بند کریں
صحت مضامینمضامینکیوں آنکھ کھل جاتی ہے بار بار

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کیوں آنکھ کھل جاتی ہے بار بار
نیند انسان کیلئے باعث راحت ہے ۔ اچھی نیند آسان کی تھکن ختم کرکے اُسے تروتازہ ر دیتی ہے ۔ انسانی مزاج کو خوشگوار بنانے میں اہم کردارادا کرتی ہے ۔ اکثر لوگ سوئے ہوئے آنکھ کھل جانے کے باعث پریشان ہوتے ہیں کیونکہ بعد میں انھیں نیند نہیں آتی ۔ ماہرین کے مطابق اگر آپ اس طرح کی صورتحال سے دوچار ہیں تو فوری طور پر اپنا چیک اپ کروائیں کیونکہ یہ ایک سنگین مرض کی علامت ہوسکتی ہے ۔
نیند انسان کیلئے باعث راحت ہے ۔ اچھی نیند آسان کی تھکن ختم کرکے اُسے تروتازہ ر دیتی ہے ۔ انسانی مزاج کو خوشگوار بنانے میں اہم کردارادا کرتی ہے ۔ اکثر لوگ سوئے ہوئے آنکھ کھل جانے کے باعث پریشان ہوتے ہیں کیونکہ بعد میں انھیں نیند نہیں آتی ۔ ماہرین کے مطابق اگر آپ اس طرح کی صورتحال سے دوچار ہیں تو فوری طور پر اپنا چیک اپ کروائیں کیونکہ یہ ایک سنگین مرض کی علامت ہوسکتی ہے ۔
یہ انتباہ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی اور مشی گن یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق کے مطابق رات کواچانک آنکھ کھلنے اور پھر سونے میں ناکامی دل کے امراض کاخطرہ بڑھاتی ہے۔ اس تحقیق کے دوران ایک کروڑ سے زائد مریضوں کے ڈیٹا کاجائزہ لیا گیااور یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ اکثر رات کو جاگتے ہیں ان میں دل کے امراض کاخطرہ 26فیصد تک زیادہ ہوتا ہے ۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ ایسے افراد میں دل کی دھڑکن کی رفتار تبدیل ہوسکتی ہے جسے واضح علامات کے بغیر عارضہ قلب بھی کہاجاتا ہے اور اس سے فالج اور دل کی حرکت تھم جانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔
تحقیق کے مطابق جولوگ بے خوابی کے شکارہوتے ہیں یارات کو سویا نہیں جاتا ان میں اس مرض کا امکان 29فیصد زیادہ ہوتا ہے ۔ محققین کے خیال میں نیند متاثر ہونا دل کے چیمبرز پر اضافی دباؤ کے باعث بنتا ہے۔ یہ بات پہلے ہی سامنے آچکی ہے کہ نیند میٹابولزم اور جسم میں ہارمونز کے توازن کے حوالے سے بہت ضروری ہے کیونکہ یہ ہارمونز کولیسٹرول، انسولین، بلڈپریشر اور ورم وغیرہ پر اثرانداز ہوتے ہیں ۔
تحقیق کے مطابق نیند کے معمولات میں خرابی کے نتیجے میں دماغ کا وہ حصہ متاثر ہوتا ہے جو دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر کوکنٹرول کرتا ہے ۔ محققین کاکہنا تھا کہ نیند خراب ہونا دل کے امراض کاامکان بڑھاتا ہے اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ نیند کس طرح اعصابی نظام پر انداز ہوتی ہے۔

(2) ووٹ وصول ہوئے