بند کریں
صحت مضامینمضامینمصنوعی آنکھ لاکھوں انسانوں کی زندگی میں روشنی لاسکتی ہے

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مصنوعی آنکھ لاکھوں انسانوں کی زندگی میں روشنی لاسکتی ہے
بعض اکیڈمی آف سائنسز کے جریدے میں شائع ہونے تحقیق کہا گیا ہے کہ ماہرین کو یقین ہے کہ نئی مصنوعی آنکھ بہت سے لوگوں کی زندگیاں یکسر تبدیل کردے گی۔۔۔
فیصل خورشید:
بعض اکیڈمی آف سائنسز کے جریدے میں شائع ہونے تحقیق کہا گیا ہے کہ ماہرین کو یقین ہے کہ نئی مصنوعی آنکھ بہت سے لوگوں کی زندگیاں یکسر تبدیل کردے گی ۔ نیویارک کی کارنل یونیورسٹی کی ڈاکٹر شیلا نیرن برگ نے جواس تحقیق کی قیادت کررہی ہیں کاکہنا ہے کہ بسارتی خلیے کا استعمال کرنے سے آنکھ کی کارگردگی اسی طرح بہتر ہوئی ہے جیسے کوئی تصویر ریزہ لوشن بڑھانے سے زیادہ واضح ہوجاتی ہے ۔ دنیا بھر کے طبی سائنس دان طویل عرصے سے بینائی کے اس مرض کا عالج ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں مبتلا ہو کر مریض آہستہ آہستہ بنیائی سے مکمل طور پر محروم ہوجاتا ہے ۔ یہ مرض بصارتی پردے کی روشنی محسوس کرنے والے خلیوں کو تباہ کردیتا ہے ۔جب کہ آنکھ اور دماغ کا اعصابی تعلق قائم رہتا ہے ۔ اس مرض کے باعث دنیا بھر تقریباََ دو کروڑ افراد ایسے ہیں جو یا تو اپنی بصارت کھو چکے ہیں یا پھر رفتہ رفتہ ان کی زندگی میں تاریکی بڑھ رہی ہے ۔ سائنس دانوں کو تو قع ہے کہ ان مریضوں کی آنکھوں میں مصنوعی پردہ لگانے سے ان کی بنیائی واپس آجائے گی ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دیکھنے کے لیے صرف ریزولوشن بڑھانا ہی کافی نہیں ۔ اصل کام روشنی کی لہروں کو ایسے پیغامات میں تبدیل کرنا ہے جسے دماغ پڑھ سکتا ہو۔ نئی مصنوعی آنکھ میں اسی پہلو کو مدنظر رکھا گیا ہے ۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اندھے چوہے کی آنکھ میں مصنوعی بصارتی پردہ لگانے سے اس کی 90صد بنیائی واپس آجانے کے بعد لاکھوں انسانوں کی زندگیوں میں روشنی لانے کا راستہ کھل گیا ہے۔

(2) ووٹ وصول ہوئے