بند کریں
صحت مضامینمضامینلُو لگنے سے جان بھی جا سکتی ہے

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
لُو لگنے سے جان بھی جا سکتی ہے
عمر رسیدہ افراد عموماََ لُو سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، اس لئے کہ ان کاجسم گرمی اور سردی کا اثر فوری قبول کر لیتاہے ۔ لُولگنے کے بعد جلد کی رنگت سرخ ہو جاتی ہے، متاثرہ شخض کو بخار آجاتا ہے
ماہرین کہتے ہیں کہ لُو لگنے سے جان جانے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ لُو سے متاثرہ شخص کی اگر مناسب دیکھ بھال کر لی جائے تو ہ بچ سکتاہے ورنہ اس کے زندہ رہنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ عمر رسیدہ افراد عموماََ لُو سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، اس لئے کہ ان کاجسم گرمی اور سردی کا اثر فوری قبول کر لیتاہے ۔ لُولگنے کے بعد جلد کی رنگت سرخ ہو جاتی ہے، متاثرہ شخض کو بخار آجاتا ہے۔ ( یہ بخار106 درجے تک پہنچ سکتاہے)۔ دماغ میں درد ہوتا ہے ، نیض تیز چلنے لگتی ہے یا تاثرہ شخض بے ہوش ہو جاتا ہے ۔ لُو لگنے کی وجوہ میں جسم میں پانی کی کمی اور دھوپ میں زیادہ دیر تک رہنا شامل ہے۔
لُو لگنے کے بعد جسم اپنے طورپر فوراََ ہی ٹھنڈا نہیں ہو پاتا ، جس کے نتیجے میں جسم کی حرارت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اس کا اثر دماغ تک پہنچ جاتا ہے اور وہ بتدریج کا م کرناکم کر دیتاہے۔ لُو کا علاج یہ ہے کہ جسم کا درجہ حرارت کم کیا جائے۔ اس کے لئے بہت سی تدابیر اپنائی جا سکتی ہیں۔ لُو سے بچنے کے لیے گھر یا دفتر سے نکلتے وقت خوب سیر ہو کر پانی پی لیں، ایسے کپڑے پہنیں جو گرمی نہی جذب کریں ( گرمی میں ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں) اور ٹھنڈی چیزیں کھائیں، تاکہ جسم کا درجہ حرارت معتدل رہے ۔ کسی بھی کام سے گھر سے نکلتے وقت اس بات دھیان رکھیں کہ آپ کو زیادہ دیر تک دھوپ میں نہ رہنا پڑے۔ ایسے افراد جنھیں گرمی برداشت نہیں ہوتی، وہ خاص طورپر محتاط رہیں۔
ایسے افراد جو انتظامی عہدوں پر فائز ہوں ، مثلاََ کوچ، ٹرینی۔ لائف گارڈ وغیرہ ، انھیں لُو سے بچنے کے طریقوں سے پوری طرح آگاہ ہونا چاہیے، تاکہ اپنے ماتحتوں کو ا س کے بداثرات سے محفوظ رکھ سکیں۔
وہ افراد جنھیں مجبوری کے تحت دھوپ میں کام کرنا پڑتاہو، پانی زیادہ مقدار میں پییں اور جسم کو ٹھنڈا رکھیں۔ پانی یا شربت پینے کا کام دھوپ سے نکل کر سائے میں جانے کے بعد مسلسل کرتے رہنا چاہیے۔ اگر آپ زیادہ دیر تک دھوپ میں رہ چکے ہوں تو ائیرکنڈیشنڈ کمرے میں بیٹھیں ، تاکہ جسم تیزی سے معتدل ہو سکے۔
گرمی میں ورزش کرنے کے دوران بھی پانی پینا ضروری ہے ، تاکہ آپ کا دل، گردے اور دوسرے اعضا مناسب فعل انجام دیتے رہیں۔ جب آپ کاجسم پانی کی کمی (DEHYDRATION) کا شکار ہو تا ہے تو آپ کے دل پر کھچاوٴ ہو جاتا ہے اور گردے صحیح طور پر کام انجام نہیں دے پاتے، جس کے نتیجے میں جسم کا کیمیائی نظام عدم توازن کا شکار ہو جاتاہے۔ اس کے علاوہ پوٹاشیئم، سوڈئیم، فاسفورس اور کلورائڈ جو جسم کے تمام خلیوں کے افعال کے لیے ازحد ضروری ہیں،کمی یا زیادتی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
لُو کے مضر اثرات سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ جسم کو فوری طورپ معتدل کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے جسم پر پانی کی پھوار بھی ڈالی جا سکتی ہے اور ٹھنڈی جگہ پر دیر تک بیٹھا جا سکتاہے۔

(4) ووٹ وصول ہوئے