بند کریں
صحت مضامینمضامینمراقبہ

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مراقبہ
یہ منفی خیالات سے نجات دلاتا ہے
شوکت رحمان خٹک:
دنیا کے مختلف مذاہب میں مراقبہ کی اہمیت اور افادیت مسلمہ ہے۔ چین، جاپان اور ہندوستان میں مذہبی پیشوا، صوفیا کرام اور اولیاء اللہ صلاحیتوں کی نشوونما اور جسمانی علاج کے لیے مراقبہ کی تلقین وتاکید کرتے رہے ہیں۔ دور جدید میں امریکہ، برطانیہ اور جرمنی میں ہونے والی جدید تحقیقات نے ارتکاز رتوجہ، مثبت اندازفکر اختیار کرنے اور بہت سی مہلک بیماریوں کے علاج کے لیے مراقبہ کی اہمیت واضح کردی ہے۔ 1970ء میں پہلی مرتبہ مراقبہ کے طریقہ کاراور اس کے اثرات پر سائنسی تجربات کئے گئے۔
فی زمانہ مراقبے کو ذہنی دباؤ کے خلاف بہترین ہتھیار کے طور پر استعمال کیاگیا ہے۔ مراقبہ کی مدد سے کولیسٹرول کی سطح کوکم اور بلڈپریشر اور دیگر امراض کو کنٹرول کیاجارہا ہے۔ مراقبے سے انسان کو منفی خیالات سے نجات ملتی ہے اور جب منفی خیالات سے چھٹکارا پاکر انسان مثبت طرز فکر اختیار کرتا ہے تو اپنی نظروں میں اس کی قدر وقیمت بڑھ جاتی ہے۔ مراقبہ کے دوران گہرے سانس لینے سے سکون اور طمانیت پیدا ہوتی ہے۔ پھیپھڑوں میں آکسیجن زیادہ بھرنے سے دل کوطاقت ملتی ہے۔ دوران خون بہتر ہو کر دماغ کو سکون پہنچتا ہے۔
دور حاضر کی ذہنی اور اعصابی الجھنیں مثلاََ فکرو تشویش ، جلد بازی، چڑچڑاپن، غصہ اور بدمزاجی ذہنی دباؤ کی علامات ہیں۔ ذہنی دباؤ سے نجات بہت ضروری ہے کیونکہ جب کوئی شخص ذہنی تفکرات کا شکار ہو جائے۔ تواس کاپورا جسم متاثر ہوجاتا ہے دل تیزی سے دھڑکتا ہے بلڈ پریشر اور شوگر کی سطح بڑھ جاتی ہے ہمارے جسم کے مدافعاتی نظام کا اعصابی نظام سے بڑا گہراتعلق ہے۔ ذہنی دباؤ سے جلدی امراض بھی پیدا ہوسکتے ہیں اور جگر ، دماغ اور قلب بھی متاثر ہوسکتے ہیں ۔ مراقبے کے ذریعے چونکہ ہمارا مقصد ذہنی تفکرات سے چھٹکارا پاکر ذہنی سکون حاصل کرنا ہے اس لئے ضروری ہے کہ مراقبے سے پہلے اپنے قول وفعل کے قضاو کو ختم کردیا جائے اور عملی زندگی میں جھوٹ، فریب م دھوکہ دہی اور منافقت سے گریز کیا جائے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ جرم وگناہ کی زندگی سے توبہ کی جائے، رشوت، سود خوری اور رزوق حرام سے منہ موڑ لیاجائے۔
مراقبہ عملی طریقہ:
مراقبہ کے لئے پر سکون جگہ اور وقت کا انتخاب کریں جہاں شور وغیرہ نہ ہو، فرش، کرسی، چار پائی یاجائے نماز پر بیٹھ جائیں۔ لمبے لمبے سانس لیں، معدہ خالی رکھیں تمام اعضاء کو ڈھیلا چھوڑ دیں جسم میں تناؤ نہیں ہونا چاہیے۔
اس کے بعد ذہن کو کسی شے مثلاََ چاند، پھول، ستارہ یاقدرتی منظر کے تصور پر مرکوز کر دیں۔ ابتداء میں اس مشق کے لیے صرف پانچ منٹ کی مشق کافی ہوگی۔ مگر آہستہ آہستہ یکسوئی حاصل ہوجائے گی۔
ذہنی یکسوئی کا وقفہ بڑھنے لگے تو خیالات قابو میں رہیں گے اور طبیعت میں ایک ٹھہراؤ سا محسوس ہونے لگے گا۔ ذہنی ارتکاز جسم، دماغ کی منفی صلاحیتوں کو اجاگرکرے گا۔
مراقبے کے دوسر دور میں روحانی کون اوردماغی بیماریوں کے علاج کے لئے اللہ تعالیٰ کے نام خوش خط لکھ کر ان پر نگاہیں مرکوز کردیں اور غور وفکر کریں۔ دماغی مریض قرآنی آیات اور درود شریف ٹیپ ریکارڈ پر بھی سن سکتے ہیں۔
مراقبے کے پانچویں مرحلے میں یہ تصور کریں کہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے گرامی اور قرآنی آیات سے صحت وتندرستی کی لہریں پھولتی ہیں اور میرے وجود میں سماجاتی ہیں۔ مراقبہ کے لیے وہ لفظ منتخب کیاجائے جودل کو سب سے پیارا لگے مثلاََ یارحیم، یاکریم، یاغنی، یارؤف، یاحفیظ، یارزاق، یاملک وغیرہ۔ مراقبے میں آیات قرآن اور درود شریف بھی پڑھا جاتا ہے اس سے ذہنی تفکرات ختم ہوکر اطمینان وسکون کی دولت میسر آتی ہے۔ مراقبے سے جسم تندرست اور چہرے پر تازگی آتی ہے لاابالی پن ختم ہوکر طبیعت میں ٹھہراؤ پیدا ہوتا ہے جوکہ پروقار شخصیت کے لئے انتہائی لازمی ہے۔ مراقبہ کی مشق کرتے رہنے سے ذہن کی مخفی صلاحیتیں بیدار ہوجاتی ہیں اور انسان خود کوجسمانی، ذہنی، نفسیاتی اور روحانی طور پر چاک وچوبند محسوس کرتا ہے۔

(2) ووٹ وصول ہوئے