Kya Sehat Mand Insaan Ko Gussa Ana Chahiye

کیا صحت مند انسان کو غصہ آنا چاہئے؟

Kya Sehat Mand Insaan Ko Gussa Ana Chahiye
یہ ایک بڑا اہم سوال ہے کہ کیا صحت مند آدمی کو غصہ آنا چاہئے؟ یہ جواب کسی حد تک درست ہے کہ صحت مند آدمی کوغصہ نہیں آنا چاہئے لیکن مکمل طور پر صحت مند آدمی بھی بہت زیادہ ناموافق حالات کی صورت میں غصہ کی حالت میں رد عمل ظاہر کر سکتاہے۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ ایک صحت مند انسان کی صلاحیت بھی رکھتا ہے کہ وہ اسی کیفیت پر قابو پالے اور نہ صرف اس کی شدت بلکہ دو رانئیے کو بھی کم کردے۔

صحت مند انسان سے مرادذہنی طور پر متوازن اور جذباتی کیفیات پر قابو پانے والا فرد ہے۔ اس کے برعکس ذہنی طور پر جلد اثر پزیر ہوجانے والے لوگ زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ وہ بات بات پر بلاوجہ چڑ جاتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں اپنا اور دوسروں کا سکون خراب کردیتے ہیں۔ لہذایہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ صحت مندآ دمی بھی انتہائی ناموافق حالات میں غصے کا شکار ہوسکتا ہے لیکن وہ اس پر قابو پانا بھی جانتا ہے۔

(جاری ہے)

جب کہ اس کے برعکس حساس قسم کے لوگ ایسے حالات کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور جلد ہی اعصابی کشیدگی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کا رد عمل منفی قسم کا ہوتا ہے ایسے لوگ جلد ہی اعصابی شکست ریخت کا کار ہوکر اپنا سکون برباد کر لیتے ہیں۔ یہ کہنا درست ہوگا کہ غصہ انسانی فطرت ہے لیکن ایک خاص حد تک، ایک خاص عرصے تک اور ایک خاص شدت کے ساتھ نارمل انسان میں غصہ بہت کم کم عرصے کے لئے اور شدت میں کم ہوتا ہے۔


کیا غصے کے مثبت اثرات ہو سکتے ہیں؟
بعض ماہرین نفسیات کے خیال میں غصے کے بعض اوقات مثبت اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں لیکن مثبت اثرات منفی اثرات سے کم ہوتے ہیں۔ یہ مثبت اثرات بھی خاص حد تک اور مخصوص حالات میں ظاہر ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک انسان بے روزگارہے اسے ہروقت یہ احساس دامن گیر رہتا ہے کہ وہ بے کار زندگی گزار رہا ہے حتی کہ اسے اپنی ذات پر غصہ آنا شروع ہو جاتا ہے۔

جس کے نتیجے میں وہ روز گار کی تلاش میں نکل جاتاہے اور اپنی منزل کو پالیتا ہے۔ ایک طالب علم جو اپنی پڑھائی پر تو جہ نہیں دیتا اور والدین اس پر غصے کا اظہارکرتے ہیں تو وہ قدرے خوفزدہ ہو تعلیم پر توجہ دینا شروع کردیتا ہے۔ بعض لوگ اپنے فرائض میں غفلت اور بے پروائی سے کام لیتے ہیں لیکن جب انہیں اس بات کا احساس دلایا جاتا ہے تو وہ اپنی ذات کو بالائے طاق رکھ کر اپنے فرائض بطریق احسن انجام دینے لگتے ہیں۔

جب انسان اپنے مقصد میں نا کام ہو جاتا ہے تو اسے ناکامی پرغصہ آتا ہے جس کے نتیجے میں وہ کامیابی کے لئے جدوجہد کرتا ہے۔ لہذا بعض اوقات انسان کے اندر توانائی پیدا کر دیتا ہے اوروہ ایسے کام کر جاتا ہے جو اس کے لئے ناممکن ہے۔
غصہ کب نقصان کا باعث بنتا ہے
غصہ اس وقت نقصان کا باعث بن جاتا ہے۔ جب یہ بار بار آنے لگے. انسان اتناحساس ہو جاتا ہے کہ اس سے بات بے بات غصہ آ نا شروع ہوجاتا ہے۔

نارمل حالات بھی اسے اعصابی کشیدگی کا شکار کر دیتے ہیں۔ زیادہ دیر تک رہنے والاغصہ نقصان دہ ہوتا ہے۔ یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ اگرغصہ آ کر جلد اتر جائے یعنی تھوڑے عرصے کے لئے ہو تو وہ کم نقصان کا باعث بنتا ہے۔ لمبے عرصے تک برقرار رہنے والا غصہ زیادہ نقصان کا باعث بنتا ہے۔ کیونکہ یہ کیفیت زیادہ دیر تک اعصابی نظام کو درہم برہم کئے رکھتی ہے۔

سب سے اہم بات غصے کی شدت ہے۔ شدید غصے کی صورت میں انسان تیزی سے ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ شدت والاغصہ اعصابی نظام کو تیزی سے ابنارمل کردیتا ہے
غصے کے اظہار کے طریقے
آپ کے لئے یہ بات جاننازیا دہ دلچسپی کا سبب ہو گا کہ انسان غصے کا اظہارکس طرح کرتا ہے۔ ہر انسان غصے کومختلف طریقوں سے ظاہر کرتا ہے۔ بعض لوگ غصے کی حالت میں صرف دلائل دیتے ہیں لیکن ان کے دلائل میں شدت زیادہ ہوتی ہے۔

