Mobile Computer Kum Umar Nojawano Ki Nend Main Khalal Ky Zimydar - Article No. 1286

موبائل کمپیوٹر کم عمر نوجوان کی نیند میں خلل کے ذمہ دار - تحریر نمبر 1286

بدھ 28 مارچ 2018

Mobile Computer Kum Umar Nojawano Ki Nend Main Khalal Ky Zimydar - Article No. 1286

موبائل فون انٹرنیٹ انسان کا سایہ بن گئے ہیں۔موجودہ نسل کا شاید ہی کوئی بچہ ایسا ہو جس نے موبائل فون استعمال نہ کیا ہو۔موبائل فون ہر انسان کی ضرورت بن چکااس کے بغیر بہت سے لوگ اب زندگی کا تصور بھی نہیں کرسکتے موبائل فون ضروری ہیں یا نہیں اس بحث میں جائے بغیر ہم اس کے اثرات کے حوالے سے بات کریں گے جو خاص طور پر کم عمر نوجوان میں دیکھنے میں آرہے ہیں 24 گھنٹوں کے دوران صرف2 گھنٹے کی گفتگو یا انٹرنیٹ پر سوشل میڈیا میں اپنے خیالات و آرائش شامل کرنے کے نتیجے میں نو عمر نوجوان کے اندر جسمانی گھڑی بے ترتیب ہوجاتی ہے اور اس صورتحال کا اثر نو عمر نوجوان کی نیند پر پڑتا ہے۔

ایک تازہ ترین تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ موجودہ نسل سے قبل نیند کی اس شدت سے کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔

(جاری ہے)

آج کا لڑکا دیر سے سوتا ہے رات کو بھی بار بار جاگتا ہے اور دن میں اسے اکثر غنودگی کی حالت میں دیکھا جاتا ہے یہ سب موبائل فون کے کرامات ہیں جس نے نوجوان سے ان کی نیند چھین کر دنیا بھر کی منفی سوچیں ان کے دماغ میں بھردی ہیں۔مانٹریال یونیورسٹی کی ریسرچ میں بتایا گیا ہے کہ آج کی نسل سوشل میڈیا پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے جس کا اثر جسمانی گھڑی میں آنے والے تغیر میں دیکھا جاسکتا ہے ریسرچ کے مطابق نوجوان بستر پر جانے سے قبل جتنا زیادہ موبائل فون اور انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں اتنی ہی زیادہ ان کی نیند اچاٹ ہوتی ہے یا پھر اس کا دورانیہ کم ہوجاتا ہے۔

ہم نوجوانوں کی زندگی سے الیکڑونک میڈیا کو خارج نہیں کرسکتے او ر ہمیں اس حوالے سے حقیقت پسند بھی بننا ہوگا۔جنرل سلیپ ہیلتھ نامی مقالے کو مصنفہ اور مانٹریال یونیورسٹی کی محققہ جینیفر اولف لائن کا کہنا ہے کہ آج کا الیکڑونک میڈیا زندگی کے ہر شعبے میں داخل ہے لہٰذا وڈیو گیمز ٹی وی،فون کی صورت میں کم عمر نوجوان کی مصروفیات بہت بڑھ گئی ہیں۔

اس حوالے سے مانٹریال یونیورسٹی نے 14 سے 16 برس کے 1200 نوجوان سے ایک سوال نامہ پرکروایا جس میں نیند کے دورانیے اورسوشل میڈیا بشمول موبائل فون کے استعمال کے حوالے سے ڈیٹا نکالا گیا ۔اس سوال نامے میں ہائی اسکول کے بچوںنے بتایا کہ وہ مطالعہ ہوم ورک میں اتنا زیادہ وقت خرچ نہیں کرتے جس قدر آن سکرین سرگرمیوں میں اپنا وقت گزارتے ہیں۔محقیقین کے مطابق وہ نوجوان جنہوں نے وڈیو گیمز اور کمپیوٹر پر روزانہ 2 گھنٹے خرچ کیے ان کی نیند میں 17 سے11 منٹ کی کمی دیکھی گئی اسی طرح زیادہ وقت گزارنے والوں کی نیند میں کمی کا دورانیہ بھی زیادہ نکلا8 گھنٹے نیندبہت کم نوجوان کے حصے میں آئی۔

وہ لڑکے جنہوں نے ٹیلی فون پر گفتگو میں دو گھنٹے خرچ کیے ان کی نیند بھی تین گنا متاثر ہوئی اسی طرح ٹی وی دیکھنے والوں کی نیند بھی بھرپور نہیں ہوتی اس کا دورانیہ بھی 8 گھنٹے سے کم نکلا ایسے نوجوان دن میں حالت غنودگی میں نظر آئے۔
اس کے مقابلے میں مطالعہ کرنے یا ٹی وی اسکیرن سے ہٹ کر کوئی مشغلہ یا مصروفیات اپنانے والوں کی نیند کا دورانیہ 8 گھنٹے ہی رہا۔

کرسیٹنا کالا مارو کہتی ہیں کہ نیند بچوں کی بہتر نشوونما کے لئے ضروری ہے۔ڈیوپونٹ اسپتال برائے اطفال واقع ڈیلاور میں ریسرچ ڈائریکٹر کے طور پر کام کرنے والی کرسیٹنا کے مطابق نیند پوری نہ ہونے سے نوجوان ڈپریشن میں مبتلا ہوجاتے ہیں یا ان کے ارتکاز اور توجہ میں کمی آنے لگتی ہے۔ایسے کم عمر نوجوان میں وزن بھی بڑھتا دیکھا گیا ہے۔کرسٹینا کہتی ہیں کہ اس مسئلے کا حل یہ ہے والدین بچوں کے لیے رول ماڈل بنیں وہ اپنی خواب گاہ میں ٹیلی وژن نہ رکھیں نہ ہی طویل وقت موبائل فون پر گزاریں۔

یہ والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے سونے کا باقاعدہ شیڈول مرتب کریں دوسری جانب جینیفر اولف لائن کا کہنا ہے کہ والدین پورے دن بچوں کی مصروفیات چیک کریں۔خاص طور پر جب وہ کمپیوٹر یا ٹی وی کے سامنے بیٹھے ہوں۔بچے اگر نیند کی کمی کا شکار ہوں تو ان سے اس مسئلہ کے بارے میں کھل کر گفتگو کریں اور موبائل‘ٹیلی ویژن اور کمپیوٹر کا استعمال کم سے کم کردیں۔

تاریخ اشاعت: 2018-03-28

Your Thoughts and Comments