بند کریں
صحت مضامینمضامینملیریا کے طفیلیوں یا جراثیم کو ہلاک کرنا

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ملیریا کے طفیلیوں یا جراثیم کو ہلاک کرنا
لوگوں کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کے اندر ملیریا کے جراثیم موجود ہیں اور اگر معلوم ہو بھی جائے تو بھی دوا کے استعمال سے گریز کرتے ہیں اور ملیریا پھیلانے کا باعث بن جاتے ہیں
ملیریا کے طفیلیوں یا جراثیم کو ہلاک کرنا:
تمام اعتراضات اس سلسلے کی بہترین دوا کو نین ہے جو نہ صرف ملیریا بخار کے لیے مفید ہے بلکہ اسے روکتی بھی ہے اگر کونین کھانے کے باوجود بعض لوگ ملیریا میں مبتلا ہوجاتے ہیں تو یہ دوا کا قصور نہیں بلکہ کونین صحیح طور پر استعمال نہیں کی گئی ،مثلاً
۱۔بعض لوگوں کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کے اندر ملیریا کے جراثیم موجود ہیں اور اگر معلوم ہو بھی جائے تو بھی دوا کے استعمال سے گریز کرتے ہیں اور ملیریا پھیلانے کا باعث بن جاتے ہیں۔
۲۔تقریباً نوے فی صد بچے اس مرض کا مخزون ہوتے ہیں اوراکثر ان کی پروانہیں کی جاتی۔
۳۔کونین کا استعمال موسم کی ابتدا سے ہی شروع کردینا چاہیے کیونکہ ملیریا بخار کے جنسی طفیلیوں پر کونین اثر نہیں کرتی بلکہ اگر کچھ مدت کے بعد دی جائے تو جنسی طفیلیوں کی پیدائش میں مدد دیتی ہے۔
۴۔طفیلیوں کی جنسی شکل کو ختم کرنے کے لیے دیگر ادویات استعمال کی جاتی ہیں ل اس کے لیے کسی ماہر سے مشورہ کریں۔
۵۔ہفتے میں دو دن مقرر کرلیں مثلاً ہفتہ اتوار چنانچہ ہفتے کی صبح کو اور اتوار کی صبح کو پانچ گرین کونین کھالیا کریں اور جب تک برسات کا موسم رہے اسے استعمال کرتے رہیں ۔
ہیضہ: یہ بے حد خطرناک مرض ہے اس سے مریض بہت جلد ہلاک ہوجاتا ہے یہ مرض آسانی سے پہچانا جاسکتا ہے مریض کو بڑی مقدار اور تعداد میں دست آتے ہیں اور دستوں میں جو کچھ خارج ہوتا ہے اس مواد کی شکل چاولوں کی پیچ کی مانند ہوتی ہے۔اس مرض کے جراثیم کھانے پینے کی اشیا کے ذریعے جسم میں داخل ہوتے ہیں بالخصوص پانی اور دودھ کے ذریعے یہ مرض گندگی اور گندی عادات کی وجہ سے وبا کی صورت اختیار کرلیتا ہے جن جراثیم سے یہ مرض پیدا ہوتا ہے ان کی چند خصوصیات یاد رکھنا ضروری ہے ان کے علم سے اس کے بچاؤ کی صورتیں معلوم کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔
۱۔گندے اور غلیظ پانی میں یہ جراثیم بڑی سرعت سے پھیلتے اور بڑھتے ہیں۔
۲۔پانی کے علاوہ انسانی جسم کے باہر یہ بہت جلد مرجاتا ہے۔
۳۔بعض مریض ایسے بھی ہوتے ہیں جو تندرست ہوجانے کے بعد کافی مدت تک ان جراثیم کو اپنے پاخانے کے ذریعے خارج کرتے ہیں۔
۴۔جراثیم پر اس سیال شے میں جلد ہلاک ہوجاتے ہیں جس کا رد عمل تیزابی ہو۔
اس خطرناک مرض سے بچنے کے لیے جو طریقے اختیار کیے جاسکتے ہیں وہ یہ ہوسکتے ہیں۔
صاف ستھرا پانی: پانی کو صاف کرنے اور اسے ہر قسم کی نجاست سے پاک رکھنے کے کئی طریقے ہوسکتے ہیں پانی کا محض صاف اور شفاف ہونا اس امر کی ضمانت نہیں ہوتا کہ اس کے اندر مرض پیدا کرنے والے جراثیم مغفور ہوں گے اس لیے ہمیشہ وہ پانی استعمال کریں جسے کلورین یا دیگر طریقوں سے پاک کرلیا گیا ہو۔اگر ایسا پانی میسر نہ آئے تو پھر اولاً چشمے کا پانی بے ضرر ثابت ہوگا اور اس کے بعد اس کنویں کا پانی جو کافی گہرا کھودا گیا ہو یعنی جو دوسری یا تیسری تہہ کا پانی دے رہا ہو اگر ایسا پانی بھی نہ مل سکے تو پھر اس کنویں کا پانی جو پہلی سطح تک ہی کھودا گیا ہو لیکن کنواں بند یا ڈھانپا ہوا ہونا چاہیے کنویں کے ارد گرد کم از کم ایک فٹ تک کے کوئی گندگی نہ پھینکنی چاہیے اگر آپ کسی ایسے مقام پر ہوں جہاں قابل اعتماد پانی میسر نہ آسکے تو پھر پانی کو اگر وہ صاف اور شفاف ہو صرف ابال لینا ہی کافی ہوتا ہے اگر اس میں مٹی وغیرہ ملی ہوئی ہو ،مثلاً دریا یا نہر کا پانی ہو تو پھر اسے برتن میں ڈال کر تھوڑی دیر تک پڑا رہنے دیں اور پھر پانی کو نتھار لیں پھر کوئی صاف کپڑا مثلاً لٹھا گف کھدر،زین یا کینوس وغیرہ لے کر اس میں سے پانی ٹپکائیں یعنی چھان لیں اور پھر اسے جوش لیں اور اب استعمال میں لائیں اگر پھٹکڑی یا چونا جس سے دیواروں پر سفیدی کی جاتی ہے یا پان پر لگا کر کھایا جاتا ہے میسر آجائے تو ان میں سے کسی ایک کو پانی میں ڈال کر ہلائیں کچھ دیر اسے کھڑارہنے دیں غیر اشیا تہہ نشین ہوجائیں گی اب پانی کو نتھار کر جوش دے لیں اوراستعمال میں لائیں۔
غذا کا جراثیم سے پاک رکھنے کے لیے مندرجہ ذیل ہدایاپر عمل کریں:
۱۔خود ایسا کریں اور اپنے ملازمین کو بھی یہ ہدایات کریں کہ اپنے ہاتھ پوٹاشیم پرمیگنیٹ کے محلول(کانڈی لوشن) سے دھوئے بغیر کھانے پینے کے برتنوں کو ہاتھ نہ لگائیں۔
۲۔برتنوں کو صابن یا صاف ستھری راکھ کے سوا اور کسی شے سے صاف نہ کریں۔
۳۔کھانے پینے کی ہر شے کو اچھی طرح ڈھانپ کر رکھیں تاکہ مکھی یا کوئی جانور اس پر بیٹھنے نہ پائے۔ ہیضے کے جراثیم کی ایک اور خاصیت بھی قابل لحاظ ہے اور وہ یہ کہ اگرچہ گندے پانی میں بہت جلدنشوونما پاتے ہیں لیکن ایسا پانی یا سیال جس کس ردعمل تیزابی ہو اس میں بہت جلد ہلاک ہوجاتے ہیں طبعی طور پر معدے کی رطوبات کا ردعمل تیزابی ہوتا ہے کیونکہ اس کے اندر تیزاب نمک پایا جاتا ہے ،پس ہیضے کے جراثیم اس کے اندر چلے بھی جائیں توبہت جلد ہلاک ہوجاتے ہیں لیکن جب بدہضمی کی شکایت ہو جس کے باعث معدہ رطوبت یا لحاب اور ریشے سے پر ہوجاتا ہے تو پھر معدی رطوبات کا ردعمل تیزابی نہیں رہتا کھاری ہوجاتا ہے اور یہ ماحول ان کی نشوونما میں مدد دیتا ہے یا جب معدے کے کسی مرض سے دست آرہے ہوں تو بھی یہ جراثیم ہلاک نہ ہوسکیں گے کیونکہ اب وہ معدے میں مناسب عرصے کے لیے ٹھہر ہی نہیں سکتے اور بہت جلد انتڑیوں میں اتر جاتے ہیں اور معدے کی رطوبت ان پر عمل نہیں کرپائیں اس لیے وہ ہلاک نہیں ہوتے جراثیم کی اس خاصیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مرض سے محفوظ رہنے کے یہ تین اصول یاد رکھیں اور وبا کے زمانے میں ان پر ضرور عمل پیرا ہوں:
۱۔ مرغن ثقیل اور اس قسم کی کوئی ایسی غذا نہ کھائیں جس سے بدہضمی پیدا ہو۔
۲اگر دست لگ جائیں تو ان کومعمولی مرض سمجھ کر گھریلو دوا دارو نہ کریں بلکہ فوراً معالج کا مشورہ حاصل کریں۔
۳۔ان دنوں میں کوئی جلاب نہ لیں میگنیشیا فروٹ سالٹ وغیرہ ہرگز استعمال نہ کریں اگر کسی گھر میں ہیضے کا مریض پڑا ہو تو یہ احتیاطیں برتیں:
۱۔مریض کو ایک علیحدہ کمرے یا جگہ پر رکھیں اور اس کے برتن کوئی اور شخص استعمال نہ کرے۔
۲۔مریض کے تمام کپڑے اور برتن اُبال کر خوب اچھی طرح پاک صاف کریں۔
۳۔مریض کے فضلات،پاخانے قے اور بچے کچھے کھانے وغیرہ کو جلادیں یا کسی ایسے گڑھے میں دبا دیں جہاں سے پانی کے گندا ہونے کا خطرہ نہ ہو،
۴۔ہیضے کا ٹیکہ لگوائیں وبا پھوٹنے کا خطرہ پیدا ہوتے ہیں لگوالیں وبا کے پھوٹ پڑنے کا انتطار نہ کریں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے