Maan Or Bache Ki Sehat

"ماں اور بچے کی صحت"

ڈاکٹر راحت جبین جمعرات مئی

Maan Or Bache Ki Sehat
ماں اور بچے کی صحت ایک ایسا موضوع ہے جس پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے مگر جب تک انسان کا وجود ہے یہ موضوع کسی نہ کسی حوالے سے زیر بحث آتا رہے گا۔ مجھے اس موضوع پر لکھنے کی ضرورت اس لیے بھی پیش آٸی کہ ایک دن میں اسپتال میں مریضوں کا معاٸنہ کر رہی تھی کہ ایک پچیس تیس سالہ عورت کمرے میں داخل ہوٸی. ساتھ میں دو معصوم اور خوبصورت بچے بھی تھے ۔

یہ محترمہ معدے کے السر کی شکایت کے ساتھ آٸیں تھی ۔ تفصیلاً پوچھنے پر پتہ چلا کہ انہوں نے ایک بار خودکشی کی کوشش بھی کی ہے اور کٸی بار ایدھی سینٹر کو مہمانی کا شرف بھی بخش چکی ہیں. مزید استفسار پر بتایا کہ گھر میں شوہر مار پیٹ اور جھگڑے کرتا ہے اس لیے یہ انتہاٸی قدم اٹھانے پر مجبور ہوٸی ہوں ۔ صرف یہی نہیں بلکہ ہمارا معاشرہ اس طرح کی داستانوں سے بھرا ہو ہے ۔

(جاری ہے)

یہ سب لکھنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ مردوں کے اس معاشرے میں عورت نہایت حقیر درجہ رکھتی ہے ۔عورت چاہے امیر اور پڑھے لکھے طبقے کی ہو یا پھر غریب اور ان پڑھ طبقے کی ہر صورت میں پسنا اس کا مقدر ٹہرا۔ اسی طرح مردوں کی اکثریت چاہے پڑھے لکھے باشعور ہوں یا پھر ان پڑھ اور گنوار ، غصے میں دونوں کی کیفیت ایک سی ہوتی ہے۔ زیر ستم ہمیشہ مظلوم عورت ہی آتی ہے ۔

بیماریوں کی زیادہ تر وجوہات بھی گھریلو ٹینشن اور پریشانیوں ہوتی ہیں۔اس وجہ سے عورت خاص کر ایک حاملہ یا دودھ پلانے والی ماں ذہنی اور جسمانی طور پر بیمار رہتی ہے. ساتھ میں بچے بھی متاثر ہوتے ہیں ۔کیونکہ بچوں کی صحت کا دارومدار ماں کی صحت پر منحصر ہوتا ہے ۔ماں صحت مند ہوگی تو بچہ صحت مند ہوگا اور معاشرہ صحت مند ہوگا۔
ماں اور بچے کی صحت ایک ایسا سنگین اور بنیادی مسٸلہ ہے جو نہ صرف تیسری دنیا بلکہ پورے اقوام عالم کے لیے انتہاٸی اہمیت کا حامل ہے۔

آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی عورتوں اور بچوں مں شرح اموات بہت زیادہ ہے. شہر کے کسی بھی اسپتال کے مریضوںکی تعداد اور شرح اموات کا جاٸزہ لیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان میں زیادہ تر پانچ سال سے کم عمر کے بچے اورحاملہ عورتیں شامل ہیں۔
"سیو چلڈرن" کی ایک رپورٹ کے مطابق ماؤں میں دوران زچگی شرح اموات ایک لاکھ میں 276 ہے. اور بلوچستان میں یہ شرح سات سو سے اوپر ہے. 170 میں سے ہر ایک ماں کو دوران زچگی موت کا خطرہ درپیش ہوتا ہے. اس حساب سے پاکستان پوری دنیا میں 149 نمبر پر ہے. نومولود بچوں میں ہر ہزار میں 89 بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں.
یونیسیف کی 2016 کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک ہزار میں سے 46 بچے, ایک ماہ سے کم عمر میں موت کے منہ میں گئے ہیں. ٹوٹل دو لاکھ اڑتالیس ہزار بچے موت کے منہ میں گیے ہیں جو پوری دنیا کے اعداد و شمار کا دس فیصد ہے.
اگر وجوہات کا جائزہ لیں تو, ماٶں میں یہ شرح بچوں کی پیداٸش کے وقت زیادہ ہوتی ہے. اس کی وجہ دوران حمل باقاعدگی سے اپنا چیک اپ نہ کروانا بھی شامل ہے۔

کیونکہ دواران حمل کٸی ایسی وجوہات ہوتی ہیں جو کہ پیداٸش کے وقت پیچیدگیوں کا اور موت کے منہ میں لے جانے کا سبب بنتی ہیں. بچوں کی پیداٸش میں مناسب وقفہ کا نہ ہونا بھی ایک اہم وجہ ہے, اس کے علاوہ بچوں کی تعداد کا زیادہ ہونا بھی ہے جسے گرینڈ ملٹی پیرا کہتے ہیں, یعنی کہ زیادہ بار حمل کا ٹہرنا. مغربی ممالک میں یہ لفظ اس وقت استعمال ہوتا ہے جب چار بار سے زیادہ حمل ٹہرے مگر ترقی پذیر ممالک کے دہی علاقوں کی عورتوں میں حمل کی تعداد دس سے بھی اوپر بھی جاتی ہے ۔

اور ایسی خواتین بھی ہیں جن میں یہ تعداد پندرہ سے اوپر دیکھی گئی ہے۔ پیداٸش میں وقفہ کم ہونے کی وجہ سے ماں کی صحت تو متاثر ہوتی ہی ہے مگر ساتھ ہی باقی بچوں کی پرورش اور نگہداشت بھی متاثر ہوجاتی ہے۔
دوران زچگی صفاٸی کا فقدان بھی ایک اور وجہ ہے ۔کیونکہ تیسری دنیا کے باقی ممالک کی طرح پاکستان کے دہی علاقوں میں زیادہ تر زچگیاں غیر تربیت یافتہ داٸی کرتی ہیں جس کی وجہ سے مختلف پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں ۔

اگر صحیح اور بروقت تشخیص کی جاٸے تو دوران پیداٸش اور بعد کے مساٸل کم ہوسکتے ہیں, سات ہی ماں اور بچے کو موت کے منہ میں جانے سے بچایا جا سکتا ہے .
بھوک افلاس اور قحط آج تیسری دنیا کا ایک بدترین المیہ ہے ۔ یہاں پر کٸی ایسے ممالک ہیں جہاں پر کٸی برسوں سے خشک سالی نے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ جیسے ایتھوپیا مگر قحط کے اس عفریت نے ایشیا کے کچھ حصوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا ہے ۔

پاکستان میں تھر اور بلوچستان کے کچھ علاقے بھی قحط سالی کی لپیٹ میں ہیں۔ یہاں پر کٸی سالوں سے بارش نہ ہونے کی وجہ سے قحط کے بدترین آثارنمودار ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ جس سے ماں اور بچوں کے ساتھ دوسرے لوگ بھی متاثر ہورہے ہیں اور کٸی موذی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ خوراک میں کمی کی وجہ سے ماں اور بچے کو اہم غذاٸی اجزا نہیں مل پاتے جو ماں کی صحت کے لیے ضروری ہوتے ہیں اور مختلف بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت کا بھی باعث ہوتے ہیں۔

خوراک کی کمی دو طرح کی ہو تی ہے ایک یہ کہ خوراک کی مقدار ہی کم ہو اور دوسرا یہ کہ غیر متوازن غذا جس میں اہم غذاٸی اجزاء میں کمی یا زیادتی ہو. یہ اس صورت میں ہوتا ہے جب مختلف قسم کی اہم غذاٸیں ہم اپنی پسند و ناپسند کی وجہ سے چھوڑ دیتے ہیں, اس سے قوت مدافعت کم ہوتی ہے اور بیماری لاحق ہونے کا. خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
غذا میں کمی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارا معاشرہ میل ڈومینینٹ ہے۔

یہاں اچھی خوراک پہلے گھر کے مرد کو دی جاتی ہے, پھر بیٹے کو اور آخر میں بیٹی اور ماں کی باری آتی ہے ۔ ماں جس کے وجود سے یہ کاٸنات آباد ہے, متناسب اور بروقت غذا نہ ملنے کے سبب بیمار پڑ جاتی ہے۔ نتیجے میں بچوں کی صحت بھی متاثر ہو جاتی ہے ۔
بچوں میں شرح اموات کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہمیں ان عوامل کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے جو موت کا یا عمر بھر کی معذوری کا سبب بنتے ہیں. بچوں کی بیماری کا براہ راست تعلق ماں کی صحت سے ہوتا ہے جیسے بچوں کی کٸی بیماریاں دوران حمل ماٶں سے منتقل ہوتی ہیں. دوران حمل بغیر معالج کے مشورے کے مختلف دوائیاں لینے سے بھی پیداٸشی, جسمانی یا ذہنی معذوری جنم لے سکتی ہے ۔

