بند کریں
صحت مضامینمضامینملیریا

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ملیریا
خون میں ان جراثیم کے داخل ہونے کا باعث ایک خاص قسم کا مچھر ہوتا ہے یہ مچھر گندے اور کھڑے پانیوں میں خوب نشوونما پاتے ہیں اور یہی مچھر ان طفیلیوں کو خون سے حاصل کرتا ہے اور تندرست آدمیوں کو کاٹ کر انہیں بھی بیمار کردیتاہے
ملیریا:
ملیریا بخار انسان کی قوت ا ور ہمت کو جس قدر تباہ و برباد کرتا ہے اُس کے مقابلے میں اس بخار کی ہلاکت خیزی کوئی حقیقت نہیں رکھتی،یہ درست ہے کہ اب اموات بہت کم ہوتی ہیں لیکن بیمار کی قوت حیات کو بے حد کمزور کردیتا ہے،تحقیقات سے ثابت ہوچکا ہے کہ ملیریا بخار ان جراثیم یا طفیلیوں کے باعث چڑھتا ہے جو انسان کے خون میں داخل ہوجاتے ہیں خون میں ان جراثیم کے داخل ہونے کا باعث ایک خاص قسم کا مچھر ہوتا ہے یہ مچھر گندے اور کھڑے پانیوں میں خوب نشوونما پاتے ہیں اور یہی مچھر ان طفیلیوں کو خون سے حاصل کرتا ہے اور تندرست آدمیوں کو کاٹ کر انہیں بھی بیمار کردیتاہے چنانچہ ان طفیلیوں کی زندگی کا ایک حصہ تو انسان کے خون کے اندر پورا ہوتا ہے اور دوسرا مچھر کے معدے میں پس ان طفیلیوں کی زندگی کے چکر کو پورا کرنے میں انسان اور مچھر برابر کے شریک ہیں اگر ان میں سے ایک نہ ہو تو ملیریا بخار پیدا کرنے والے طفیلی بھی دنیا سے مفقوذ ہوجاتیں چنانچہ ملیریا کے خلاف جو مہم بھی جاری کئی جائے گی وہ ان اصولوں پر ہوگی:
۱۔ملیریا پیدا کرنے والے مچھروں کو ان کی زندگی کے ہر دور میں ہلاک کرنے کی کوشش کی جائے۔
۲۔ہم اپنے آپ کو مچھروں سے محفوظ رکھیں اور ان کو کاٹنے نہ دیں۔
۳۔ملیریا کے طفیل کو ہلاک کردیا جائے۔
۴۔ہم آپنے آپ کو طفیلیوں سے محفوط رکھیں۔
۵۔ان حالات اور ماحول کو ختم کیا جائے جن کے اندر رہ کر مچھر نشوونما پاتے ہیں تاکہ یہ اپنی موت آپ ہی مرجائیں۔
مچھروں کے خلاف مہم اس طرح جاری کی جاسکتی ہیں: جہاں کہیں بھی مچھروں کے نشوونما پانے کی جگہ موجود ہوں اسے صاف کردیا جائے چنانچہ پانی کے نکاس کا بہتر انتظام ہونا چاہیے اپنے مکانوں اور کوٹھیوں کے اردگرد گندہ پانی جمع نہ ہونے دیں اگر قریب کوئی نالی بہتی ہو تو اُسے صاف رکھیں بالخصوص اس کے کناروں پر جو گھاس وغیرہ اگئی ہوئی ہو اسے صاف کردیا جائے گڑھے اور نشیبوں کو پُر کردیا جائے چھوٹے چھوٹے گڑھے نالیاں اور نشیب جہاں بارش کا پانی جمع ہوگیا ہو ان کو خشک کریں اپنے غسل خانوں کا خاص طور پر خیال رکھیں وہ کھلے ہوادار اور روشن ہونے چاہیں اور وہاں کوئی ایسی شے نہیں رکھنی چاہیے جس کے اندر پانی جمع رہ سکے۔مچھروں کے پکڑنے اور تباہ کرنے کی ایک آسان ترکیب یہ ہے:لکڑی کا ایک بکس بنوائیں اور اس کے اندر سیاہ رنگ کردیں اس بکس کا ڈھکنا اوپر کی طرف ہو جسے قبضوں کے ذریعے لگایا گیاہو،رات کو بکس کا منہ کھول کر کمرے میں رکھ دیں صبح آپ دیکھیں گے کے سب مچھر اس کے اندر آگئے ہیں ڈھکنا آپ بند کردیں اور ایک چھوٹے سے سوراخ کے ذریعے جو ڈھکنے میں موجود ہوتا ہے تھوڑا سا پٹرول بکس میں ڈال دیں تمام مچھر مرجائیں گے دن کو یہ بکس باہر دھوپ میں رکھیں تاکہ پٹرول کی بو اُڑ جائے۔
