Khush Rahiye Sehatmand Rahiye - Article No. 2157

خوش رہیے،صحت مند رہیے - تحریر نمبر 2157

پیر 24 مئی 2021

Khush Rahiye Sehatmand Rahiye - Article No. 2157
کنزا زاہد یار خان
کہتے ہیں کہ ہنسی علاج غم ہے اور ہر وقت ہنستے مسکراتے رہنے سے مشکلات اور پریشانیاں ختم تو نہیں ہوتیں،مگر اُن کی شدت میں کمی ضرور آجاتی ہے اور انسان میں اتنا حوصلہ پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ ان مشکلات و پریشانیوں کا بہ آسانی مقابلہ کر لیتا ہے۔بہ قول شخصے وہ لوگ خوش گوار زندگی نہیں گزار سکتے،جن کی زندگی میں کوئی مسائل نہیں ہوتے،بلکہ ایسی زندگی وہ لوگ گزارتے ہیں،جو مشکلات اور مسائل کے باوجود خوش رہتے ہیں۔


کئی ترقی یافتہ ممالک میں ہنسی سے علاج (لافٹر تھراپی) کو بہت اہمیت دی جا رہی ہے اور اسے طریقہ علاج کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے لئے ایک محفل کا اہتمام کیا جاتا ہے،جس میں چند دوست احباب کو بلایا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

وہ لوگ ایک دوسرے کو لطیفے سناتے ہیں اور ان پر دل کھول کر ہنستے ہیں۔ویسے بھی ہنسی کو ایک سے دوسرے کو لگنے والی بیماری (Contagious) کہا جاتا ہے،یعنی اگر ہم کسی کو ہنستے ہوئے دیکھتے ہیں تو وجہ معلوم نہ ہونے کے باوجود ہم بھی ہنسنے لگتے ہیں۔


ہنسنے اور مسکرانے سے انسانی مزاج پر پڑنے والے اثرات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لئے امریکہ میں ایک دلچسپ تجربہ کیا گیا،جس میں شرکا کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ایک گروپ کے شرکا کو روئی کی پھریری (Swab) سے قدرے موٹی ایک اسٹک (Stick) دی گئی اور کہا گیا کہ اس اسٹک کو اپنے ہونٹوں سے پکڑ لیں،جب کہ دوسرے گروپ کے شرکا کو بھی ویسی ہی ایک اسٹک دی گئی،مگر اُن سے کہا گیا کہ اس اسٹک کو اپنے دانتوں کے درمیان دبا لیں۔

اسٹک کو ہونٹوں میں دبانے کی وجہ سے شرکا کے چہرے سپاٹ ہو گئے،جس کی وجہ سے ان کے چہروں کے عضلات (مسلز) تناؤ کا شکار ہو گئے،جب کہ اسٹک کو دانتوں تلے دبانے والوں کو زیادہ منہ کھولنا پڑا،بالکل اُسی طرح جیسے ہنستے ہوئے ہماری باچھیں کھل جاتی ہیں۔
اس تجربے کو بہتر طور پر سمجھنے کے لئے آپ ایک قلم کو ہونٹوں کے درمیان پکڑنے کی کوشش کریں۔

آپ کو محسوس ہو گا کہ اس عمل سے آپ کے چہرے کے عضلات تن گئے ہیں،جب کہ تجربے کے دوسرے حصے میں اس قلم کو دانتوں کے درمیان دبا لیں۔آپ کو ان دونوں صورتوں میں واضح فرق محسوس ہو گا۔اسٹک کو ہونٹوں اور دانتوں میں پکڑنے کے بعد شرکا کو چھوٹے چھوٹے کام دیے گئے،جیسے پالتو جانوروں کی دیکھ بھال کرنا اور چیزوں کو اُن کی جگہ پر رکھنا۔
تجربے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ جن شرکا نے اسٹک ہونٹوں میں پکڑی تھی،ان کے چہروں کے عضلات تناؤ کا شکار ہو گئے تھے۔

وہ لاشعوری طور پر خود کو پریشان تصور کرنے لگے اور تجربے کے دوران چڑچڑاہٹ اور جھنجھلاہٹ کا شکار بھی رہے، جب کہ اسٹک کو دانتوں تلے دبانے والے شرکا خود کو لاشعوری طور پر خوش باش سمجھنے لگے اور انھوں نے وہی تمام کام بہت دلچسپی سے کیے،جنھیں کرنے میں دوسرے گروپ کے شرکا اکتاہٹ محسوس کرتے رہے۔تجربہ مکمل ہونے کے بعد جب شرکا سے ان کے احساسات پوچھے گئے تو وہ ایک دوسرے سے یکسر مختلف تھے۔

