Kacha Papita Pakka Papita - Article No. 1947

کچا پپیتا پکا پپیتا - تحریر نمبر 1947

پیر ستمبر

Kacha Papita Pakka Papita - Article No. 1947

معلوم نہیں،کیا وجہ ہے کہ پپیتے کو عربی زبان میں ثمر الملائکہ کہا جاتا ہے۔بہر حال فرشتوں سے پپیتے کی کوئی نسبت ہو یا نہ ہو ،انسان کے لئے یہ پھل اپنی غذائیت اور دیگر طبعی فوائد کے اعتبار سے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔پپیتے (Papaya) میں کئی اہم غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں اور بعض ایسی رطوبتیں بھی جو پورے نظام ہضم پر خوش گوار اثر ڈالتی ہیں۔ پپیتے میں پروٹین،نشاستہ،چکنائی،معدنیات کے علاوہ وٹامن اے بی اور سی بھی موجود ہوتے ہیں۔

پپیتا بدن کو غذائیت دیتا اور اس کی پرورش کرتاہے،بھوک لگاتا ہے۔کھانا ہضم کرتا ہے اور گیس خارج کرتا ہے۔یہ ایسے لوگوں کے لئے مفید ہے جنہیں قبض کی شکایت ہو۔پپیتا پیشاب آور اور گردوں اور مثانہ کی پتھری کے اخراج میں بھی مدد دیتا ہے۔معدہ، جگر اور تلی کے مریضوں کے لئے بھی پپیتا بہت فائدہ مند ہے۔

(جاری ہے)


پپیتا ہر عمر اور ہر جنس کے افراد کے لئے مفید پھل ہے لیکن بزرگوں کو جن کے معدے کمزور ہوں یا دائمی قبض کے مریضوں کو چاہیے کہ پپیتے کو اپنی غذاکا لازمی جزو بنا لیں۔

کئی پھلوں کے مقابلے میں پپیتے میں کیروٹین کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہے جو غذا کو وٹامن اے میں تبدیل کرنے کی خاصیت رکھتی ہے۔کیلوریز کم ہونے کے باعث ڈائٹنگ کرنے والے افراد کے لئے یہ بہت مفید پھل ہے۔اس کے اندر وٹامن سی وافر مقدار میں موجود ہے۔پپیتا کچی حالت میں بھی کئی کاموں میں لایا جاتا ہے۔کچے پپیتے سے ایک جوہر بھی نکالا جاتا ہے جس کا نام پے پین ”Papain“ ہے ۔

فوائد میں یہ ”پیپسین“ سے مشابہ ہے جو نظام ہاضمہ کے عمل کو تیز کرتی ہے۔اس کا کام ہے معدے کو طاقت دینا اور معدے میں پیدا ہونے والی ہاضم رطوبتوں کی مقدار کو بڑھانا۔بڑی عمر کے افراد میں ہاضم رطوبتوں کی کمی ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے پروٹین والی غذائیں ہضم کرنا ان کے لئے بہت مشکل ہو جاتا ہے،پے پین ایسی غذاؤں کے ہضم ہونے میں مدد دیتی ہے۔

اس سے پیٹ کے کیڑوں کی دوائیں بھی تیار کی جاتی ہیں۔
کچے پپیتے کی لمبی لمبی قاشیں کاٹ کر دھوپ میں رکھنے سے ان قاشوں پر سفید رطوبت سی آجاتی ہے اس کو پیپین کہتے ہیں۔کچا پپیتا، اس کی دودھیا رطوبت،سخت گوشت کو گلانے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔کچے پپیتے کا اچار اور چٹنی بھی بنائی جاتی ہے۔یہ تلی کے ورم یا اس کے بڑھ جانے میں خاص طور پر مفید ہوتا ہے۔

تلی کی سختی اور ورم کے لئے اس کی قاشیں انگور کے سرکے میں بطور اچار ڈال کر آٹھ دس دن بعد ایک قاش نہار منہ کھانا مفید سمجھا جاتا ہے۔پیٹ کے کیڑوں میں بھی اس سے مدد لی جاتی ہے۔پپیتا پکا ہوا ہو تو میٹھا اور خوش ذائقہ ہوتا ہے۔ اس کی چاٹ بھی مزے دار ہوتی ہے،اس میں چنے آلو،لیموں وغیرہ شامل کر لینے سے یہ قدرتی ملٹی وٹامن و منرلز سے بھرپور ہو جاتی ہے۔

پپیتا کے استعمال سے خون کو قیمتی غذائی اجزاء خوب ملتے ہیں اور خون صاف ہو کر جلد اور چہرے پر سرخی دوڑا دیتا ہے۔اس کے گودے کے استعمال سے خون صاف ہو تا ہے اور صفرہ پتلا ہو کر چھوٹی آنت میں زیادہ مقدار میں پہنچتا ہے،اس طرح ہضم کرنے کی قوت بڑھ جاتی ہے۔ روغنی و ثقیل غذاؤں کے بعد پپیتا کھانے سے غذا آسانی سے ہضم ہو جاتی ہے۔کچا پپیتا نظام انہضام اور آنتوں کی تقویت کے لئے بھی مفید ہے۔

کدوکش کرکے خشک کرکے حسب ذائقہ نمک کے ساتھ تھوڑا تھوڑا استعمال کرنے سے ہاضمہ درست رہتا ہے۔
پپیتا خواتین کے لئے بھی مفید ہے لیکن حمل کے دوران اسے بہت زیادہ مقدار میں استعمال نہیں کرنا چاہیے۔خصوصاً کچا پپیتا تو بالکل نہیں۔ کچے پیتے کا رس رحم کی بیماریوں کے لئے مفید بتایا جاتا ہے۔اگر زیادہ مقدار میں کھایا جائے تو خواتین کے منتھلی کورس کھل کر جاری ہو جاتے ہیں۔

پپیتا نا صرف صحت کی حفاظت کرتا ہے بلکہ حسن اور جلد کی دلکشی بھی بڑھاتا ہے اور صاف ستھرا خون،مضبوط ہاضمہ کی ضرورت ہے۔ اس پھل کے گودے کو چہرے کی کریم اور بالوں کے شیمپو میں بھی شامل کیا جاتا ہے۔پھل کے چھلکے جو پیپن نامی مادے پر مشتمل ہوتے ہیں چہرے پر بیوٹی ماسک لگانے کے بھی کام آتے ہیں اور گیس کی ادویات میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔افریقی ممالک میں پپیتے کا گودہ زخموں پر بطور مرہم اور ٹیومر تک کے علاج میں استعمال کیا جا رہا ہے۔


ایک پکے ہوئے پپیتے میں وٹامنز اے،فولاد اور وٹامن سی کی مقدار بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔چونکہ اس پھل میں وٹامن اے کثیر مقدار میں ہوتا ہے اسی لئے اسے بالوں کی افزائش اور جلد میں نکھار پیدا کرنے والا قدرتی ٹانک بھی کہا جاتا ہے۔پپیتے کی شاخ توڑی جائے تو چند قطرے دودھ کی مانند سفید رنگ کی ایک رطوبت حاصل ہوتی ہے بعض بڑی بوڑھیوں کا کہنا ہے کہ کچے پپیتے سے حاصل ہونے والی رطوبت کو روغن بادام یا کسی اچھی سی کریم میں ملا کر ہلکے ہاتھوں سے مساج کرنے سے جلد اور چہرے کی رنگت نکھرتی ہے اور چہرے پر سے داغ دھبے،چھائیاں ختم ہو جاتی ہیں۔


پپیتا نظام ہاضمہ کے لئے جتنا موثر مانا جاتا ہے،اسی قدر اس پھل کے فوائد جلد کے لئے بھی زود اثر تسلیم کیے جاتے ہیں۔پپیتے میں انزائم کی وافر مقدار موجود ہے جو جلد کی مجموعی صحت کو بہتر کرتی ہے۔پپیتے کا چھلکا بعض پرانے زخموں پر لگانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔جلد کو تحفظ پہنچانے اور جسم میں بھرپور غذائیت کے انجذاب کی خصوصیات کی وجہ سے اسکن کیئر میں پپیتے سے فائدہ حاصل کیا جاتا ہے۔

