بند کریں
صحت مضامینمضامینملیریا سے کینسر کاعلاج

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ملیریا سے کینسر کاعلاج
آئے روز نئی سے نئی طبی تحقیقات سامنے آرہی ہیں بعض اوقات ایک تحقیق کے دوران ہی کوئی تحقیق سامنے آجاتی ہے۔
آئے روز نئی سے نئی طبی تحقیقات سامنے آرہی ہیں بعض اوقات ایک تحقیق کے دوران ہی کوئی تحقیق سامنے آجاتی ہے۔ حالیہ دنوں حادثاتی طور پر کینسر کے علاج کے سلسلے میں ایک اہم دریافت اُس وقت کرلی گئی جب ایک ریسرچ کے دوران یہ راز فشا یواکہ ملیریا کوکینسر کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔اس کا انکشاف اُس وقت ہوا جب ڈنمارک کے محققین تھے حاملہ خواتین کوملیریا سے بچانے کے لئے تحقیق میں مصروف تھے۔ملیریا ایک مرض ہے۔جوحاملہ خواتین میں بچے کوخوراک پہنچانے والی نالی ہے جوحاملہ کرتا ہے جس سے یہ حاملہ ماں اور اُس کے بچے کے لئے زیادہ مضر تصور کی جاتی ہے۔
ریسرچ میں یہ نتیجہ بھی سامنے آیا ہے کہ جوملیریا پروٹین اس نالی پر حملہ آور تھے وہی کینسر سیلز پر بھی حملہ کرتے ہیں۔ملیریا پروٹین بچوں کوخوراک پہنچانے والی نالی کاربو ہائیڈرٹیس میں شامل ہوجاتے ہیں جس سے بچنے کی بڑھوتری میں مدد ملتی ہے۔ جب انہیں ٹیومر میں شامل کیاگیا تواُن کا طریقہ کارپلینٹیا جیسا ہی تھا۔یونیورسٹی آف ہن ہیگن کے علی سلانتی کے مطابق سائنس دان کافی عرصے سے پلینٹیا اور ٹیومر کے درمیان مماثلت کی تلاش میں تھے۔اُن کے مطابق پلینٹیا ایک ایسا عضوہے جوکچھ ماہ کے دوران ہی چند سیلز سے دوپاؤنڈ جتنا وزن بنالیتاہے جبکہ ٹیومر بھی اُسی انداز سے بڑھتے ہیں۔اس دریافت کو چوہوں پر آزمایا جاچکاہے۔علی سلانتی کے مطابق اہم سوال یہ ہے کہ آیا یہ علان انسانوں پرکام کرے گا اور اگر انسانوں پر یہ علاج کام بھی کرتا ہے توکیا انسانی جسم اس کے مضر اثرات کوبرداشت کرسکے گا۔
ماہرین کاکہنا ہے کہ یہ علاج کینسر کی 90فیصد اقسام میں کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔سائنسدان اس حوالے سے پُر امید ہیں کہ ملیریا پروٹین نے کود کو صرف اس کاربوہائیڈریٹ سے منسلک کیا جو یاتو پلینٹیا میں موجود ہوتا ہے یاپھر ٹیومر ہیں۔ سائنسدانوں کاکہنا ہے کہ اس دریافت کوانسانوں پر آئندہ چار سالوں میں آزمایا جاسکتا ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے