Micro Plast - Dushman E Sehat

مائکرو پلاسٹک۔دشمن صحت

ہفتہ دسمبر

Micro Plast - Dushman E Sehat
لیاقت علی جتوئی
دنیا کی کثیر آبادی روزانہ کسی نہ کسی شکل میں پلاسٹک استعمال کررہی ہے ،تاہم ہماری زندگیوں میں عام استعمال ہونے والا یہ پلاسٹک حل پذیر نہیں ہوتا۔یہ پلاسٹک وقت کے ساتھ بہت چھوٹے چھوٹے ذرات میں تقسیم ہوجاتاہے،جنھیں ”مائکرو پلاسٹکس“(MICROPLASTICS) کہاجاتاہے۔ یہ مائکروپلاسٹکس ماحولیات وصحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں اور غذاؤں ،خاص طور پر سمندری غذاؤں میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔


مائکروپلاسٹکس کیا ہیں؟
مائکرو پلاسٹکس اصل میں پلاسٹک کے انتہائی چھوٹے ذرات ہیں،جوماحول کا حصہ بنتے جارہے ہیں۔ان ذرات کا قطر102ء(5ملی میٹر )سے بھی کم ہوتاہے ۔پلاسٹک کے یہ ذرات ٹوتھ پیسٹ اور دوسری مصنوعات میں باریک دانوں کی شکل میں ہوتے ہیں۔

(جاری ہے)

پلاسٹک کی بڑی تھیلیاں ٹوٹ کر انتہائی باریک ذرات کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔

یہ ذرات انسانی آنکھ سے نہیں دیکھے جا سکتے،البتہ خردبین سے بہ آسانی دیکھے جاسکتے ہیں۔مائکرو پلاسٹکس سمندروں ،دریاؤں ،ندیوں اور مٹی میں شامل ہوجاتے ہیں اور غذاکے ذریعے جانوروں کے معدوں میں پہنچ جاتے ہیں۔بین الاقوامی سمندروں میں مائکرو پلاسٹکس کی موجودگی سے متعلق تحقیق کا آغاز1970ء میں ہوا تھا۔تحقیق کاروں کے مطابق بحراوقیانوس کے ساحل کے قریب یہ بڑی مقدار میں پائے گئے ہیں۔

آج کل دنیا بھرمیں پلاسٹک کا استعمال بہت زیادہ بڑھ چکا ہے،اسی لیے سمندروں،دریاؤں ،ندیوں اور جھیلوں میں پلاسٹک کی موجودگی خطر ناک حد کو چھورہی ہے۔ایک اندازے کے مطابق ہر سال بین الاقوامی سمندروں میں88ء ملین ٹن (8ملین میٹرک ٹن)پلاسٹک اور اس کا کچرا شامل ہورہاہے۔
غذا میں مائکرو پلاسٹکس
پلاسٹک کے ذرات ہمارے ماحول میں موجود ہر چیز میں شامل ہو چکے ہیں اور ہم جو غذائیں کھاتے ہیں،وہ بھی ان سے محفوظ نہیں رہیں۔

ایک نئی تحقیق میں سمندری نمک کی اقسام کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ فی پاؤنڈ نمک میں پلاسٹک کے273ذرات پائے گئے ،یعنی ایک کلو گرام نمک میں600ذرات ،جبکہ شہد کی مختلف اقسام میں فی پاؤنڈ300پلاسٹک کے ذرات ملے ،یعنی ایک کلو شہد میں660ذرات۔کھانے پینے کی اشیاء میں پلاسٹک کے ذرات کا سب سے بڑا ذریعہ سمندری غذاہے۔پلاسٹک کے ذرات کی مقدار سمندر میں بڑھتی جارہی ہے،جس کی بڑی وجہ آلودگی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مچھلیاں اور دیگر سمندری جانور اپنی غذا کھاتے وقت پلاسٹک کے یہ ذرات بھی کھا جاتے ہیں۔کئی اقسام کی مچھلیاں غلطی سے پلاسٹک کے ذرات کو اپنی غذا سمجھتے ہوئے کھا لیتی ہیں،جس کے باعث ان کے جگر میں مضر کیمیائی مادے جمع ہو جاتے ہیں۔
مائکروپلاسٹکس کے نقصانات
تمام تحقیقات یہ ثابت کر چکی ہیں کہ پلاسٹک کے ذرات غذاؤں میں شامل ہوتے ہیں اور صحت کے لیے انتہائی مضر ہیں۔

پلاسٹک کو نرم اور لچک دار بنانے کے لیے ایک خاص قسم کا کیمیائی مادہ استعمال کیا جاتاہے ،جو چھاتی کا سرطان پیدا کرنے والے خلیات میں اضافہ کرتاہے۔تحقیق کاروں نے ایک تجربے میں چوہوں پر مائکروپلاسٹکس کے اثرات کا جائزہ لیا تو پتا چلا کہ کھانے کے بعد پلاسٹک کے ذرات چوہوں کے جگر،گردوں اور آنتوں میں جاکر جمع ہوگئے،جس کی وجہ سے ان کے جسموں میں آزاد اصلیوں(فری ریڈیکلز)کی پیداوار دیکھی گئی اور انھیں بے اثر کرنے کی جسمانی صلاحیت میں عدم توازن پیدا ہوتے بھی دیکھا گیا۔

مزید برآں اس کے نتیجے میں دماغ کے لیے نقصان دہ سمجھنے والے سالمات(مالیکیولز)کی سطح میں اضافہ بھی نوٹ کیا گیا۔مذکورہ تجربے کے مطابق پلاسٹک کے ذرات آنتوں سے ہوتے ہوئے خون اور دیگر جسمانی اعضا کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
جسم میں پلاسٹک کے ذرات
پلاسٹک کے ذرات سمندری مخلوق کے علاوہ انسانی جسم میں بھی پائے گئے ہیں۔

ایک تجربے میں حصہ لینے والے 87فیصد رضاکاروں کے جگر میں پلاسٹک کے ذرات موجود تھے۔تحقیق کاروں نے بتایا کہ اس کی وجہ ہوا میں پائے جانے والے پلاسٹک کے انتہائی باریک ذرات بھی ہوسکتے ہیں۔یہ پھیپھڑوں کے خلیات میں سوزش پیدا کرنے والے کیمیائی مادے پیدا کر سکتے ہیں۔پلاسٹک کی تیاری میں کئی کیمیائی مادے شامل کیے جاتے ہیں،جن میں سب سے زیادہ تحقیق ”بسفینول اے“(BPA)نامی مادے پر کی گئی ہے۔

یہ کیمیائی مادہ پلاسٹک میں پیک کی گئی اشیاء یا سرد خانے میں رکھی ڈبابند غذاؤں کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتاہے،جہاں سے یہ ان میں شامل ہو سکتاہے ۔چند ایسے شواہد ملے ہیں،جن کے مطابق یہ مادہ تولیدی غدود کو متاثر کر سکتاہے،خاص طور پر خواتین کے۔
مائکرو پلاسٹکس سے بچاؤ
پلاسٹک میں پیک کی گئی کھانے پینے کی غذائیں کھانا ترک کر دینی چاہییں،اس طرح ہم پلاسٹک کے ذرات کو اپنے جسموں میں شامل ہونے سے روک سکتے ہیں،البتہ ہوا کے ذریعے ہمارے جسموں میں ان ذرات کے داخل ہونے کا جو خطرہ بر قرار رہے گا،وہ ہم فضائی آلودگی پر قابو پا کر دور کر سکتے ہیں۔

اس ضمن میں متعلقہ اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور با اثر لوگوں کو بھی کوششیں کرنی چاہییں۔ہمیں اپنی زندگی سے پلاسٹک کی تھیلیوں اور پلاسٹک سے بنی ہر قسم کی اشیاء کو نکال پھینکنا ہوگا،اسی میں ماحولیات کی اور ہم سب کی بقا مضمر ہے۔
تاریخ اشاعت: 2019-12-14

Your Thoughts and Comments