ایسے بچے پوری زندگی معذوری میں گذارتے ہیں یا پھر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ۔دوران حمل خاص کر شروع کے تین مہینےجب بچےکے اعضاء جسے ایمبریوجینیسس (embriogensis) کہتے ہیں, اس دواران کوئی بھی دوائی کھانا اس عمل میں رکاوٹ کس سبب بن سکتا ہے . نتیجتاً کوٸی نہ کوئی جسمانی کمزوری رہ جاتی ہے جو ذہنی اور جسمانی کمزوری, معذوری یا موت کا باعث ہو سکتی ہے۔


آجکل کی ماٶں میں بوتل کے دودھ کے استعمال کا رحجان بھی زیادہ ہے جو مختلف بیماریوں اور انفیکشن کا سبب بنتی ہے۔ فارمولہ ملک میں شامل غذاٸی اجزا کی مقدار کو کم و پیش ماں کے دودھ کے مطابق رکھا گیا ہے۔ مگر بوتل کو حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق صاف ستھرا رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ صفاٸی کا فقدان انفیکشن کے بڑھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔

اس کے علاوہ ماں کے دودھ میں قوت مدافعت کو بڑھانے کے لیے ایسی پروٹین قدرتی طور پر پائے جاتے ہیں جو بچوں کو مختلف بیماریوں سے بچانے میں ویکسین کا کام کرتی ہیں جبکہ ڈبے والے دودھ میں یہ خاصیت نہیں ہوتی۔
ماؤں اور بچوں میں جان لیوا بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت کو بڑھانے کے لیے ویکسین کرنا انتہاٸی ضروری ہے ۔ مگر اب بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو غلط افواہوں کی وجہ سے یا پھر بنیادی صحت کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے حفاظتی ٹیکے نہیں لگواتے. نتیجتا ماؤں زچگی کے وقت تشنج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور بچے خطرناک بیماریوں کا شکار ہو کر ہمیشہ کے لیے معذور ہوجاتے ہیں یا موت کا شکار ہوتے ہیں ۔


تعلیم کا یہاں بھی نہایت اہم کردار ہے. ایک پڑھی لکھی ماں بہتر سمجھ سکتی ہے کہ حمل کے درمیان مناسب وقفہ ہونا چاہیے, حمل کے دوران مستند معالج سے باقاعدگی سے چیک اپ ضروری ہے ۔اس دوران غیر ضروری دواٶں سے اجتناب کرنا, حفاظتی ٹیکوں کا مکمل کورس کرنا اور متوازن غذا کھانا اور پیدائش بچے کے بعد بچے کو موذی بیماریوں کے خلاف حفاظتی ٹیکے لگانا, اسے اپنا دودھ پلانا, اپنی اور بچے کی صفاٸی کا خیال رکھنا کتنا ضروری ہے.ساتھ ہی بیماری کی علامات ظاہر ہوتے ہی فوراً معالج سے مشورہ کرنا۔


پوری دنیا میں ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے کہ اس شرح اموات کو کم کیا جائے. اس سلسلے میں قومی سطح پر بھی بہت سے تعمیری کام ہورہے ہیں ۔ جیسے مختلف جان لیوا بیماریوں کے خلاف حفاظتی ٹیکوں کا کورس ہے. اگر ہم ماں اور بچے کو بیماریوں اورعمر بھر کی معذوری سے بچانا چاہتے ہیں تو ہم سب کا فرض ہے کہ حکومت اور WHO, UNICEF کے ساتھ مکمل تعاون کریں. حفظان صحت کےاصولوں کے مطابق متوازن غذا کا استعمال کریں, صفائی کا خیال رکھیں, نشہ آور چیزوں, جیسے سگریٹ ,تمباکو نوشی, یا گٹکا سے مکمل اجتناب کریں کیونکہ ماں کے ساتھ یہ بچے کے لیے بھی مہلک ہیں۔

ان اصولوں پر عمل کرکے ہی ایک صحت مندانہ زندگی گذاری جاسکتی ہے۔
ایک اور اہم بات یہ کہ ماں گھریلو مشکلات اور پریشانیوں سے گھبرانے کے بجائے فارغ اوقات میں صحت مندانہ سرگرمیوں پر توجہ دے تاکہ ذہنی دباٶ کا شکار نہ ہو. یہ تمام ایسی باتیں ہیں جن پر عمل کرکے ہی ماں صحت مند رہ سکتی ہے۔ جب ماں صحت مند ہوگی تو گھرانہ صحت مند ہوگا اور پھر پورا معاشرہ صحت مند ہوگا۔
تاریخ اشاعت: 2020-05-07

Your Thoughts and Comments