے کے مرض میں خواتین زیادہ مبتلا ہوتی ہیں۔ اس بیماری کی سب سے خطرناک قسم،اوسٹیو آرتھر ائٹس“ ہے، جسے، دی جنریٹیو آرتھر ائٹس“ بھی کہتے ہیں ۔ اس مرض میں عمر بڑھنے کے ساتھ ہڈیاں گھسنے لگی ہیں۔ جوڑوں کے درد وورم کا مرض دنیا بھر میں بڑھ رہا ہے۔ ہر تین میں سے ایک فرد کسی نہ قسم کے جوڑوں کے درد وورم کی تکلیف میں مبتلا نظر آتا ہے۔ ہمارے ملک میں بھی لوگ اس مرض کی لپیٹ میں زیادہ ہیں۔ جوڑوں کے درد وورم کی ایک قسم، اینکی لوزنگ اسپونڈی لیٹس“ ہے، جو کمر کو متاثرکرتی ہے۔ اس کی تشخیص آسانی سے نہیں ہوپاتی۔ یہ 17 سے30 سال کے نوجوانوں کو متاثر کرتی ہے۔ نوجوانوں کی کمر کے نیچلے حصے میں درد رہنے لگتاہے۔ اس کی تشخیص بعض اوقات پانچ سے دس برس میں ہوپاتی ہے، اس لیے کہ متاثرہ نوجوان عام معالجین کے پاس چلے جاتے ہیں ، جوتشخیص نہیں کرپاتے، کیوں کہ وہ اس مرض کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ اس مرض کی ایک اور قسم ” ویسکیولیٹس کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس میں جوڑوں کے ساتھ شریانیں بھی متورم ہوجاتی ہیں۔ شریانوں کے متورم ہونے کی وجہ سے جسم کا متاثرہ حصہ کام نہیں کرپاتا، لہٰذا فالج کا خطرہ سر اٹھانے لگتا ہے۔ اس کے علاوہ دل اور گردے بھی ناکارہ ہوسکتے ہیں۔ جوروں کے درد وورم کی بہت سے قسمیں ہیں، مثلاََ آرتھر ائٹس، لیوپس آرتھر ائٹس اور اوسٹیو روسز وغیرہ۔ اگر کسی فرد کے جوڑوں میں تکلیف رہنے لگی ہوتو اسے فوراََ کسی اچھے معالج سے رجوع کرنا چاہیے۔ ، تاکہ معالج خون کا ٹیسٹ اور الٹراساؤنڈ کروا کر آپ کو کسی ماہر کے پاس بھیج سکے، اس لیے کی ایک ماہر ہی تشخیص کرسکتا ہے کہ متاثرہ فرد جوڑوں کی قسم کی تکلیف میں مبتلا ہے۔ اس مرض کی لپیٹ میں بچے آئیں یا بڑے، پابندی سے علاج کروانا بہت ضروری ہوتا ہے، جو مریض علاج چھور دیتے ہیں ، انھیں بعد میں پچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے ملک میں جوڑوں کے درد وورم میں مبتلا مریضوں کی تعداد 20 لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔ اس مرض کے خاتمے کے لئے معالج روایتی قسم کی ادویہ تجویز کرتا ہے۔ اگر مرض پچیدہ ہوجائے تو دوسری قسم کی ادویہ دی جاتی ہیں، لیکن یہ بہت مہنگی اور غریب مریضوں کی پہنچ سے باہر ہوتی ہیں۔ مرض کی تشخیص کے لیے معالجین کے تجویز کردہ بعض ٹیسٹ بھی بہت مہنگے ہوتے ہیں۔ جوڑوں کے درد وورم میں مبتلا افراد کو چاہیے کہ وہ گاہے گاہے کسی ماہر کے پاس جاکر اپنا مکمل چیک اپ کراتا رہے اور اس کی تجویز کردہ ادویہ پابندی سے کھائے۔ اگر سگریٹ نوشی کرتا ہوتو اسے فوراََ ترک کردے اور اپنے طرز زندگی کو بھی تبدیل کرلے۔ یہ مرض کسی کو بھی لاحق ہوسکتا ہے ۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ مرض صرف بوڑھے افراد جوہی اپنی لپیٹ میں لیتا ہے، جب کہ ایسا نہیں ہے ۔ یہ بیماری مختلف شکلوں میں بچوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔ پاکستان میں اسے عارضے کی تمام اقسام کا علاج دستیاب ہے، لیکن بد قسمتی سے لوگ عام معالجین کے پاس جا کر اپنا وقت اور پیسا دونوں ضائع کرتے ہیں، اس لیے کہ انھیں اس مرض کے بارے میں معلومات نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ بعض ادویہ بھی دستیاب نہیں اور جو دستیاب ہیں وہ بہت مہنگی ہیں۔ جوڑوں کے درد وورم کو دور کرنے میں روغنی مچھلی کا تیل بہت مفید ہے۔ یہ تیل جسم میں جاکر ایک ایسے مادّے میں تبدیل ہوجاتا ہے، جو درد وورم کو ختم کردیتا ہے ۔ ادرک بھی جوڑوں کے اور پٹھوں کے درد میں کمی کرتی ہے۔ جوڑوں کے درد وورم میں مبتلا افراد کو پھل اور سبزیاں زیادہ کھانی چاہیے ، کیوں کہ ان میں سلینئیم اور حیاتین الف اور ج ہوتی ہیں، جو درد ورم کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہیں ۔ اس عارضے میں اسٹرابری بھی کھانی چاہیے۔ یہ جوڑوں کو آزاد اصلیوں کے مضر اثرات سے محفوظ رکھتی اور جوڑوں میں روانی پیدا کرتی ہے۔ جوڑوں کے درد وورم کے علاج میں فزیو تھراپی، وزن میں کمی ،ورزش ، غذاؤں میں تبدیلی ، ہڈیوں پر پٹیاں باندھ کر سہارا دینا، ٹکور کرنا، درد وورم دور کرنے والی ادویہ کھانا، روزانہ آٹھ گلاس پانی پینا، مچھلی زیادہ کھانا سرخ گوشت اور تلی ہوئی اشیا سے پرہیز شامل ہیں۔ میٹھے کدو کے بیج بھی کھانے چاہییں ، اس لئے کہ یہ جوڑوں کے درد کو کم کرتے ہیں۔ پالک بھی جوڑوں کے ورم کو کم کردیتی ہے، کیوں کہ اس میں مانع ورم اجزا پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ جوڑوں کا ماہر اعلا معیار کے کثیر الحاتین ضمیے بھی تجویز کرسکتا ہے۔ یہ ضمیے جوڑوں کے روغنی مادّے کو گاڑھا کرتے ہیں اور گھسی ہوئی ہڈیوں کو درست کردیتے ہیں اگر مرض شدت اختیار کرلے تو جوڑوں کی تبدیلی کے لیے آپریشن کرانا پڑتا ہے۔ جوڑوں کے درد وورم کی بعض اقسام آنکھوں کو بھی متاثر کرتی ہیں اور بینائی تک ختم کرسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ جسم کے بعض اعضا بھی ناکارہ ہوسکتے ہیں۔ اس کی ایک قسم موروثی بھی ہے۔ یہ اگر ماضی میں والدین کو لاحق رہی ہوتو بچوں میں بھی منتقل ہوسکتی ہے۔ اس مرض کی چند اقسام میں جلد شفا یابی مل جاتی ہے، لیکن بعض میں بہت وقت لگتا ہے ۔ بدقسمتی سے پاکستان میں جوڑوں کے درد وورم کے ماہرین کی بھی کمی ہے20 کروڑ کی آبادی والے ملک میں تقریباََ40 ماہرین ہیں، جو بہت تشویش ناک صورت حال ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں تو ایسے ماہرین ہی نہیں پائے جاتے۔ اس مرض سے متعلق بنیادی معلومات سے آگاہی بہت ضروری ہے مرض کی بروقت تشخیص کرانی چاہیے ، تاکہ شفایابی جلد حاصل ہو اور وقت وپیسا برباد نہ ہوں ۔ اس کے علاوہ علاج معیاری اور سستا ہونا چاہیے اور معالجین کومرض کے بارے میں مکمل معلومات اورہدایات دینی چاہییں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے