بند کریں
صحت مضامینمضامینخون کے سفید خلیے۔ ہمارے محافظ

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
خون کے سفید خلیے۔ ہمارے محافظ
آپ جانتے ہیں کہ ہمارے جسم میں گردش کرنے والا خون ہماری زندگی کے لیے بہت ضروری ہے۔ خون ایک سادہ سیال نہیں ہے، بلکہ اس کے اندر بہت سے اجزا شامل ہیں، جو مختلف فرائض انجام دیتے ہیں۔ خون کے سیال مادے کو ” پلازما“ کہتے ہیں، جس کی مقدار خون کے نصف سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔
خواجہ خالد ظہیر :
آپ جانتے ہیں کہ ہمارے جسم میں گردش کرنے والا خون ہماری زندگی کے لیے بہت ضروری ہے۔ خون ایک سادہ سیال نہیں ہے، بلکہ اس کے اندر بہت سے اجزا شامل ہیں، جو مختلف فرائض انجام دیتے ہیں۔ خون کے سیال مادے کو ” پلازما“ کہتے ہیں، جس کی مقدار خون کے نصف سے بھی زیادہ ہوتی ہے اس ” پلازما“ میں دوسرے اجزا تیرتے رہتے ہیں اور خون کے ساتھ گردش کرتے ہوئے جسم کے مختلف اعضاتک پہنچتے ہیں۔
اگرچہ سرخ خلیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوتی ہے اور انھی کی وجہ سے خون کارنگ سرخ نظرآتا ہے، لیکن سفید خلیے بھی بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ ان سفید خلیوں کی بہت سی اقسام ہیں۔ ان میں پہلی قسم جو تعداد میں سب سے زیادہ ہوتی ہے، وہ خون کے اندر بھی رہتی ہے اور ضرورت پڑنے پر خون سے باہر نکل کر اس مقام پر بھی جاپہنچتی ہے، جہاں کسی بیماری کے جراثیم یازخمی بافتیں (ٹشوز) جمع ہوجاتی ہیں۔ بعض سفید خلیے ان جراثیموں کو اپنے اندر جذب کرکے انھیں تباہ کردیتے ہیں۔ وہ ایسے اجزا بھی خارج کرتے ہیں، جو مردہ بافتوں کو ملائم کرکے انھیں قابل ہضم بنادیتے ہیں اور وہ مواد میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔
سفید خلیوں کی دوسری قسم کاکام یہ ہے کہ اگر ہمارے جسم میں پیداہونے والا تعدیہ (انفیکشن) کچھ عرصے تک قائم رہے تو وہ متاثرہ مقام پر پہنچ کر خود بخود بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا قدرتی نظام ہے، جس کے تحت سفید خلیے بیماری کے جراثیموں سے جنگ کرکے انھیں تباہ کردیتے ہیں۔ یوں سمجھ لیجیے کہ سفید خلیے دراصل ہمارے جسم کے لیے دفاعی فوج کی حیثیت رکھتے ہیں۔یہ کسی بھی مرض کے حملہ آور ہونے کی صورت میں فوراََ اس مقام پر پہنچ کرمرض کے جراثیموں کو ہلاک کردیتے ہیں۔
سفید خلیوں کی تیسری قسم کاکام یہ ہے کہ وہ مردہ خلیوں اور بافتوں کو اپنے اندر جذب کرلیتے ہیں اور اس طرح جسم کی گندگی کو خارج کرتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خلیے گردوغبار اور دوسرے گندے اجزا کو چاروں طرف سے گھیرلیتے ہیں اور انھیں صحت مند بافتوں کے خلیوں سے نہیں ملنے دیتے۔ خون کے سفید خلیے ہمارے جسم کو مختلف بیماریوں کے حملوں سے بچانے کے لیے کتنا اہم اور مفید کام انجام دیتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی سفید خلیوں کی زیادتی بھی ہمارے جسم کے لیے اچھی بات نہیں ہے۔ اگر خون میں بہت زیادہ مقدار میں سفید خلیے بننے لگیں اور وہ ہمارے جسم کی ضرورت کے مطابق فعال اور صحت مند خلیوں میں تبدیل نہ ہوسکیں تو وہ ایک مرض کی شکل اختیار کرلیتے ہیں، جسے ” لیوکیمیا“ یا خون کا سرطان کہتے ہیں۔ خون ایک کیمیائی فارمولا ہے، جس کے اندر شامل تمام اجزا کا مناسب مقدار میں رہنا ضروری ہے، یعنی سرخ خلیے، سفید خلیے، لحمیات، نمکیات، نشاستے اور چکنائی کسی بھی شے کی کمی یا زیادتی بیماری کو جنم دینے کا باعث بن سکتی ہے۔

(2) ووٹ وصول ہوئے