مندرجہ ذیل سفوف کی دھونی بھی مچھروں کو ہلاک کرنے میں مفید ثابت ہوگی:
عاقر فرحا (Pyrethrum) :تین حصے۔
قلمی شورہ(Saltpeter) :ایک حصہ
دھونی دینے سے پہلے کمرے کے دروازے اور کھڑکیاں بند کردیں اس سفوف کو لوہے کی چادر یا رکابی پر نصف انچ موٹا پھیلا دیں پھر اسے آگ لگادیں ایک ہزار مکعب فٹ جگہ کے لیے سفوف کی ایک پونڈ یعنی تقریباً آدھ سیر مقدار میں کافی ہوگی۔
جس مقام پر تمباکو سستا مل جاتاہو وہاں کمروں کو بند کرکے تمباکو کو سلگائیں۔
اپنے آپ کو اگر مچھروں کے کاٹنے سے بچانا چاہیں تو مندرجہ ذیل تدابیر اختیار کریں:
۱۔ ایسے مکانات تعمیر کریں جن کے اندر مچھر نہ آسکتے ہوں چنانچہ مکان کی کرسی اونچی رکھیں اور کھڑکیوں پر جالیاں لگوائیں اور دروازوں پر چکیں لٹکائیں۔
۲۔مچھروں کی بعض عادات سمجھ لینے سے ان سے بچاؤ کی تدابیر کرنے میں مدد ملے گی۔مچھر تمام دن مکان کے ٹھنڈے اور تاریک گوشوں میں دبکے بیٹھے رہتے ہیں اور جوں ہی شام ہوئی یہ پانی کی تلاش میں اپنی جگہوں سے باہر نکل آتے ہیں۔اس لیے بہتر ہوگا کہ شام کے وقت تھوڑی دیر کے لیے چکیں اٹھادیں تاکہ مچھر باہر نکل جائیں اورپھر چکیں چھوڑدیں اگر اس وقت ہرمل کی دھونی دی جائے تو مچھر جلد بھاگ جائیں گے نیز یہ کہ مچھر زیادہ اونچا نہیں اُڑسکتے اس لیے اگر برسات میں بالائی کمروں یا برساتیوں میں سویا جائے تو وہاں مچھر بہت کم ہوں گے مچھر طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب کے بعد کاٹتے ہیں۔
مچھر سے بچنے کے لیے مچھر دانیاں بھی استعمال کی جاسکتی ہیں:
مچھر دانی استعمال کرتے وقت مندرجہ ذیل احتیاطوں پر عمل کرنا ضروری ہوگا تاکہ اس سے فائدہ حاصل ہو:
۱۔مچھر دانی کافی بڑی اور کھلی ہو تاکہ اس کے اندر بخوبی آرام سے سویا جاسکے اور پھر جالی اور بستر کے درمیان کافی جگہ باقی رہے تاکہ کروٹ بدلتے وقت جسم کا کوئی جالی کے ساتھ نہ لگنے ہائے ورنہ مچھر جالی کے باہر ہی سے کاٹ لے گا۔
مچھر دانی غروب آفتاب سے پہلے ہی لگادینی چاہیے اور پھر اس کے اندر اچھی طرح معائنہ کرلیں تاکہ کوئی مچھر اس کے اندر نہ آگیا ہو۔
۳۔مچھر دانی بانسوں کے اندر ہو اور مچھر دانی کے کنارے بستر کے نیچے دبا دیے جائیں اس حد تک کہ کوئی کھلی جگہ باقی نہ رہ جائے۔
۴۔خوشبودار تیل مثلاسٹرونیلا (Citronela) دارچینی کا تیل،یوکلپٹس کا تیل وغیرہ لگائیں لیکن یہ یاد رہے کہ یہ تیل اس وقت تک ہی کام دیتے ہیں جب تک ان کی خوشبو باقی رہے۔
۵۔بعض رنگوں سے بھی پرہیز کرنا ضروری ہوگا مثلاً گہرے سرخ یا سیاہ رنگ پر مچھر خوب آتے ہیں ان کے مقابلے میں سفید سبز،پیلے اور اودے رنگ پر بہت کم آتے ہیں بس یوں سمجھنا چاہیے کہ ایسے مقامات پر جہاں ملیریا پایا جاتا ہو ایسے موسم میں جب ملیریا بخار خوب پھیل رہا ہو تو صرف سفیر کپڑے ہی پہنے جائیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے