Kaan Naak Aur Halak Ke Masail

کان ناک اورحلق کے مسائل

Kaan Naak Aur Halak Ke Masail

پروفیسر ڈاکٹر ایم ۔راشد ضیا /حلیمہ عظمت
یہ تینوں اعضااندرونی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں ،اس لیے ان کی بیماریوں کا بھی آپس میں گہرا تعلق ہے ۔اس کے علاوہ ناک ،کان ،حلق ،آواز گرد (ساؤنڈباکس)اور ہوائی نالی ایک مقام پر آکر مل جاتے ہیں ۔دنیا میں کان ،ناک اور حلق (ENT)کے ماہرین جدا ہوتے ہیں ۔پاکستان میں کان کی پھپھوند(FUNGUS)اور تعدیہ(انفیکشن)عام ہیں ۔


کان میں میل جم جاتا ہے تو لوگ اسے روئی کی تیلی یا ہئیرپن سے صاف کرتے ہیں ۔ہمیں اس طرح سے کان صاف نہیں کرنے چاہییں ،اس لیے کہ یہ قدرتی طور پر صاف ہوتے رہتے ہیں ۔غسل کرنے کے بعد تو لیے سے انھیں صاف کر لینا چاہیے۔اس کے علاوہ ملک میں کان کا بہنا بھی عام ہے ۔جب مرض بڑھ جاتا ہے تو سنائی دینا بند ہوجاتا ہے ۔

(جاری ہے)


چوں کہ اس میں کوئی تکلیف نہیں ہوتی ،لہٰذا لوگ اس کی پروانہیں کرتے ۔

ابتدا میں کان بہتا ہے اور بُو آتی ہے ۔اس کے بعد جب تعدیہ ہوجاتا ہے اور دس بیس برس گزرجاتے ہیں تو رساؤ سرخ ہوجاتا ہے ۔ایسی صورت میں مریض کو لقوہ بھی ہوسکتا ہے ۔
بات یہیں ختم نہیں ہوجاتی اور کان کے بعد دماغ کا نمبر آجاتا ہے ۔کان اور دماغ کے درمیان پتلی ہڈیوں کی ایک چھوٹی سی تہ ہوتی ہے ۔مسلسل تعدیہ رہنے کی بنا پر ہڈیاں گل جاتی ہے تو دماغ تک پہنچنے کا راستہ صاف ہوجاتا ہے اور یہ تعدیہ پھیلتا چلا جاتا ہے ،جس سے آپ کی زندگی کو خطرات لاحق ہوجاتے ہیں ۔

پھر سر جری کرائے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا ۔
دماغ میں ہونے والے 80یا 90فیصد تعدیے کان ،ناک اور حلق کے ذریعے ہوتے ہیں ،جن میں کان اور ناک سرفہرست ہیں ۔اپنے دماغ کو محفوظ رکھنے کے لیے ناک اور کان کے تعدیے کو بڑھنے نہ دیں اور اس کا سنجیدگی اور توجہ سے علاج کریں ۔جن ممالک میں تعدیے پر قابو پا لیاگیا ہے ،وہاں نا گہانی اموات کم ہوتی ہیں ،البتہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں جہاں تعدیے پر قابو نہیں پایا جا سکا،وہاں انسانی زندگی اور دماغ کو خطرات لاحق ہیں ۔


جہاں تک سماعت کے متاثر ہونے کا تعلق ہے تو یہ پیدایشی ہوسکتا ہے ،خاندانی شادی اور تیز شوروغل والا ماحول بھی اس کے اسباب ہیں ۔نوجوانوں کو اس بات سے آگاہ کرنا چاہیے کہ وہ تیز موسیقی کے پروگرام سُن کریا اس میں حصہ لے کر فطرت سے دور ہوتے جارہے ہیں ۔ایسی آواز جو 90ڈیسی بیل کی ہو ،انسانی سماعت کے لیے نقصان دہ ہے ۔
اسے کسی بھی صورت میں 85ڈیسی بیل سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔

اپنے آلاتِ موسیقی سے جو افراد تیز آوازوں والا شور بپا کرتے ہیں ،اسمارٹ فون زیادہ استعمال کرتے ہیں یا موسیقی کے پروگرام میں حصہ لیتے ہیں ،وہ اپنی سماعت کے دشمن ہیں ۔سماعت پر بُر ااثر پڑنے کے علاوہ کان میں جلن اور سوزش بھی ہونے لگتی ہے۔ایسی تکالیف سے رسولیاں بھی بن جاتی ہیں ۔بچوں کو چاہیے کہ وہ اسمارٹ فون زیادہ استعمال نہ کریں ۔اس کے علاوہ عمر رسیدگی،ماحولیاتی تعدیہ ،غدود کا پُھولنا اور غیر ضروری طور پر ادویہ کا کھانا بھی سماعت پر اثر ڈالتا ہے ۔


یہ شکایت تقریباً عام ہے کہ ناک بند ہوجاتی ہے ۔اگر یہ شکایت بالغ لڑکوں کو ہوتو سمجھ لینا چاہیے یہ پیدایشی مرض ہے ۔ا س سے زندگی خطرے میں پڑسکتی ہے ،لہٰذا اس کی سر جری کرالینا بہتر ہے ۔بچے جب تک منھ سے سانس لیتے ہیں ،اس وقت تک تشویش کی کوئی بات نہیں ہوتی ،البتہ جب وہ ناک سے سانس لینے لگتے اور ان کے چہرے سرخ ہونے لگتے ہیں تو ہمیں محتاط ہوجانا چاہیے ۔

ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ناک کے عقبی حصّے میں کوئی مزاحمت یار کاوٹ ہونے لگتی ہے ۔
اگر ابتدا میں اس کا پتا چل جائے تو سہولت سے علاج ہوجاتا ہے۔
حسّا سیت (الرجی) ،تعدیہ (انفیکشن )،مڑی ہوئی ناک یا ناک کی نسیجوں کے جوف کاورم (جس کی وجہ سے نزلہ ہوجاتا ہے )عام قسم کے مسائل ہیں ۔بچوں کے تعدیے پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ مائیں اپنے نونہالوں کو بیٹھ کر دودھ پلائیں ۔

بچے کو اونگھتا ہو انہیں ،چاق چو بند ہونا چاہے ۔دودھ کی بوتل کا استعمال جتنا کم کیا جائے،تعدیہ اتنا ہی کم ہو گا ۔لمنائی نسیج(ADENOIDS) جو ناک کے پچھلے حصے اور حلق میں ہوتی ہے ،جب بڑھ جائے تو بچوں کو سانس لینے میں دشواری پیش آنے لگتی ہے ،لہٰذا وہ منھ سے سانس لینے لگتے ہیں ۔
حلق میں خراش پڑنا یا حلق کا دُکھنا عام سی بیماری ہے ،لیکن حلق کی گلٹیوں (TONSILS)کا اگر ابتدائی مرحلے میں علاج نہ کرایا جائے تو پھر گردے متاثر ہوجاتے ہیں اور اس کے بعد دل کی باری آجاتی ہے ۔

حلق کی مزمن بیماریوں سے عارضہ دل لاحق ہوجاتا ہے ۔اسی طرح حلق کی بیماری میں پیچیدگی پیدا ہوجائے تو گردوں کی بیماریاں ہوجاتی ہیں۔
حلق میں کم تردرجے کے زخم(ULCER) کی بیماری بھی یہاں عام ہے ۔وطنِ عزیز میں لوگوں کو سگرٹ نوشی اور حقہ نوشی کی عادت ہے ،جو شدید نقصا ن دہ ہے ،لیکن اس سے بھی زیادہ مہلک سپاری ،نسوار اور گٹکا چبا نا ہے ۔ان چیزوں کے کھانے سے حلق متاثر ہوتا ہے اور بالآخر سرطان ہوجاتا ہے،اس لیے زبان کے سرطان کے مریضوں کی تعداد ہمارے ہاں زیادہ ہے ۔


حلق کی خراش کا علاج ابتدائی مرحلے میں کرالیا جائے تو پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے ۔زیادہ ٹھنڈی اور ترش چیزیں نہ کھائیں ۔رات کو بستر پر جانے سے پہلے کولا مشروب نہ پییں ۔اس کے بجائے گرم پانی یا دودھ پییں ۔سونے سے پہلے گرم پانی سے کُلّیاں کریں ۔کھانے کے بعد فوراً نہ سوئیں ۔اس سے کھانا ہضم نہیں ہوتا اور تیزابیت بڑھ جاتی ہے ۔یہ چیزیں حلق پر بھی بُرا اثر ڈالتی ہیں ۔

کھانا کم اور سونے سے دو گھنٹے پیشتر کھائیں ۔زیادہ مسالے دار اور روغنی چیزیں کھانے سے پر ہیز کریں ۔
ملک میں ہر پانچ میں سے ایک فرد کان ،ناک یا حلق کے مسائل سے دوچار ہے ۔آواز بیٹھنا بھی ایک بڑی بیماری ہے ،جو ہفتے ،دوہفتے میں نہیں جاتی ۔اس کی مثال بالکل ایسی ہے ،جیسے ہوائی نالی میں رسولی ہوجاتی ہے ۔ابتدائی مرحلے میں یہ 95فی صددرست ہوجاتی ہے ،لیکن چوتھے مرحلے میں صحت یابی کا 50فی صد بھی امکان نہیں رہتا ۔

چناں چہ ابتدائی مرحلے میں اس کا علاج کرالینا چاہیے۔آواز کا بیٹھنا ،منھ کی رسولی اور نتھنوں یا کان سے خون بہنے کا علاج بھی بروقت کرنا بہتر ہوتا ہے ۔کان ،ناک اور حلق کی تمام تکالیف کے لیے سرجری کرانا ضروری نہیں ہے ۔
ابتدائی مرحلے میں 70سے 80فیصد امراض احتیاط کرنے اور ادویہ کھانے سے جاتے رہتے ہیں ۔صرف 2فی صدیا اس سے بھی کم کی سرجری کرانی پڑتی ہے ۔

چوں کہ آج کل سرجری ترقی کر چکی ہے ،چناں چہ نہ تو خون بہتا ہے اور نہ تکلیف ہوتی ہے ۔یہ سرجری دن کی روشنی میں ہوتی ہے اور مریض کو شام تک گھرجانے کی اجازت دے دی جاتی ہے ۔
ناک کی ہڈی کا ٹیڑھا ہونا یا بڑھنا ایک ہی بیماری کے دو نام ہیں ۔ضروری نہیں ہے کہ جس مریض کی ناک کی ہڈی مڑی ہوئی ہو ،اس کی ناک بھی ٹیڑھی ہو ۔دیکھنے میں ناک سیدھی بھی ہوسکتی ہے ۔

ناک پیدایش کے وقت ہی مڑجاتی ہے ۔جب پیدایش عمل میں آرہی ہوتی ہے تو لمبی قامت کے بچے کے پیڑ و
(PELVIS) پر دباؤ ڈالا جاتا ہے ،جس سے ناک مڑجاتی ہے۔پیدایش کے وقت بچہ نارمل لگتا ہے ۔مڑی ہوئی ناک کوپیدایش کے دو یا تین دن کے اندر سرجری سے درست کر ا لینا چا ہیے ۔
چوٹ لگنے کی صورت میں بھی ناک مڑسکتی ہے ۔بعض اوقات چوٹ لگنے کی صورت میں خون نہیں نکلتا ،لیکن ناک کی ہدی مڑجاتی ہے ۔

اسی کے ساتھ بچے کی بڑھوتری ہوتی رہتی ہے ۔پھر ناک مڑی ہوئی نظر آتی ہے ،جس کا علاج سر جری ہے ۔ناک کی ہڈی اندر سے مڑجانے کی صورت میں بلغم صحیح طور پر باہر آنے کے بجائے ناک کے پچھلے حصے میں گرنے لگتا ہے،جس سے مریض کے سر میں درد ہوتا ہے ،ناک بند ہونے لگتی ہے اور سانس میں بُو پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کے کسی ایک نتھنے سے خون آنے لگتا ہے اور اسے تعدیہ بھی ہوجاتا ہے ۔

