بند کریں
صحت مضامینمضامینموٹاپا

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
موٹاپا
دماغی عمر کو دس سال زیادہ بوڑھا کرنے کا باعث

موٹاپا نہ صرف ظاہری شخصیت کو تباہ کردیتا ہے بلکہ یہ امراض کی جڑ بھی ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس سے ذیابیطس ، بلڈپریشر ، امراض قلب اور فالج غرض کہ لاتعداد بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے تو کہا جاتا کہ موٹاپا بذات خود کئی بیماریوں کا باعث ہے۔ اب یہ ایک بیماری کاباعث بن بھی رہا ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ایسے افراد جن کا وزن زیادہ ہوتا ہے اُن کا دماغ عمر کے مقابلے میں دس سال زیادہ بوڑھا ہوتاہے۔
انسانی دماغ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ معلومات کی رسائی والے حصے میں قدرتی طور پر سفید مواد ختم ہونے لگتا ہے لیکن کیمبرج یونیورسٹی کی تحقیقی ٹیم کے مطابق دماغ میں اس مواد کا ختم ہونا اضافی وزن سے بڑھ جاتا ہے۔ اسی باعث زیادہ وزن والے 50سالہ شخص کا دماغ ایک 60سالہ دبلے شخص کے برابر ہوتا ہے۔ تحقیق سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ کیسے اضافی وزن دماغ کو متاثر کرتا ہے۔ کیمبرج سینیٹرفارایجن اینڈ نیوروسائنسس نے اس تحقیق کے دوران 20سے 87سال کی عمر والے 473 افراد کا معائنہ کیا اور ان افراد کو دو کیٹیگری موٹے اوردبلے میں تقسیم کیا گیا۔
طبی جریدے جرنل آف نیوروبیالوجی میں شائع ہونے والی تحقیق کے نتائج کے مطابق موٹے اور سمارٹ افراد کے دماغ میں سفید مواد کا حجم مختلف ہے۔ جبکہ زیادہ وزن کے حامل افراد میں اپنے ہم عمر پتلے افراد کے مقابلے میں سفید موادکم ہے۔
تحقیق ڈاکٹر لیزارونن کا کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ موٹاپا دماغ کو نقصان پہنچاتا ہے یا نہیں۔ ماہرین کاکہنا ہے کہ یہ فرق درمیانی عمر والے افراد سے لے کر بوڑھے افراد میں پایا جاتاہے۔ جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس عمر کے دوران انسانی دماغ کو زیادہ خطرہ لاحق ہوتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ موٹاپے سے دماغ کی بظاہر ساخت میں تبدیلی تو نوٹ کی گئی لیکن اس سے معلومات یاسمجھ بوجھ پر کوئی فرق محسوس نہیں ہوا ہے۔ اس لیے ایسے افراد پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ معائنہ کیاجائے کہ ڈیمنشیا جیسے امراض کیسے شروع ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق موٹاپا ایک بہت پیچدہ اور الجھا ہوا مسئلہ ہے ہم اس کے بہت سے مضر اثرات سے واقف ہیں لیکن اس سے دماغ پرکیا اثر پڑتاہے اور دماغ موٹاپے کوکیسے لیتا ہے ہم اس کو جاننے کے ابتدائی مرحلے میں ہیں۔
ریسرچر پروفیسر سڈل فاروقی کاتجزیہ ہے کہ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ دماغ میں وزن بڑھنے سے ہونے والی تبدیلی یاوزن میں کمی کرنے سے صحیح ہو سکتی ہے۔ یہ ہمارے لیے ایک نقطہ ہے کہ وزن، صحت ورزش کے انسانی دماغ اور یاداشت پرکیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
کم وبیش سبھی کومعلوم ہے کہ موٹاپے اب ایک عالمی وباء بن چکا ہے ۔ وزن میں کمی کا کوئی جادوئی حل نہیں بلکہ طرززندگی میں تبدیلی ہی سے آپ اپنی شخصیت میں جادوئی تبدیلی لاسکتے ہیں۔ ورنہ کہیں ایسا نہ ہو لوگ آپ کو موٹا موٹا کہتے موٹے دماغ والا ہی کہنا شروع کردیں۔

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان