MND - Aik Jaan Leva Bimari - Article No. 2016

ایم این ڈی۔ایک جان لیوا بیماری - تحریر نمبر 2016

بدھ نومبر

MND - Aik Jaan Leva Bimari - Article No. 2016
فاروق اقدس
شازیہ بخاری کی عمر اُس وقت 47 برس تھی،جب ایک روز اس نے اپنے ایک ہاتھ میں کچھ کمزوری محسوس کی۔ اس نے کتابیں اٹھانے کی کوشش کی تو وہ ہاتھ سے چھوٹ گئیں،چیزیں پکڑیں تو وہ گرفت میں نہ آئیں۔ تشویش کے عالم میں وہ ڈاکٹر کے پاس گئی تو اس نے معائنہ کرکے بتایا کہ تمہارے جسم کی بعض رگیں دب گئی ہیں،سرجری سے ٹھیک ہو جائیں گی اور رفتہ رفتہ گرفت بھی بحال ہو جائے گی،لیکن سرجری کے لئے شازیہ کا دل نہ مانا۔

پھر اس کی ایک دوست نے اُسے مشورہ دیا کہ برمنگھم میں ایک مستند حکیم ہیں،انھیں دکھاؤ،یقینا شفا ہو گی۔ چند دنوں بعد شازیہ حکیم کے پاس گئی تو انھوں نے نبض دیکھنے اور چند سوالات کرنے کے بعد بتایا کہ تمہارے اعصاب (مسلز) جواب دے رہے ہیں۔

(جاری ہے)

پریشان ہو کر شازیہ نے ہومیو پیتھک علاج شروع کر دیا۔ پھر بعدازاں اپنا مساج بھی کروایا۔ جب کوئی فائدہ نہیں ہوا تو شازیہ نے دوبارہ ڈاکٹروں سے رجوع کیا۔

انھوں نے مکمل معائنے کے بعد جو بتایا،وہ شازیہ کے لئے انتہائی روح فرسا تھا۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ اعضا کی جنبش کے لئے قدرتی طور پر جو اشارے (سگنلز) دماغ سے جاتے ہیں،وہ درمیان میں ہی اٹک جاتے ہیں اور آگے نہیں جا پاتے۔ جو خرابی پیدا ہو چکی ہے،اس کے ٹھیک ہونے کی اب کوئی امید نظر نہیں آتی۔ یہ خرابی درست نہیں ہو سکتی اور یہ خدشہ ہے کہ تمہاری جسمانی نقل و حرکت بھی رفتہ رفتہ ختم ہو جائے گی۔

غرض ڈاکٹروں نے شازیہ کو کسی قسم کی کوئی امید دلائی اور نہ حوصلہ افزائی کی۔ اس پر یہ حقیقت آشکار ہو چکی تھی کہ جلد یا بدیر اس کی ایک نئی زندگی شروع ہونے والی اور یہ نئی زندگی معذوری اور بے بسی کی زندگی ہو گی۔ شازیہ اپنے تین بچوں کے مستقبل کے بارے میں سوچ کر پریشان ہو گئی،لیکن اس نے اپنی بیماری کے متعلق شوہر کو بھی کچھ نہیں بتایا۔
اگلے دن معمول کے مطابق وہ سکول گئی۔

وہ لندن کے سکول میں پڑھاتی تھی۔ گاڑی خود چلاتی تھی،لیکن بروز بروز اعصابی کمزوری غالب آنے لگی اور جسم کے اعضا حرکت سے محروم ہونے لگے تو اُسے سکول چھوڑنا پڑا۔ گاڑی چلانا اب اس کے لئے کار دشوار تھا۔اس مرحلے پر سکول کی انتظامیہ نے اس کی مدد کی اور سابقہ خدمات کے پیش نظر ذمے داریوں کا دورانیہ انتہائی کم کر دیا،لیکن مشاہرے میں کوئی کٹوتی نہیں کی۔

بیماری کی نوعیت کے پیش نظر کاؤنسل(امدادی ادارہ) نے شازیہ کو ایک فلیٹ دے دیا۔ جب معذوری نے پورے جسم پر قبضہ کر لیا تو گلوبل چیریٹی نامی ادارے نے اسے فوری طور پر ایک خاص ڈیزائن والی وھیل چیئر بھی فراہم کی،جو لفٹ کے ذریعے گاڑی میں منتقل کرنے اور آنے جانے میں مدد دیتی تھی۔ اس کے علاوہ مخصوص طرز کی ایک انتہائی آرام دہ گاڑی بھی دی۔ فلیٹ میں ایک چھوٹی لفٹ بھی اس ادارے نے لگوا دی،جو شازیہ کو لفٹ کرکے واش روم لے جاتی تھی۔

تمام کاموں میں معاونت کے لئے ”ایم این ڈی“ (Motor Neuron Disease) نامی ایک ادارے نے چھوٹے موٹے کاموں کے لئے ایک بچی بھی دی،تاہم جب تکلیف زیادہ بڑھ گئی تو دو مددگار خواتین فراہم کی گئیں۔ وہ واش روم لے جانے میں شازیہ کی مدد کرتیں۔ اس کو وضو کراتیں۔ اس کا اسکارف باندھتی اور اس کو جوتے پہناتیں۔ یہ تمام سہولتیں اور خواتین کو ان کی خدمات کا معاوضہ ”ایم این ڈی“ نامی اور ادارہ ہی دیتا تھا۔

اصل میں یہ ایک ہول ناک بیماری کا نام ہے،لیکن چونکہ اس بیماری میں شاذو نادر ہی کوئی مبتلا ہوتا ہے،اس لئے ادارے کو بیماری کے نام سے ہی موسوم کر دیا گیا ہے۔ یہ ادارہ دنیا بھر میں اس بیماری میں مبتلا افراد کے علاج میں مدد فراہم کرتا ہے۔ برطانیہ میں معذوروں پر بہت توجہ دی جاتی ہے اور ان کی جسمانی دیکھ بھال اور ضرورتوں کا بے حد خیال رکھا جاتا ہے۔

یہاں اضافی سہولتوں کا کسی بھی مشکل میں کوئی معاوضہ نہیں لیا جاتا ہے۔
1960ء کی دہائی میں ماہر طبیعیات اور گزشتہ صدی کے آئن اسٹائن کے بعد دوسرے بڑے سائنس دان اسٹیفن ہاکنگ مذکورہ بیماری کا شکار ہوئے تھے،جسے معالجین نے لاعلاج بیماری قرار دیتے ہوئے موت سے پہلے کی لرزہ خیز موت کہا تھا۔ اس بیماری نے پہلے اسٹیفن ہاکنگ کے ہاتھ،پیر اور پھر زبان مفلوج کر دی تھی،یہاں تک کہ دنیا سے اس کا رابطہ صرف کمپیوٹر کے ذریعے رہ گیا تھا ،جسے وہ اپنی آنکھوں کی جنبش سے آپریٹ کرتے تھے،لیکن”ایم این ڈی“ بیماری اسٹیفن ہاکنگ کے تحقیقی و تخلیقی کاموں کو نہ روک سکی۔

اس جان لیوا بیماری نے دوسرا شکار شازیہ کو کیا۔ شازیہ 5 برس سے جس وھیل چیئر پر بیٹھی رہتی ہے،اس میں ایک کمپیوٹر نصب ہے،جس میں ایسی خاص قسم کی ڈیوائسز (Devices) لگی ہوئی ہیں،جو وہ اپنی پلکوں سے آپریٹ کرتی ہے،مثلاً اگر اسے ٹی وی دیکھنا ہو یا چینل تبدیل کرنا ہو تو وہ ریموٹ کنٹرول استعمال نہیں کرتی،بلکہ اپنی آنکھوں کی جنبش سے یہ کام لیتی ہے۔

ڈاکٹروں نے اسے بتا دیا ہے کہ وہ کچھ عرصے بعد قوت گویائی سے بھی محروم ہو جائے گی،اس لئے اس نے ابھی سے ایک انتہائی خاص قسم کی ڈیوائس وھیل چیئر میں نصب کمپیوٹر میں لگوا لی ہے،جس میں شازیہ نے 1600 جملے ریکارڈ کر لیے ہیں،جو عام طور پر روزمرہ زندگی میں بولے جاتے ہیں۔ اس طرح وہ قوت گویائی سے محروم ہو جانے کے بعد بھی اپنی آواز کے ذریعے سب سے رابطے میں رہے گی اور بات چیت کر سکے گی۔

یہ ریکارڈنگ شازیہ نے چھے ماہ میں کمپیوٹر کے سامنے اپنی آنکھوں کی جنبش سے اپنے شوہر اور بچوں کی مدد سے مکمل کی ہے۔
بد قسمتی سے شازیہ جس عذاب جاں بیماری میں مبتلا ہے،وہ دماغ اور اعصاب کو بُری طرح متاثر کرتی ہے۔ اس کی ابتداء لاعلاج کمزوری سے ہوتی ہے اور بتدریج زندگی کا دورانیہ کم ہوتا چلا جاتا ہے۔ جسم کے خلیات بھی رفتہ رفتہ اپنا کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

اس کے باوجود زندگی کا سفر جاری رہتا ہے،لیکن بغیر کسی جسمانی حرکت کے۔ بیماری کے ابتدائی حملے میں مریض کو ہاتھوں،ٹانگوں اور ٹخنوں میں کمزوری محسوس ہوتی ہے،سیڑھیاں چڑھنا دشوار ہو جاتا ہے اور بولنے میں دقت ہونے لگتی ہے۔ کھانا حلق سے اُتارنے میں بھی تکلیف ہوتی ہے۔ ہاتھوں کی گرفت کمزور ہوتی چلی جاتی ہے اور چیزیں ہاتھوں سے گرنے لگتی ہیں۔

وزن بتدریج گرنے لگتا ہے،پٹھوں میں اکڑن محسوس ہوتی ہے اور جسم کے کسی بھی حصے میں پھڑپھڑاہٹ بھی ہوتی ہے۔ غرض روز مرہ کے معمولات کی ادائی عذاب بن جاتی ہے۔ پاکستان میں ابھی تک اس بیماری کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔ اگر کسی فرد میں مذکورہ بالا علامات پائی جائیں تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ وہ ”ایم این ڈی“ جیسی خطرناک بیماری میں مبتلا ہو چکا ہے ،اُسے چاہیے کہ وہ فوراً اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کرکے ان علامات کے بارے میں بتائے،کسی قسم کی کوئی غفلت نہ برتے۔

اس بیماری پر تحقیق کرنے والوں کے مطابق خواتین اس بیماری میں کم ہی مبتلا ہوتی ہیں،البتہ مرد اس کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں۔ یہ ایک لاعلاج بیماری ہے،مگر اس کی ایک دوا موجود ہے اور وہ ہے صدق دل سے قادر مطلق ،یعنی رب کائنات سے دعا۔ شازیہ نماز پڑھتی اور اللہ سے اپنی صحت کی دعا مانگتی رہتی ہے،وہ انشاء اللہ جلد صحت یاب ہو جائے گی۔
تاریخ اشاعت: 2020-11-25

Your Thoughts and Comments