Kan Ka Dard

کان کا درد

Kan Ka Dard

کان کے درد کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں سرد ہوا کے تھپیڑوں سے کان میں درد ہونے لگتا ہے کان کے ورم Inflamation سے بھی درد ہونے لگتا ہے بعض اوقات کان کے درد کا سبب کان کی بیماری نہیں بلکہ کسی دوسرے عضو کی کوئی بیماری ہوتی ہے دانت،ناک،زبان،گلے اور جبڑے وغیرہ کی بیماریوں کے باعث کان میں درد ہوسکتا ہے اکثر اوقات ایک عام آدمی کے لئے درد کے سبب کاسراغ لگانا مشکل ہوتا ہے۔


علاج:کم و بیش ہر قسم کے کان کے درد کے لیے اسپرین بہترین علاج ہے عموماً یہ درد کان کی کسی خرابی کی وجہ سے ہوگا اس لیے کان میں سینو ڈان ائیر ڈراپس Sanodon ear dropکے چند قطرے ٹپکانا مفید ہے گرم کپڑے سے کان کی ٹکور کریں اگر درد ٹھیک نہ ہو رہا ہو یا درد کی وجہ سے تیز بخار آنے لگا ہو یا آپ کی سماعت میںکمی آگئی ہو یا یہ درد منہ ناک یا گلے کی کسی بیماری کی وجہ سے ہو توفوراً ڈاکٹر سے مشورہ کریں ۔

(جاری ہے)


کان کی کھجلی:صاف روئی کا ٹکڑا بیوروسلوشنBurow"s solution میںبھگو کر کان کی نالی میں ٹھونس دیں ہر چھ گھنٹے بعد روئی کو اس دوا سے ترکرتے رہیں روزانہ پرانی روئی نکال کر نئی روئی کان میں ڈالیں نفسیاتی تناﺅ کم کرنے والی دوائیں لارجیکٹل سٹیلازین اے وومین وغیرہ بھی کھجلی کا احساس کم کردیتی ہے اگرکھجلی زیادہ شدید ہو یا ٹھیک نہ ہوسکے تو ڈاکٹرسے مشورہ کریں۔


کانوں میں گھنٹیاں اور سیٹیاں بجنا:جوں جوں انسانی زندگی میں شور شرابا بڑھتا جارہا ہے اس کے ساتھ ہی اس بیماری میں اضافہ ہوتا جارہا ہے کانوں میں مسلسل شور پڑتے رہنا اس بیماری کہا اہم سبب ہے سخت شور میں کام کرنے والا شخص کے کانوں میں بجنے والی گھنٹیاں بہرے پن کی ابتدائی علامت ہوتی ہے اکثر اوقات یہ بیماری نفسیاتی یا اعصابی نوعیت کی ہوتی ہے کان کا میل درد پھوڑا کان بہنا اور کان کی جھلی کا زخمی ہونا اس کے دیگر اہم اسباب ہیں بعض اوقات کونین یا سٹریپٹو مائسین قسم کی دوائیں اس بیماری کا سبب بن سکتی ہے مریض کو کان میں گھنٹیاں یا سیٹیاں بجتی سنائی دیتی ہے یا بعض اوقات تیز ہوا چلنے یا پتوں کے سرسراہٹ کی سی آواز سنائی دیتی ہے دن کے وقت مریض جب اپنے کام میں لگ جاتا ہے تو ان آوازوں کا احساس کم ہوجاتا ہے لیکن رات کے وقت جب ہر طرف خاموشی چھاجاتی ہے تو ان آوازوں کی شدت میں اضافہ ہوجاتا ہے یہ آوازین مریض کو نفسیاتی مریض بنادیتی ہے بعض لوگ ان سے تنگ آکر خودکشی تک کر بیٹھتے ہیں۔


علاج:اس بیماری کا دواﺅں کے ذریعے علاج کرنا بہت مشکل ہوتا ہے البتہ نفسیاتی تدابیر اکثر مفید ثابت ہوتی ہے مریض کو اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ یہ کوئی مہلک یا خطرناک بیماری نہیں ،فالتو وقت میں کوئی مشغلہ اختیار کرنا ممد ثابت ہوسکتا ہے نفسیاتی تناﺅ کم کرنے والی دوائیں مثلاً لارجیکٹل سٹیلازین وغیرہ ان آوازوں سے توجہ ہٹانے میں خاصی مفید ثابت ہوتی ہے لیکن ان دواﺅں کا عادی بننا بذات خود ایک خرابی ہے تنہائی مریض کے لیے خطرناک ہے شور شرابے سے دور رہیں ایسا پیشہ ترک کردیں جس میں ہر وقت شور سننا پڑتا ہے اگر ایسا ممکن نہ ہو تو خود کو ماحول کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں اگر آپ کسی اعصابی یا کان کی بیماری کا شکار ہیں تو اس کا علاج کریں اگر آپ اس بیماری سے خود نجات حاصل نہ کرسکیں تو ڈاکٹر سے مشورہ کرسکتے ہیں لیکن یہ نہ بھولیے کہ اپنی ذات پر بھروسہ کرنا اس بیماری کا بہترین علاج ہے۔

تاریخ اشاعت: 2018-01-27

Your Thoughts and Comments