یعنی وہ تیزی سے اور زور دے کر اپنی بات منوانا چاہتے ہیں۔ اگر ان کی بات مان لی جائے تو وہ نازل ہو جاتے ہیں۔ یہ طبقہ عام طور پر پڑھے لکھے لوگوں پرمشتمل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس بعض لوگ غصے کی حالت میں توڑ پھوڑ شروع کردیتے ہیں۔ جس سے ماحول میں خوف و ہراس پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ لوگ دوسروں پر خوف طاری کر کے اپنی بات منوانا چاہتے ہیں۔ غصے کے اظہار کا یہ طریقہ بعض اوقات بے حدتک خطرناک ثابت ہوتا ہے غصے کے اظہار کا تیسرا طریقہ اس طریقے میں لوگ نہ دلائل دیتے ہیں اور توڑ پھوڑ کرتے ہیں بلکہ وہ خود اپنے اندر ایسی کیفیت پیدا کر دیتے ہیں جو غصے کے اظہار کاباعث بنتی ہے۔

غصے کی حالت میں ان کا اعصابی تناوٴ بڑھ جاتا ہے۔ چہرہ سرخ ہو جاتا ہے۔ ان پر ایک اضطرابی اور جذباتی کیفیت طاری ہو جاتی ہے، جس کے نتیجیس میں لوگ یہ سمجھ جاتے ہیں کہ اس شخص کو غصہ آ گیا ہے۔
غصے کا مقصد
کسی بھی جذباتی کیفیت کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہوتا ہے مثلا جب انسان کسی سے دور بھاگتا ہے یا اسے ناپسند کرتا ہے تو وہ ایک مخصوص کیفیت طاری کر لیتا ہے جسے نفرت کہتے ہیں۔

اسی طرح جب کسی کی شخصیت سے متاثر ہوتا ہے تو اس کے قریب تر ہو جاتا ہے اوراس کے ذہن میں اس شخص کے لئے ایک مخصوس کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ جسے محبت کہا جاتا ہے۔ غصہ بھی ایک کیفیت اور رد عمل ہے جومخصوص حالات میں پیدا ہوتا ہے۔ انسان بعض اوقات ناپسندیدگی کا اظہار کرنے کے لئے یہ کیفیت طاری کر لیتا ہے اور بعض اوقات اپنی کوئی بات منوانے کے لئے کسی عمل کو جلد کرنے کیلئے بھی غصے کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔

لہذاغصے کے مختلف حالات میں مختلف مقاصد ہوتے ہیں۔
کیا غصہ ضروری ہے؟
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بعض حالات میں غصہ ضروری ہے؟ یہ کہنا درست ہوگا کہ انسان دلائل اور نرمی سے دوسروں سے جو کام لے سکتا ہے وہ غصے کی حالت میں نہیں لے سکتا بلکہ اس حالت میں وہ الٹا اپنا نقصان کر بیٹھتا ہے۔ اس لئے انسان کے لئے لازم ہے کہ اپنے جذبات پر قاپور کھے اورنرمی اور وقار سے اپنی بات دوسرے تک منتقل کردے۔

تاہم بعض حالات میں اگر ایسی کیفیت پیدا ہوجائے تو اسے فوراََ کنٹرول کرنا چاہئے۔
غصے کے نقصانات
غصے کے مختلف پہلووں میں سب سے اہم پہلو اس کے نقصانات پر روشنی ڈالتا ہے۔ جب تک انسانی عقل وذہن کے اس دن پر تفصیل سے روشنی نہ ڈالی جائے اس وقت تک اس پر قابو پانا اور اس سے بچنا بے حد مشکل ہو جاتا ہے۔ غصہ انسانی ذہن کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ بہت سے ایسے نقصانات بھی پہنچاتا ہے کہ زندگی ایک تلخ حقیقت بن کر رہ جاتی ہے اور انسان اپنی شخصیت کا توازن بھی کھو بیٹھتا ہے۔

غصے کے نقصانات درج ذیل ہیں۔ غصے کی حالت میں انسانی ذہن بالکل ماوٴف ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں وہ معمولی کام بھی سرانجام نہیں دے سکتا اور روز مرہ کے معمولات میں تبدیلی آجاتی ہے۔ غصے کی حالت میں جذباتی توازن خراب ہو جاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں انسانی رویے میں تبدیلی واقع ہو جاتی ہے۔غصے کی حالت میں شخصیت میں وہ کشش نہیں رہتی جو کہ نارمل حالات میں ہوتی ہے۔

غصے کی حالت میں انسان کسی محفل میں جانے کے قابل نہیں رہتا جس کے نتیجے میں وہ سماجی کردار ادا نہیں کر سکتا۔غصے کی حالت میں مہمانوں، دوستوں اور عزیز واقارب سے رویے میں تبدیلی آجاتی ہے جس سے نہ صرف انسان ان کی نظر میں گر جاتا ہے بلکہ اپنے ایک سماجی اور اخلاقیات سے محروم ہو جاتا ہے غصے کی حالت میں یادداشت میں کمی آجاتی ہے اور دماغی صلاحیتیں بھی کم ہو جاتی ہیں۔

غصے کی حالت میں انسان حالات کا مقابلہ درست طور پرنہیں کرسکتا بلکہ غصہ اسے آئندہ کے ناموافق حالات کا مقابلہ کرنے کا بھی دل نہیں چھوڑتا۔ غصے کی حالت میں انسان کی سوچ منفی ہوجاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں انسان ایسے نتائج پر پہنچ جاتا ہے یا فیصلہ کر لیتا ہے جو اس کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ غصے کی وجہ سے بعض ذہنیس اور جسمانی عوارض پیدا ہوجاتے ہیں۔ جن میں بلڈ پریشر معدے کا السر سرکا درد اور ڈپریشن وغیرہ شامل ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2018-04-19

Your Thoughts and Comments