بند کریں
صحت مضامینمضامینکالا یرقان خاموش قاتل

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کالا یرقان خاموش قاتل
پاکستان دُنیا بھر میں ھیپا ٹائٹس C سے متاثرہ تیسرا بڑا ملک ہے

کالا یرقان خاموش قاتل
راحیلہ مغل:
ھیپاٹائٹس خطرناک مرض ہے اسکے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی لوگوں کو اس مرض سے ناصرف بچا سکتی ہے بلکہ اس کے ایک دوسرے کو منتقل ہونے کے خطرے کو بھی کم کرسکتی ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ تشخیص کے مراحل سے گزرا جائے اور اگر ضرورت ہوتو اس کا علاج کرایا جائے۔ لیکن دنیا میں ہیپاٹائٹس کے مرض سے آگہی اور اس کے علاج کی صورت حال کا اندازہ ان اعدادوشمار سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف 5 فیصد مریضوں کے اپنے مرض کے بارے میں علم ہے اور ایک فیصد سے بھی کم کو اس کے علاج کی سہولیات تک رسائی حاصل ہے۔ اس مرج کے علاج کے لئے ماضی قریب میں استعمال ہونے والے مہنگے انجیکشن بھی علاج سے دوری کی ایک بڑی وجہ تھے۔ اس کے علاوہ پیپاٹائٹس کا ٹیسٹ پچیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ مہنگا بھی ہے اور بہت سے ممالک میں موجود اکثرتشخیص لیبارٹریوں کی کم اہلیت بھی ایک محرک ہے ، یعنی دنیا بھر میں پیپاٹائٹس کے بارے میں کم آگہی اور اس کے علاج کی محدود اور ناکافی سہولیات کا مطلب ہے کہ وہ لوگ جنھیں علاج کی ضرورت ہے وہ اسے حاصل نہیں کرپارہے، نتیجتاََ وہ معیاری زندگی گزارنے سے نہ صرف محروم ہین بلکہ ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کا ایک بڑا محرک بھی۔ وطن عزیزکے چھوٹے بڑے شہروں کی کئی ایک دیواریں ، کچھ اخبارات میں چھپنے والے اور چند کیبل نیٹ ورکس پر نشر ہونے والے اشتہارات اس بات کی ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں کہ ملک ہیپاٹائٹس کی بیماری سے بڑھ رہی ہے۔ علاج کے نام ہر دیئے جانے والے یہ پیغامات اور اشتہارات اکثر ایسے اداروں،کمپنیوں اور انفرادیوں کی جانب سے ہوتے ہیں ، جو ہیپاٹائٹس کے مریضوں کو شفاء دینے کی بجائے اُن کے مرض میں بگاڑ کا باعث بنتے ہیں اور مریضوں کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں۔ ہیپاٹائٹس کے لاعلاج ہونے کے حوالے سے معاشرے میں موجود تاثر ، اس کے مستند اور جدید علاج سے جڑی افواہیں اور مرض کے لاحق ہونے کی بدنامی کاڈر مریضوں کو عطائیوں کے مرہون کردیتا ہے، جس کا نتیجہ اکثر پچھتاوے کی صورت میں نکلتا ہے۔ ایسی صورت میں اس پیغام کو عام کرنے کی ضرورت ہے کہ ہیپاٹائٹس مکمل طور پر قابلِ علاج مرض ہے۔ اور اس کا جدید ایلو پیتھک علاج 95 فیصد سے بھی زائد مثبت نتائج کا حامل ہے اور جو بھی منفی آراء اس حوالے سے پھیلائی جاتی ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔ا س تمام تر وضاحت کی ضرورت اس لئے بھی ہے کہ ایک طرف تو پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے مرض میں اضافہ ہورہا ہے تو دوسری جانب عوام الناس میں مرض پھیلنے کی وجوہات سے لاعلمی ، جدید علاج کی سہولیات کا فقدان اور عطائیت صورتحال کو پچیدہ بنارہی ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے اور ہیپاٹائٹس کے مرض سے بچاؤ کاصد فیصد تعلق صرف احتیاط سے ہی ہے۔ وہ احتیاط پینے کے آلودہ پانی کے استعمال، کھانے کی غیر معیاری چیزوں ، ذاتی صفائی ستھرائی کا خیال رکھنے کی صورت میں تو ہے ہی لیکن ٹیکہ لگواتے وقت نئی سرنج کا استعمال ، خون لگواتے وقت اس کا تمام طرح کی بیماریوں سے مبرا ہونے کی تصدیق شدہ ہونا، دانتوں کے علاج اور نکلوانے کے لئے استعمال ہونے والے آلات کا جراثیم کش ہونا ،دانت صاف کرنے کے لئے صرف اور صرف اپنا ذاتی برش استعمال کرنا، ناخن تراشنے کے لئے اپنا ناخن کٹر استعمال کرنا، شیوبنواتے یا حجامت کرواتے وقت ہر بار نیا بلیڈ استعمال کرانا،جسم ہر کسی قسم کے نشانات بنانے کے لئے اور کان وناک چھیدوانے کے لئے نئی اورجراثیم کش سوئی کا استعمال کرنا ، بیوٹی پارلرز میں خواتین کے میک اپ اور چہرے کی صفائی کے لئے استعمال ہونے والی چیزوں کا جراثیم کش ہونا ،متاثرہ خاتون کا ڈاکر سے مشورے سے حاملہ ہونا اور متاثرہ فرد سے جنسی تعلق میں احتیاط ، سے صرف س مرض سے بچ سکتے ہیں بلکہ اس کے پھیلاؤ کو بھی روک سکتے ہیں لیکن ان احتیاطوں سے لا علمی کی وجہ سے اکثریت ہیپاٹائٹس کے مرض کا شکار ہوجاتی ہے۔ اس وقت دنیا میں 32 کروڑ 80 لاکھ افراد مختلف طرح کے ہیپاٹائٹس کا شکار ہیں۔ اور ہرسال 17 لاکھ 50 ہزار ہیپاٹائٹس سی کے نئے کیسز سامنے آرہے ہی جبکہ 2015 میں ہیپاٹائٹس کی وجہ 13 لاکھ 40 ہزار اموات واقع ہوئیں۔ اب تک اس مرض کی وجہ سے ہونے والی اموات میں22 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی گلوبل ہیپاٹائٹس رپورٹ 2017 کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس بی کے مریضوں کی تعداد 25 کروڑ70 لاکھ تک پہنچ چکی ہے جو دنیا کی آبادی کا 3.5 فیصد ہے جبکہ پیپاٹائٹس سی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 7 کروڑ 10 لاکھ ہے، جو دنیا کی آبادی کا ایک فیصد ہے۔ ہیپاٹائٹس کی مجموعی طور پر پانچ اقسام ہیں یعنی اے بی،سی،ڈی اور ای ۔ یہ تمام اقسام جگر کی بے شمار پچیدگیوں حتیٰ کہ کینسر کا بھی باعث بنتی ہیں۔ ہیپاٹائٹس اے عموماََ جسم ہم یرقان یا پیلیا بھی کہتے ہی آلودہ پانی اور خوراک کے استعمال سے لاحق ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ متاثرہ فرد سے براہ راست تعلق سے بھی پھیلتا ہے۔ ذاتی اوراپنے اردگرد کے ماحول کی صفائی ستھرائی کی کمی بھی اس مرض کے پھیلنے کا باعث بنتی ہے ۔ خصوصاََ بیت الخلاء کے استعمال کے بعد صابن سے ہاتھ نہ دھونے اور کھانا بنانے اور کھانے سے پہلے صابن سے ہاتھ دھونے کے طرز عمل کے باعث پیپاٹائٹس سے لاحق ہوسکتا ہے۔ جبکہ بی، سی اور ڈی انتقال خون اور جسمانی رطوبتوں ،متاثرہ شخص سے جنسی تعلق ، آپریشن ،دانتوں کے علاج اور سرجری کے ایسے آلات جومناسب طور پر جراثیم سے کشید نہ ہوں، جسم کو چھیلنے ،کانٹے اور جلد میں داخل ہونے والی کوئی آلودہ سوئی بلیڈ ،نیل کٹر اور چاقو وغیرہ اس کے لاحق ہونے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اسی طرح پیپاٹائٹس ای زیادہ تر آلودہ پانی کے استعمال خصوصاََ برسات اور سیلاب میں اپنا رنگ دکھاتا ہے لمحہ فکر یہ ہے کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس کی پانچ اقسام موجود ہیں اور یہ ہماری بدقسمتی ہے جس کا اظہار ورلڈ گیسٹر انٹالوجی آرگنائزیشن نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کچھ یوں کیا ہے کہ پاکستان دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس سی سے متاثرہ تیسرا بڑا ملک ہے۔اس کے علاوہ ایک بدقسمتی یہ بھی ہے کہ ملک میں پیپاٹائٹس کے مرض کے حوالے سے دستیاب اعدادوشمار تقریباََ ایک عشرہ پرانے ہیں۔ پاکستان میڈیکل ریسرچ کونسل کے 08-2007 میں پرویلنس آف ہیپاٹائٹس بی اینڈ سی ان کرنل پاپولیشن آف پاکسان نامی سروے کے مطابق اُس وقت ملک کی 7.4 فیصد آبادی ہیپاٹائٹس بی یا سی کا شکار تھی یعنی آج سے دس سال پہلے تک یہ مرض ایک کروڑ 18لاکھ پاکستانیوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا۔ہیپاٹائٹس سی کے حوالے سے پاکستان کی سطح پر سب سے زیادہ متاثرہ پہلے دس اضلاع میں سے 9 کا تعلق پنجاب سے اور ایک کا سندھ سے تھا۔ اس حوالے سے ملکی سطح پر سب سے زیادہ متاثرہ ضلع وہاڑی تھا جہاں اس مرض کی شرح 13.1 فیصد تھی۔ صوبائی سطح پر سندھ میں ضلع گھوٹکی اس مرض سے متاثر تھا۔ خیبر پختونخواہ کا ہنگو ضلع اور بلوچستان کا موسیٰ خیل ضلع صوبائی سطح پر ہیپاٹائٹس سی سے زیادہ متاثرہ تھے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے