Ju Aa K Na Jaye Wo Burhapa Dekha - Article No. 2088

جو آکے نہ جائے وہ بڑھاپا دیکھا - تحریر نمبر 2088

ہفتہ فروری

Ju Aa K Na Jaye Wo Burhapa Dekha - Article No. 2088
مسعود احمد برکاتی
صحت ایک ایسی نعمت ہے جس کی قدر زندگی کے ہر دور میں کرنی چاہیے،لیکن نوجوانی اور جوانی میں صحت کی قدر کرنے کے بجائے ناقدری کی جاتی ہے اور صحت کے ہر اصول کے خلاف عمل کیا جاتا ہے۔بچپن میں تو خیر ماں باپ کچھ خیال رکھتے ہیں،لیکن چونکہ وہ خود بھی صحت و غذا کے بارے میں صحیح معلومات نہیں رکھتے،اس لئے ہمارے نونہال بھی صحت کے معیار پر پورے نہیں اترتے۔


بڑھاپے میں انسان کو صحت کی قدر ہو جاتی ہے اور یہ مجبوری بھی ہے۔جب صحت جواب دینے لگتی ہے اور بیماریاں زندگی کی ساتھی بن جاتی ہیں تو صحت کی طرف متوجہ ہونا قدرتی امر ہے،لیکن اگر بڑھاپے سے پہلے ہی جوانی اور ادھیڑ عمر میں سیدھے راستے پر چلا جائے اور صحت کے سادہ اور فطری اصولوں کا خیال رکھا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ بڑھاپا آرام اور سکون سے نہ گزرے۔

(جاری ہے)

بلاشبہ بڑھاپے میں وہ طاقت و توانائی نہیں رہتی،جو نوجوانی اور جوانی میں ہوتی ہے،اسی لئے تو بڑھاپے کو ضعیف العمری بھی کہتے ہیں،لیکن صحت،صرف طاقت کا نام نہیں ہے،ہاں طاقت،صحت کا نتیجہ ہوتی ہے۔مقصد یہ ہے کہ بڑھاپے میں جوانی جیسی طاقت نہ ہونے کے باوجود صحت مند رہا جا سکتا ہے۔
صحت مند رہنے کے لئے سب سے پہلے اپنے طرز زندگی (لائف اسٹائل) پر غور کرنا ہوتا ہے۔

ہم میں سے بیشتر لوگ اپنے خاندان،اپنی برادری،قصبے یا شہر کے طریقوں کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔اس میں صحت کو اولیت نہیں دی جاتی۔کھانے پینے،سونے جاگنے،اُٹھنے بیٹھنے اور چلنے پھرنے کی عادتیں اسی سانچے میں ڈھل جاتی ہیں،جو گھر کے دوسرے لوگوں کی عادتوں کا سانچا ہوتا ہے۔انھی عادتوں کا مجموعہ طرز زندگی ہوتا ہے۔
بڑھاپے میں عادتوں پر صحت کے نقطہ نظر سے غور کرنے کی خصوصی ضرورت ہوتی ہے اور اپنی عادتوں کو اس اعتبار سے ڈھالنا ہوتا ہے کہ وہ صحت کے لئے مضر نہ ہوں۔

عبادت اور خدمت خلق کی طرف توجہ بھی صحت بخشی کی تاثیر رکھتی ہے۔
دوسری اہم چیز ورزش ہے۔ورزش کے بارے میں عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ جوانی کا کام ہے،لیکن ورزش ہر عمر میں ضروری اور مفید ہوتی ہے۔یہ ضروری ہے کہ ہر عمر کی ورزش میں فرق ہوتا ہے۔اسی طرح غذائی عادتوں کو بھی صحت کے لحاظ سے ڈھالنا ضروری ہے۔ اس عمر میں لذت کے بجائے صحت کو اہمیت دینی ضروری ہے۔
تاریخ اشاعت: 2021-02-20

Your Thoughts and Comments