بند کریں
صحت مضامینمضامینخواب آور گولیوں سے پرہیز کیجئے

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
خواب آور گولیوں سے پرہیز کیجئے
خود تشخیصی طور پر مسکن ادویہ کھانے کا رجحان لوگوں میں اس لیے بڑھتا جارہا ہے کہ انہیں کم خوابی کے علاوہ اضمحلال و افسردگی، تشویش اور انتشار جیسے عوارض بھی لاحق ہوچکے ہیں۔
ڈاکٹر عظمیٰ عنبرین:
ایک ماہر نفسیات کی حیثیت سے میں اپنے ان مریضوں کا بغور معائنہ اور انکے تفصیلی حالات معلوم کرتی ہوں، جو مجھ سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ میں ان کیلئے خواب آور دوائیں تجویز کروں۔ ایک مریضہ نے مجھے حال ہی میں بتایا ”میری بہن جب اضمحلال و افسردگی (DEPRESSION) کا شکار ہوتی ہے تو سبز رنگ کی گولی کھالیتی ہے، جس سے اسے فائدہ پہنچتا ہے۔ اس نے مجھے بھی کئی بار کھانے کیلئے وہ گولیاں دی ہیں، جن سے مجھے سکون ملا ہے۔ ایک دن میں نے اس سے کہا کہ وہ ایسا کرے کہ مجھے بھی ان گولیوں کے نام لکھ کر دے دے، تاکہ جب بھی مجھے بے خوابی کی شکایت ہو تو میں وہ گولیاں کھالوں۔“
جب تک مریضوں کو اشد ضرورت نہ ہو، میں ان کیلئے خواب آور دوائیں تجویز نہیں کرتی، چاہے وہ کتنا ہی اصرار کریں اور اس کیلئے دلائل دیں۔
اس کے باوجود کئی مریض خواب آور گولیاں کھانے سے باز نہیں آتے، جب کہ دوسرے ملکوں میں تو معالج کے مشورے اور نسخے کے بغیر میڈیکل اسٹور سے دوا نہیں مل سکتی، لیکن وطنِ عزیز میں کئی بھی فرد نہایت آسانی سے کسی نسخے کے بغیر دوا خرید سکتا ہے۔ اور جتنی مقدار میں چاہے خرید سکتا ہے۔ بغیر نسخے کے دوائی خریدنے کا رجحان روز بہ روز بڑھتا جارہا ہے اور یہ صورتِ حال پیدا ہوگئی ہے کہ بازار میں دواؤں کی نہ صرف قلت ہے، بلکہ ان کی قیمتیں بھی بڑھتی جارہی ہیں۔
خود تشخیصی طور پر مسکن ادویہ کھانے کا رجحان لوگوں میں اس لیے بڑھتا جارہا ہے کہ انہیں کم خوابی کے علاوہ اضمحلال و افسردگی، تشویش اور انتشار جیسے عوارض بھی لاحق ہوچکے ہیں۔ ان عوارض سے فوری نجات پانے کے لیے لوگ خواب آور ادویہ کھانے لگتے ہیں۔ رفتہ رفتہ وہ ان کے عادی ہوجاتے ہیں اور ایسی ادویہ کھائے بغیر انہیں نیند نہیں آتی۔ پختہ عادت پڑنے پر ایسے افراد دوا کی مقدار میں اضافہ کرتے چلے جاتے ہیں۔
مسکن ادویہ کا بغیر سوچے سمجھے کھانا اور ان کا عادی ہوجانا، اب ایک عام سی بات ہوتی جارہی ہے، ان کی مقدار میں بھی اندھا دھند اضافہ کیا جارہا ہے۔ مجھ سے ایک مریض نے کہا: ”میں ذہنی طور پر بہت پریشان تھا اور ان بنا پر نیند نہیں آرہی تھی۔ چنانچہ میں نے دو خواب آور گولیاں کھالیں، مگر ان سے بھی نیند نہیں آئی تو میں نے دو گولیاں اور کھالیں۔“
ان میں سے بعض خوش قسمت افراد ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں خواب آور ادویہ کھانے سے نیند آنے لگتی ہے، ورنہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ نیند نہیں آتی اور نئی بیماریاں پیدا ہونے لگتی ہیں اور ہنگامی طوری پر انہیں اسپتال کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ اُن کا بلڈ پریشر کم ہوجاتا ہے اور سانس لینے میں دشواری ہوجاتی ہے، بلکہ ذہن بھی منتشر ہوجاتا ہے۔
ایسی ادویہ کے بہت سے پہلوئی اثرات بھی ہوتے ہیں، جن میں یادداشت کا کم ہونا اور ہیجان و اضطراب میں مبتلا ہونا بھی شامل ہے۔ ہیجانی کیفیت میں عمر رسیدہ افراد حادثے کا شکار بھی ہوجاتے ہیں۔ نفسیاتی طورپر وہ ذہنی انتشار میں بھی مبتلا ہوجاتے ہیں۔ نتیجتاََ ان کی حالت روز بہ روز بگڑتی چلی جاتی ہے اور وہ مضمحل اور پریشان رہتے ہیں۔
خود تشخیصی سے اجتناب کریں اور کسی عارضے میں مبتلا ہونے پر معالج سے رجوع کیجئے۔ صحت بخش مشاغل اور ہلکی ورززش پابندی سے کیجئے، نیند کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔

(4) ووٹ وصول ہوئے