جب تعدیہ ختم ہوجاتا ہے تو ناک کھل جاتی ہے اور مریض افاقہ محسوس کرتا ہے ،اس لیے صحیح طور پر سانس نہ لے پانے کی صورت میں اوکسیجن کی صحیح مقدار جسم اور دماغ میں نہیں پہنچ پاتی ،جس سے مریض کی دماغی کارکردگی پر اثر پڑتا ہے ۔
ایک لڑکا جو ابتدا سے منھ سے سانس لے رہا ہے ،16برس کی عمر تک منھ سے سانس لیتا رہے تو اس کے دانت ٹیڑھے ہوسکتے ہیں ۔

اسی صورت میں والدین کو بچے کو ماہرِ دنداں کے پاس لے جانا پڑتا ہے ۔جب تک ناک بند ہو ،ماہرِ دنداں کے پاس نہیں جانا چاہیے ،اس لیے کہ مریض اگر منھ سے سانس لیتا رہا تو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکتے ۔ماہرِ دنداں بھی یہی چاہے گا کہ دانتوں کا علاج کرنے سے پہلے ناک کُھلی ہوئی ہو ۔
سوتے میں خراٹے لینا بھی ایک ناگوار عمل ہے ،جو عموماً فربہ افراد سے سرزد ہوتا ہے ۔

حلق یاناک کے عقبی حصے میں رکاوٹ پیدا ہو جائے ،تب بھی خراٹے آنے لگتے ہیں ۔اس کا صحیح سبب معلوم کرکے علاج کرانا چاہیے ،،ورنہ دل پر اثر پڑسکتا ہے ۔بعض اوقات کان کے پردے میں سوراخ ہوجاتا ہے ،جس کا تعلق بہر حال سماعت سے ہے ۔
چوں کہ یہ دماغ سے نزدیک ہوتا ہے ،اس لیے اسے بھی متاثر کرتا ہے ۔اس کا علاج فوراً کرالینا چاہیے ،اس لیے کہ تعدیہ دماغ تک پہنچنے لگتا ہے اور دماغ غیر محفوط ہوجاتا ہے ۔

جب علاج سے تعدیہ ختم ہوجاتا ہے تو بہتری کی صورت پیدا ہوتی ہے۔اگر سرجری کرالی جائے تو95 فی صد کا م یا بی ہوجاتی ہے ۔
کچھ لوگوں کو نزلہ زکان ہوتا ہے تو ان کے حلق میں ریزش ہوتی ہے ۔اس کے ساتھ ہی کان میں کھجلی ہوے لگتی ہے ۔
اسیے افرادکو چاہیے کہ وہ ٹھنڈا پانی پینا چھوڑ دیں ۔وہ گرم پانی یا گرم دودھ پییں ۔ترش چیزوں سے پرہیز کریں ۔اگر پھر بھی افاقہ نہ ہوتو معالج سے رجوع کریں ۔

یہ کہنا غلط ہے کہ دودھ پینے سے بلغم پیدا ہوتا ہے ،البتہ ان مریضوں کو دودھ نہیں پینا چاہیے ،جنھیں دودھ موافق نہیں آتا ،بہر حال دودھ ،کیلا یا چاول بلغم پیدا نہیں کرتے ۔
حلق کی مزمن بیماریوں میں گلٹیوں کا پھولنا بھی شامل ہے ۔یہ ایک ،بیکٹیریا سے ہوتا ہے ،البتہ دوسری چیزوں سے تعدیہ ہوجاتا ہے ۔وہ افراد جو حلق کے معاملے میں محتاط رہتے اور پرہیز کرتے ہیں ،ان کو تکلف نہیں ہوتی اور مسائل پیدا نہیں ہوتے ،البتہ حلق میں جلن اور سوزش زیادہ ہونے لگے اور ضد حیوی ادویہ (اینٹی بایوٹکس )کھانے سے بھی نہ جائے تو سرجری کرالینی چاہیے۔

تاریخ اشاعت: 2018-11-30

Your Thoughts and Comments