کیل مہاسوں،دانوں،جھائیوں اور جھریوں میں پپیتے میں موجود طاقتور انزائم تیزی سے اثر دکھاتے ہیں۔وٹامنز اے اور سی جلد کو نئی تازگی دیتے ہیں۔پپیتے کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اس پھل کے گودے میں قدرت نے جلد کے نئے خلیات کی افزائش اور مردہ خلیات کی صفائی کی خاصیت بھی رکھی ہے۔بیٹا کیروٹین جیسا اینٹی آکسیڈنٹ جلد کے کولاجن کی مقدار میں اضافہ کرتا ہے۔


پپیتے کا رس قدرتی سن بلاک کا کام بھی کرتا ہے۔یعنی شعاعوں سے ہونے والے سن برن کا خاتمہ کرتا ہے۔جلد کی رنگت نکھارنے کے لئے پپیتے کا گودا استعمال کیا جاتا ہے۔پپیتا بے رونق بالوں کو بھی نئی زندگی دیتا ہے۔پپیتے کے درمیان کا حصہ جہاں بیج موجود ہوتے ہیں ان بیجوں کے اردگرد گودے میں پورے پھل سے زیادہ مقدار میں انزائمز پائے جاتے ہیں۔

ذیل میں چند مفید ٹپس دی جا رہی ہیں جو کہ آپ کی جلد اور بالوں کے لئے مفید ہو سکتی ہیں۔
سکری کے لئے
ایک پیالی پکے ہوئے پپیتے کاگودا،آدھی پیالی کیلے کا گودا،آدھی پیالی کوکونٹ ملک اور چار قطرے روز میری ایزنشیل آئل ،تمام اجزاء کو ملا کر پیسٹ بنا لیں۔سر کی کھال اور بالوں میں اس پیسٹ سے مساج کریں۔بیس منٹ لگا رہنے دیں،اس کے بعد بالوں کو نیم گرم پانی سے اچھی طرح دھو لیں۔


اسکرب
ایک چوتھائی پیالی پکے ہوئے پپیتے کا گودا،ایک چائے کا چمچ بادام کا پاؤڈر،ایک چائے کا چمچ جئی کا پاؤڈر اور ایک چوتھائی چائے کا چمچ شہد ملا کر ایک ایئر ٹائٹ بوتل میں رکھ لیں۔
فیس ماسک
ایک چوتھائی پکے ہوئے پپیتے کی قاش،چار چائے کے چمچ سبز ملتانی مٹی اور ایک چائے کا چمچ ایلو ویرا کا گودا(Gel) ان تمام اجزاء کا پیسٹ بنا کر چہرے اور گردن پر لگائیں۔

بیس منٹ بعد ٹھنڈے پانی سے دھولیں۔
کلینرز
تین چائے کے چمچ خالص شہد،آدھا چائے کا چمچ زیتون کا تیل اور ایک چائے کا چمچ پپیتے کا رس ملا لیں۔چہرے کو نیم گرم پانی سے دھو کر نم جلد پر اس کلینرز سے مساج کریں۔پندرہ منٹ بعد چہرہ دھولیں۔بہتر نتائج کے لئے ہفتے میں دو بار استعمال کریں۔چہرے اور گردن پر اس اسکرب سے ہلکے ہاتھوں سے مساج کریں جب پیسٹ چہرے پر پھٹنے لگے تو مزید پیسٹ لگا کر مساج کریں۔

بیس منٹ لگا رہنے دیں پھر ٹھنڈے پانی سے چہرہ اور گردن دھولیں۔یہ اسکرب جلد کی غذائی ضرورت پورا کرکے اسے شاداب کرتا ہے۔داغ دھبوں اور سرخی کے لئے پکے ہوئے پپیتے کا ایک قتلا،آدھا چائے کا چمچ ہلدی پاؤڈر اور ایک چائے کا چمچ اراروٹ ملا کر چہرے کے داغ اور سرخی پر لگائیں۔ جب پیسٹ خشک ہو جائیں تو ٹھنڈے پانی سے چہرہ دھولیں،بہتر نتائج کے لئے چند روز استعمال کریں۔

تاریخ اشاعت: 2020-09-07

Your Thoughts and Comments