پہلے گروپ کے شرکا کے مطابق یہ سرگرمی خاصی تھکا دینے والی تھی،جب کہ دوسرے گروپ کے شرکا کے مطابق انھیں یہ سرگرمی بہت ہی لطیف لگی۔
ہم اس تجربے سے یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ اگر ہم کوئی کام ہنستے مسکراتے اور خوش دلی کے ساتھ کریں گے تو کام جلد اور بہ آسانی مکمل ہو جائے گا اور تھکن بھی نہیں ہو گی۔اس کے برعکس ہر وقت سنجیدہ رہنے سے ذہنی تاؤ بڑھے گا اور تھوڑا سا کام بھی بوجھ لگنے لگے گا۔

ہر دم ہنستے مسکراتے رہنے کے کئی فوائد ہیں،جن میں سے چند ذیل میں درج کیے جا رہے ہیں۔
امراض قلب سے بچاؤ:
ہمیشہ ہنستے مسکراتے رہنے سے دل کی صحت پر بھی بہت مثبت اثرات پڑتے ہیں اور ہم کئی امراض سے بچ سکتے ہیں۔
خود اعتمادی میں اضافہ:
آپ نے غور کیا ہو گا کہ ہر وقت خوش و خرم رہنے والے لوگوں کی شخصیت میں بلا کا اعتماد ہوتا ہے۔

ایسے لوگ مشکل سے مشکل حالات میں بھی نہیں گھبراتے،بلکہ اُن حالات کا جواں مردی سے مقابلہ کرتے ہیں۔اس سے خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے۔
پریشانی سے چھٹکارا:
خوش و مطمئن رہنے سے دماغ میں ”اینڈورفن“ (Endorphin) نامی ہارمون کا اخراج ہوتا ہے،جو جسم میں خوشی کی لہر دوڑانے کا باعث بنتا ہے،جس سے ہم وقتی طور پر ہی سہی مگر پریشانیوں سے چھٹکارا پا سکتے ہیں۔


سماجی رابطے کا ذریعہ:
انسان کو چونکہ سماجی جانور کہا جاتا ہے،اس لئے ہم نہ صرف ہر وقت اپنے پیاروں میں گھِرے رہنا چاہتے ہیں،بلکہ ان کے ساتھ اچھا وقت بھی گزارنا چاہتے ہیں۔جب ہم کسی محفل میں اپنوں کے ساتھ مل بیٹھ کر ہنسی مذاق کرتے ہیں تو اس سے باہمی روابط مضبوط ہوتے ہیں،یک جہتی پروان چڑھتی ہے اور وقت بھی اچھا گزر جاتا ہے۔
ہنسنے سے جسم کے مختلف اعضا کی کارکردگی بھی بہتر ہوتی ہے،جن میں دل اور پھیپھڑے شامل ہیں۔

خوب ہنسنے سے انھیں وافر مقدار میں اوکسیجن ملتی ہے ،لہٰذا وہ بہتر انداز میں کام کرنے لگتے ہیں اور ساتھ ہی مدافعتی نظام بھی مضبوط ہو جاتا ہے۔کسی بھی شدید پریشانی کی صورت میں بس اتنا یاد رکھیں کہ ہر پریشانی وقتی ہوتی ہے،اسے اپنے ذہن پر حاوی نہ ہونے دیں،ورنہ صحت پر بُرے اثرات پڑیں گے۔
ذہنی الجھنوں سے بچنے کے لئے اپنے آپ کو مصروف رکھیے۔

مصروفیت ذہن و جسم کے لئے وٹامنز (حیاتین) کی حیثیت رکھتی ہے۔اس کے علاوہ ٹیلی ویژن پر مزاحیہ پروگرام دیکھیں،طنزو مزاح پر مبنی کتابیں پڑھیں یا کسی خوش مزاج دوست کی صحبت میں کچھ وقت گزاریں۔اس کے ساتھ ہی عبادت میں بھی دل لگانے کی کوشش کریں۔
دل کھول کر ہنسنے سے صحت پر حیرت انگیز خوش گوار اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ہم خود کو تروتازہ اور ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگتے ہیں،اس لئے جتنا ممکن ہو خوش رہیں اور اپنے اردگرد کے لوگوں کو بھی خوش رکھیں۔چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کرنا سیکھیں اور لڑنے جھگڑنے سے گریز کریں۔
تاریخ اشاعت: 2021-05-24

Your Thoughts and Comments